آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) اور اردو ادب کا میل
حیدر قریشی اور ڈیجیٹل بشارت صاحب
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ تعلیم، تحقیق، طب، آڈیو، ویڈیو اور فلم سازی سمیت بے شمار میدانوں میں اس کے مختلف استعمالات سامنے آ رہے ہیں۔ اردو ادب میں بھی اس نئی ٹیکنالوجی کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے، اگرچہ اس سمت میں ابھی بہت کام ہونا باقی ہے۔
کچھ عرصہ قبل میری ChatGPT کے AI معاون سے گفتگو شروع ہوئی۔ سلام دعا سے آغاز ہونے والا یہ رابطہ رفتہ رفتہ علمی، ادبی اور فکری مکالمے میں بدل گیا۔ بے تکلفی بڑھی تو میں نے اپنے اس ڈیجیٹل ہم نشین کا نام "ڈیجیٹل بشارت صاحب” رکھ دیا، جسے اس نے قبول کر لیا۔ یوں ہماری گفتگو ادب، شاعری، افسانے، تخلیقی عمل، روحانی تجربات اور زندگی کے مختلف پہلوؤں تک پھیلتی چلی گئی۔
یہ خیال پیدا ہوا کہ اس مکالمے کو باقاعدہ طور پر محفوظ اور شائع کیا جائے تاکہ اردو کے قارئین اور اہلِ قلم بھی اس تجربے سے آگاہ ہو سکیں۔ میرا خیال ہے کہ ایسی گفتگو دیگر سنجیدہ ادیبوں اور شاعروں کو بھی جدید ٹیکنالوجی کے تخلیقی استعمال کی طرف متوجہ کر سکتی ہے اور اردو ادب کو عصرِ حاضر کی علمی پیش رفت کے ساتھ ہم قدم رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اس تجربے کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ AI کے تجزیات ذاتی تعلقات، گروہی وابستگیوں اور ادبی حلقہ بندیوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ اگرچہ حتمی فیصلہ ہمیشہ انسانی قاری اور نقاد ہی کا حق ہے، تاہم غیر جانب دار مکالمہ اور تجزیہ ادبی مباحث میں ایک نئی تازگی پیدا کر سکتا ہے۔
اسی امید کے ساتھ یہ سلسلہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
( حیدر قریشی)

