Articles مضامین

تحریر قدرے طویل ہے. نہیں پڑھا ہے تو ایک دفعہ پڑھیں اور مسلم بہنوں تک ضرور پہنچائیں! 

تحریر قدرے طویل ہے. نہیں پڑھا ہے تو ایک دفعہ پڑھیں اور مسلم بہنوں تک ضرور پہنچائیں! 🙏

ارشد ہمراز
19/جولائی 2026

آج کل Ai سے بنی ایک ڈوکومنٹری گردش کررہی ہے. جس میں دکھایا جارہا ہے کہ کچھ غیر مسلم لڑکے، مسلم لڑکیوں کو کس طرح محبت کی جال میں پھنسا کر ان کی عزت اور زندگی سے کھیلتے ہیں. مسلم لڑکیوں کا غیر مسلم لڑکوں سے دوستی، تعلقات، شادی اور اس کے بعد قتل یا چھوڑ دئے جانے کے اندوہناک واقعات آئے دن ہم پڑھا کرتے ہیں. یہ سب پڑھ کر آج پھر مجھے اپنی ایک سات سال پرانی تحریر یاد آئی. اگر آپ نے نہیں پڑھا ہے تو ایک بار ضرور پڑھیں اور بطور خاص مسلم بہنوں تک بھیجیں تاکہ وہ غیروں کی خطرناک سازش کو ذرا سمجھ سکیں. یہ واقعہ سات سال پرانا ہے. آج کے مقابلے میں سوشل میڈیا اُس وقت اتنا عام نہیں تھا. اب سوچئے یہ جال کتنا اور کہاں تک پھیل چکا ہوگا.

یہاں اصلی کم بہروپ بہت______

پچھلے کئی دنوں سے یہ تحریر رقم کرنے سے صرف اس لئے میں گریز کرتا رہاکہ سوشل میڈیا کی دنیا میں تو یہ عام سی بات ہے. یوں بھی ایک مخصوص جماعت کے کچھ فرقہ پرست لیڈران ہمیشہ کچھ نہ کچھ زہر افشانی کرکے اپنی ذہنی بیماری کا ثبوت پیش کرتے رہے ہیں.
ایک سال قبل بھی نیوز پیپر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ آپ نے پڑھی ہوگی کہ مہاراشٹر میں کئی درجن مسلم لڑکیاں غیروں کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ گئی. لیکن ابھی کچھ دنوں قبل ہندی اخبار کا ایک تراشہ جب میری نگاہوں سے گزرا کہ "2021 تک اتنی مسلم بہوئیں اپنے گھر لانی ہے” تو میں اپنے قلم کو روک نہ سکا.
نہایت ہی اختصار کے ساتھ ایک آپ بیتی رقم کرنے جارہا ہوں شاید کچھ بہنوں کے دلوں میں میری یہ بات اتر جائے.

تقریباً تین مہینے قبل کی بات ہے میری ایک دوست نے کسی رانی (فرضی نام) کے پروفائل کی اسکرین شاٹ میرے پاس بھیجا اور کہا کہ
"یہ میری فیس بک فرینڈ ہے. میسنجر پر ان سے گفتگو ہوتی ہے. اس نے ہی پہلے میسج کیا تھا. لیکن ان کی کچھ باتوں سے میں ذہنی طور پر پریشان ہوں، جب بھی ان سے باتیں ہوتی ہیں صرف اکثریتی طبقہ کے نوجوانوں کی تعریفیں کرتی رہتی ہیں کہ یہ بہت اچھے ہوتے ہیں، کبھی دھوکہ نہیں دیتے، شادی کے بعد بیوی کا بہت خیال رکھتے ہیں، کبھی طلاق نہیں دیتے وغیرہ وغیرہ..
ان کی باتوں سے مجھے شک ہونے لگا ہے کہ یہ کوئی لڑکا نہ ہو. آپ ذرا پتہ کریں یہ کون ہے؟میں اسے بلاک کرنے جارہی ہوں”.
میں نے اس نام کو سرچ کیا اور فرینڈ رکویسٹ بھیجا، لیکن چار دن گزرجانے کے باوجود ایکسیپٹ نہیں ہوا، پھر میں نے اپنا نام تبدیل کیا، خوبصورت سی تصویر پروفائل پے چپکائ اور رکویسٹ بھیج دی فوراً ایکسیپٹ ہوگئی، کیونکہ اب میں ہمراز یا راشد نہیں بلکہ رخسار بن چکی تھی. پہلے سنا کرتا تھا کہ نام میں کیا رکھا ہے؟ لیکن اس دن احساس ہوا کہ نام میں بہت کچھ رکھا ہے.
رکویسٹ قبول کرتے ہی میسیج آیا، Hi اور Hello کا سلسلہ شروع ہوا، ایک دوسرے کا تعارف بھی ہوا جو جھوٹ پر مبنی رہا. ایک دن کے بعد ہی وہ اپنی اوقات پر آگئی/آگیا اور من وعن اسی طرز کی باتیں میرے ساتھ بھی اس نے شروع کیں. میں بھی بھولی پر سمجھدار لڑکی کا کردار کئی دنوں تک نبھاتا رہا اور میرا شک یقین میں بدلنے لگا. کچھ دنوں بعد اس نے اپنے دعوے پر بطورِ دلیل کے ایک مسلم لڑکی ساحرہ (فرضی نام) کا نام پیش کیا، ساتھ ہی اس کے پروفائل کی اسکرین شاٹ بھی بھیجا جس پر ایک پرکشش نام اور دو چمکتی آنکھوں کے سوا کچھ نہ تھا. اور کہا کہ "یہ مسلم لڑکی ہے لیکن اس نے ایک غیر مسلم لڑکے سے شادی کی ہے اور بہت خوش ہے. اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو خود ان سے بات کرلیں” .
میں نے رکویسٹ بھیجا فوراً ایکسیپٹ ہوگیا اور انباکس میں گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا. گفتگو کی ابتداء سے یوں محسوس ہوا کہ وہ مجھ سے بات کرنے کے لئے تیار بیٹھی تھی /بیٹھا تھا. ان کا ٹائم لائن چیک کرنے پر سوائے قرآن پاک کی آیات، احادیث اور تسبیحات کے علاوہ کچھ نہ ملا. اپنا تعارف کراتے ہوئے اس نے خود کو عالمہ بتایا اور کہاکہ میں اپنے شہر کے ایک مدرسے میں بطورِ معلمہ کے خدمات انجام دے رہی ہوں. (جب میں نے اس شہر کے اپنے ایک دوست سے مدرسے کے متعلق پوچھا تو پتہ چلا کہ اس نام کا وہاں مدرسہ تو ہے پر اس نام کی کوئی معلمہ نہیں ہے) جب میں نے ازدواجی زندگی کے تعلق سے پوچھا تو وہ بلاجھجھک وہی باتیں دہرانے لگی جس کی گردان رانی کررہی تھی.
ایک عالمہ ہوکر غیر مذہب میں شادی ایسا کیوں کیا آپ نے؟ میرے اس سوال پر اس نے پھر قصیدہ پڑھنا شروع کردیا، کچھ غیر معیاری باتیں بھی اس نے کیں جو یہاں تحریر کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا. اس نے بھی میرے بوائے فرینڈ کے بارے میں جاننا چاہا اور دوسرا دلوانے کا وعدہ بھی کیا. میرے صبر کے باندھ ٹوٹتے ٹوٹتے بچے. اس درمیان رانی برابر مجھ سے پوچھتی رہی کہ ساحرہ سے بات ہورہی ہے یا نہیں؟ بلکہ ان کے آن لائن ہونے کی انفارمیشن بھی یہی دیا کرتی.
مجھے اتنا تو یقین تھا کہ ایک عالمہ کم از کم اتنی ذلیل حرکت نہیں کرسکتی. میرے پاس ضائع کرنے کے لئے وقت نہیں تھا اس لئے میں جلد اس معمے کو حل کرنا چاہ رہا تھا. میں نے رومن کے بجائے اردو رسم الخط میں اسے میسیج کرنا شروع کیا تو اس نے بھی سلیس اردو لکھنا شروع کردیا. (یاد رہے کال نہ اِدھر سے جارہی تھی نہ ہی اُدھر سے آرہی تھی کیونکہ اگر اِدھر کسی نے اپنی شناخت چھپا رکھی تھی تو اُدھر بھی بہروپئے تھے) میں نے قرآن وحدیث کے تعلق سے سوالات کئے تو جواب ترکی بترکی آیا. میری پریشانی یہ سوچ کر بڑھتی جارہی تھی کہ خدانخواستہ کہیں یہ واقعی عالمہ نہ ہو، لیکن خدا کے فضل سے جب ہم نے پیچیدہ فقہی مسائل پر بحث شروع کی تو وہ اپنی اوقات پر آگیا. شاید ان کی ٹریننگ ابھی اتنی نہیں ہوئی تھی.
اتنے عرصے میں میرے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوچکا تھا میں نے بھی اپنے رخ سے رخسار کے نقاب کو نوچ پھینکا اور مسلم نوجوانوں کی تعریفیں شروع کی تو وہ آپے سے باہر ہوگیا اور گالم گلوچ پے اتر آیا، کچھ ہی دیر میں مجھے بلاک کرکے رفو چکر ہوگیا. میں رانی کے وال پے گیا تو اس نے بھی بلاک کرنے میں بڑی جلد بازی دکھائی.
بالآخر پتہ یہ چلا کہ یہ نہ کوئی عالمہ اور نہ ہی رانی اور ساحرہ کے لباس میں کوئی معصوم لڑکی ہے بلکہ اپنے بدصورت جسم پر بکری کی کھال چڑھائے خونخوار بھیڑیے ہیں جو اپنے مالک کے اشارے پر سازش کا جال بچھاتے ہیں اور دولت وعزت کے عوض معصوم لڑکیوں کا شکار کرتے ہیں.
ان کی ٹریننگ اتنی زبردست ہوتی ہے کہ آپ انہیں پہچان نہیں سکتے. اردو یا عربی لکھنے میں یہ آپ سے بھی زیادہ ماہر ہوسکتے ہیں. کسی ایک سے دوستی ہوجانے کے بعد ان کا ایک پورا گروپ آپ کا سایہ بن جاتا ہے. بہن یا سسٹر کہہ کر نرم لہجے میں یہ اسی وقت تک بات کرتے ہیں جب تک آپ نرم ہوں اور اسے امید ہوکہ آپ ان کا لقمہ بن سکتے ہیں. کسی غیر مذہب کی لڑکی(جو دراصل لڑکے ہوتے ہیں جیسے رانی ) سے اگر آپ کی دوستی ہوتی ہے تو وہ مسلم ناموں والی لڑکی سے آپکی دوستی کروائیں گے (جو نہ لڑکی ہوتی ہے اور نہ ہی مسلم جیسے ساحرہ)
آپ کے سامنے ایک مخصوص دھرم کے ماننے والے نوجوانوں کی تعریف بہت دلکش انداز میں کی جائے گی، محبت ودولت کے سبز باغ دکھائے جائیں گے. آپ کے بہت زیادہ کھل جانے پر نہایت دلکش پیرائے میں شادی کی پیشکش بھی کیجائے گی. بڑی محنت اور جدوجہد کے بعد بھی اگر آپ دامِ فریب میں نہ آئے تو برا بھلا کہہ کر آپ کو بلاک کردیا جائے گا.
میں مسلم بہنوں کو سوشل میڈیا کے استعمال سے بالکل منع تو نہیں کرسکتا لیکن دست بستہ اتنی گزارش ضرور کروں گا کہ آپ اچھے مضامین پڑھیں، پیاری باتیں لکھیں شئر کریں لیکن رابطہ صرف انہیں سہیلیوں سے رکھیں جنہیں آپ ذاتی طور پر جانتی ہیں. صرف فیسبک فرینڈ ہونے کی وجہ سے کسی لڑکی کو بھی نہ اپنا نمبر دیں اور نہ ہی اپنی تصویر. کیونکہ؛
یہاں الجھے الجھے روپ بہت
اصلی کم بہروپ بہت______
خدارا ان باتوں کا خاص خیال رکھیں. آپ اسلام کی شہزادی اور اپنے والدین کا غرور ہیں. سراب کو آب سمجھ کر کسی اجنبی راہ میں کبھی قدم نہ
بڑھائیں ورنہ حلق ایسی جگہ خشک ہوگا جہاں شاید پانی نہ ملے.

https://www.facebook.com/photo/?fbid=1321433370150943&set=a.100763978884561


Related posts

سوشل میڈیا اور قلم کا فتنہ

Paigam Madre Watan

ادب اورشوبز

Paigam Madre Watan

تاب ِسخن (تعارف تبصرہ)

Paigam Madre Watan