Delhi دہلی

 اویسی نے جس مسلم کمپنی کے بربادی کی بنیاد رکھی تھی اسکی ہزاروں کروڑ کی جائیداد نیلام ہو رہی ہیں

نئی دہلی (نیوز رپورٹ : مطیع الرحمن عزیز) – اویسی صاحب کے مداح اس خبر کو سن کر بے حد خوش ہوں گے کہ ان کے قابل و جید قائد اعظم اسد اویسی صاحب نے جس مسلم کمپنی کے بربادی کی بنیاد آج سے تیرہ سال قبل یعنی 2012 میں رکھی تھی، بے شمار جدوجہد اور تگ و دو اور سازشوں کے بعد اس مسلم کمپنی کے ہزاروں کروڑ روپئے کی جائیداد اسد صاحب کی منشا اور اشارے پر جانچ ایجنسیاں اونے اونے داموں میں نیلام کر رہی ہیں، یہ صرف ایک کمپنی کے ہزاروں کروڑ روپئے مالیت کی جائیدادوں کی نیلامی نہیں ہے، بلکہ اس کمپنی کے پیچھے ایک لاکھ بہتر ہزار مسلم سرمایہ کار اور ان کے پیچھے تیس چالیس لاکھ افراد کے مستقبل کا دیوالیہ ہے۔ سن 2012 میں اسد اویسی صاحب نے ہیرا گروپ آف کمپنیز کے خلاف شک کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کرایا تھا، مگر بدقسمتی سے اویسی صاحب اپنے ہی دائر ایف آئی آر پر شکست فاش سے دو چار ہوئے تھے۔ سن 2016 میں حیدر آباد کورٹ سے فیصلہ آیا کہ ممبر پارلیمنٹ اویسی نے جن شکوک و شبہات کی بنیاد پر ہیرا گروپ کیخلاف شکایت درج کرائی تھی وہ سب بے بنیاد اور لایعنی تھی، لہذا ان کے درخواست کو مسترد اور کاالعدم قرار دیا گیا اور ہیرا گروپ کو اپنی کمپنی چلانے کی مکمل آزادی دی گئی۔ اس شکست فاش سے بوکھلائے اور اپنی بقا کے لئے ہیرا گروپ کی ترقی کو خطرہ محسوس کرنے والے اسد اویسی نے دوسرا طریقہ اپنایا، اور جعلی سرمایہ کاروں کو ہیرا گروپ میں داخل کیا، اور جانچ ایجنسیوں کو مستعد کرکے ہیرا گروپ کو فیصلہ کن انداز میں تہس نہس کرنے کا تہیہ کر لیا۔ آج وہی مسلم معیشت کا حیثیت رکھنے والی کمپنی بیک فٹ پر نظر آ رہی ہے، کیونکہ ایجنسیاں غیر قانونی طور پر سپریم کورٹ کی حکم عدولی کرتے ہوئے بغیر ٹرائل اور عدالتی سنوائی پروسیز کی شروعات کئے ہوئے ہیرا گروپ کی ہزاروں کروڑ کی جائیدادوں کو اونے پونے قیمتوں میں فروخت کر رہے ہیں، اور یہ خبر لکھی جا رہی ہے کہ اویسی نے جس مسلم معیشت سمجھی جانے والی کمپنی کی بربادی کی داستان آج سے تیرہ سال قبل یعنی سن 2012 لکھنی چاہی تھی، اس کی شروعات ہیرا گروپ کے ہزاروں کروڑ کی پراپرٹی کو چند روپیوں میں نیلام کرکے ان کے خواب کی تکمیل کی جا رہی ہے۔
عدالتی فیصلے سے بوکھلائے اویسی نے مبینہ طور پر ہیرا گروپ کو کمزور کرنے کے لیے نئے حربے اپنائے۔ رپورٹ کے مطابق، انہوں نے جعلی سرمایہ کاروں کو ہیرا گروپ میں داخل کیا تاکہ کمپنی کے خلاف شکایات کا ایک مصنوعی سلسلہ شروع کیا جا سکے۔ ان جعلی شکایات کی آڑ میں جانچ ایجنسیوں کو متحرک کیا گیا، جنہوں نے ہیرا گروپ کے خلاف سخت کارروائیاں شروع کیں۔ اسد اویسی کے موجودہ حکومت میں سیاسی اثر و رسوخ اور مقامی زمینی مافیاﺅں کے ساتھ مبینہ روابط نے اس سازش کو مزید تقویت دی۔ ہیرا گروپ کی سی ای او ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو بارہا گرفتار کیا گیا، اور کمپنی کی جائیدادوں کو منجمد کر دیا گیا، جس سے لاکھوں سرمایہ کاروں کے مالی مفادات کو شدید نقصان پہنچا۔ ہیرا گروپ کے سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے واضح طور پر ہدایت دی تھی کہ ہیرا گروپ کا مقدمہ پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کورٹ میں ٹرائل کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔ تاہم، ای ڈی نے اس حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر ٹرائل کے ہیرا گروپ کی جائیدادوں کو کم قیمتوں پر نیلام کرنا شروع کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق، ہزاروں کروڑ روپے کی مالیت کی جائیدادیں چند کروڑ روپے میں فروخت کی جا رہی ہیں، جو نہ صرف کمپنی کے سرمایہ کاروں بلکہ پورے مسلم معاشرے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
ای ڈی کی جانب سے حال ہی میں 27 جائیدادوں کو منجمد کیا گیا، جن کی تخمینی مارکیٹ ویلیو 103.4 کروڑ روپے ہے، جبکہ اس سے قبل 400 کروڑ روپے کی جائیدادوں کو بھی منجمد کیا جا چکا ہے۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نیلامی غیر قانونی ہے کیونکہ اسے پی ایم ایل اے کورٹ کے ٹرائل کے بغیر انجام دیا جا رہا ہے، جو سپریم کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ہیرا گروپ آف کمپنیز صرف ایک کاروباری ادارہ نہیں تھا بلکہ مسلم معیشت کی ایک مضبوط بنیاد سمجھا جاتا تھا۔ اس کمپنی نے نہ صرف لاکھوں سرمایہ کاروں کو مالی تحفظ فراہم کیا بلکہ غریبوں، یتیموں، بیواوں اور کمزور طبقات کے لیے سماجی خدمات بھی انجام دیں۔ رپورٹ کے مطابق، ہیرا گروپ کے ایک لاکھ بہتر ہزار سرمایہ کاروں کے پیچھے تیس سے چالیس لاکھ افراد کے مستقبل کا سوال ہے۔ ان جائیدادوں کی نیلامی سے نہ صرف سرمایہ کاروں کے مالی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ پورے مسلم معاشرے کی معاشی ترقی کو بھی دھچکا لگ رہا ہے۔ ہیرا گروپ کی سی ای او ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے اپنی رہائی کے بعد ایک پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ اسد اویسی اور ان کے ساتھیوں نے ان کے کاروبار کو تباہ کرنے کے لیے منظم سازش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف درج شکایات میں زیادہ تر شکایت کنندگان اویسی کے قریب ترین افراد ہیں، اور انہوں نے کمپنی کی جائیدادوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ نوہیرا شیخ نے یہ بھی عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے سرمایہ کاروں کو ان کا حق دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی۔

Related posts

صابو صدیق مسافر خانہ (ممبئی) میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ضلعی ذمہ داران کا تربیتی کیمپ

Paigam Madre Watan

سنہری باغ مسجد معاملہ: انڈین یونین مسلم لیگ کے رکن پارلیمان ای ٹی محمد بشیر نے چیف آرکیٹکٹ کو مکتوب کے ذریعے رائے دی

Paigam Madre Watan

وزیر اعلیٰ یاترا اسکیم کے تحت 83ویں ٹرین دوارکادھیش کے لیے روانہ، وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال الوداع کرنے پہنچے

Paigam Madre Watan

Leave a Comment