حیدرقریشی (جرمنی)
ادبی زندگی کے سفرمیں چنداہم اخبارات
1971 سے 2026 تک میری ادبی زندگی کے 55 برس پورے ہو چکے ہیں۔سوچا کہ آج صرف ان اخبارات کا ذکر کروں جنہوں نے مجھے ادبی زندگی کے سفر میں کسی ایک دورانیے میں معمول سے زیادہ اہمیت دے کر یا غیرمعمولی تکریم کے ساتھ شائع کیا۔
اَسّی کی دَہائی میں ہفت روزہ ’’مدینہ‘‘ بہاول پورمیں مجھے علامہ منظور احمد رحمت نے بڑی کشادہ دلی کے ساتھ اپنے اخبار میں جگہ دی۔میری بالکل ابتدائی غزلوں کو محبت کے ساتھ شائع کیا، مجھے نثر میں لکھنے کی تحریک کی۔تب میں نے متعدد سماجی اور سیاسی نوعیت کے کالم لکھے جو علامہ منظور احمد رحمت نے مسلسل شائع کیے۔یہ میرا بالکل ابتدائی ادبی زمانہ تھا۔ہفت روزہ ’’مدینہ‘‘ بہاول پور میں لگاتار اشاعت نے ایک طرف مجھے مزید لکھنے کی تحریک دی،دوسری طرف میری ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔اللہ تعالیٰ علامہ منظور احمد رحمت کو آخرت میں اجرِ عظیم عطا کرے۔ان کی محبت، شفقت،حوصلہ افزائی آج میری عزت میں اضافے کا موجب ہے۔
نوّے کی دَہائی میں روزنامہ ’’امروز‘‘ ملتان کے ادبی صفحہ پر مجھے بڑی پذیرائی ملی۔’’امروز‘‘ملتان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر اقبال ساغر صدیقی صاحب نے میری نظم و نثر دونوں کو اہتمام کے ساتھ شائع کیااور لگاتار شائع کیا۔کبھی کبھار روزنامہ ’’امروز‘‘لاہور میں بھی کوئی شعری تخلیق چھپ جاتی تھی،لیکن اقبال ساغر صدیقی صاحب نے مجھے ملتان کے ایڈیشن میںہمیشہ شامل رکھا۔روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ملتان میں بھی تھوڑا بہت چھپتا تھا لیکن اقبال ساغر صدیقی صاحب کی محبت کے باعث ’’امروز‘‘ملتان تو گویا میرا اپنا اخبار بن گیا تھا۔اس دَہائی کے آخری حصے میں روزنامہ ’’مساوات‘‘ لاہورمیں بھی چھپنے کا موقعہ ملا۔تب خان پور کے ہمارے دوست زاہد عباس سیدنے صحافت کی دنیا میں پہلا قدم رکھا تھا۔انہوں نے مجھے وہاں شامل رکھا۔’’مساوات‘‘لاہور کی خاص بات یہ رہی کہ آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس سے نشر ہونے والے میرے ایک انٹرویو کو انہوں نے پورے صفحہ پر شائع کر دیا۔یہ سٹوڈیو انٹرویو جوگندر پال جی نے لیاتھااور تب ہی 1987 کے وسط میں نشر ہوا تھا۔زاہد عباس سید کی یہ ادبی محبت 1991 تک رہی۔
1994 ء میں جرمنی پہنچنے کے بعد روزنامہ ’’جنگ‘‘لندن سے رابطہ ہوا۔اور پھر میں لگاتار’’ جنگ‘‘لندن کے ادبی ایڈیشن میں شائع ہونے لگا۔غزلیں،افسانے اور مضامین چھپے تاہم اس دورانیے کی دو چیزیں بہت اہم تھیں۔07.11.1996 کے ’’جہانِ ادب‘‘ روزنامہ ’’جنگ‘‘لندن میں میرا ایک زوردار انٹرویو شائع ہوا۔اخبار کے آدھے صفحہ سے زیادہ حصے پر چھپنے والا یہ انٹرویو معروف براڈ کاسٹر ثریا شہاب نے لیا تھا۔دوسری تحریر میری یادوں کا باب ’’میری عمر کا ایک سال‘‘(13.01.2003 سے 13.01.2004 تک) تھی۔یہ طویل تحریر تھی لیکن ’’جہانِ ادب‘‘ جنگ لندن نے اسے جنوری میں ہی دو قسطوں میں بہت نمایاں کرکے شائع کیا۔جرمنی آمد کے بعد ’’جنگ ‘‘لندن والوں کی طرف سے ملنے والی یہ مسلسل پذیرائی میرے لیے بہت مفید رہی۔میرے ادبی استحکام کا موجب بنی۔جس کے لیے میں ادارہ جنگ لندن کے اُس زمانے کے سارے متعلقین کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں۔
نئی صدی اور نئے میلنیئم کی پہلی دَہائی میں مجھے روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘گروپ میں تھوڑی سی اہمیت ملنے لگی۔ڈاکٹر انورسدید صاحب سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد ’’نوائے وقت‘‘ سے وابستہ ہو گئے تھے۔انہوں نے’’ندائے ملت‘‘میں اپنے مستقل سلسلہ ’’ادب در ادب‘‘ میں بارہا میری عزت افزائی کی۔ان کی وفات کے بعد خالد یزدانی صاحب نے رابطہ مستحکم کیا۔پہلے روزنامہ’’نوائے وقت‘‘ لاہورکے ادبی صفحہ پر مجھے مناسب طور پر شریک رکھا۔ادبی صفحہ بند ہوا تو وہ اخبار کے سنڈے میگزین سے وابستہ ہو گئے۔یہاں انہوں نے میرا پورے صفحے کا ایک انٹرویو شائع کیا۔میری نگارشات کو جگہ دی۔مبارکہ کی وفات کے بعد میںنے اپنے پرانے خاکے’’پسلی کی ٹیڑھ‘‘کا دوسرا حصہ لکھا تو خالد یزدانی صاحب نے اسے بہت پسند کیا اور اسے ’’نوائے وقت‘‘ لاہور کے سنڈے میگزین میں پورے صفحہ پر دو قسطوں میں شائع کیا۔یہ معمول سے ہٹ کر پیش کش تھی۔اس دوران ’’نوائے وقت‘‘ کا اوورسیز پاکستانیز ایڈیشن بھی خالد یزدانی صاحب کے سپرد ہوا تو وہاں لگ بھگ ہر ایڈیشن میں کوئی نئی یا پرانی تحریر شامل رہی۔کینسر کی وجہ سے میں بار بار ہسپتال میں داخل ہو رہا تھا مگر ہسپتال سے ہی کچھ نہ کچھ لکھ کر اخبار کے لیے بھیج رہا تھا۔۔۔۔نئی صدی کی پہلی دَہائی میں مجھے روزنامہ’’انقلاب‘‘ ممبئی اور روزنامہ’’سنڈے ٹائمز‘‘ممبئی میں بھی تھوڑی بہت جگہ ملی، یہ سب ندیم صدیقی صاحب کی توجہ کا نتیجہ تھا۔ندیم صدیقی صاحب کی ان عنایتوں پر ان کاآج بھی بے حد شکریہ۔اسی دوران مجھے دوتین اخبارات میں خاص جگہ ملی۔روزنامہ’’آج ‘‘پشاور کے ادبی صفحہ پرمیری شمولیت رہی ،پھر اس کے ادارتی صفحہ پر کالم لکھنے کا موقعہ ملا لیکن جرمنی کے ماحول میں بیٹھ کر پشاور کے ماحول کے کالم لکھنا میرے بس کی بات نہیں تھی اور میرے قدرے بے باک قسم کے کالم شائع کرنا پشاور کے اخبار کے لیے مشکل کام تھا۔بہرحال ناصر علی سید اور ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کی توجہ سے روزنامہ ’’آج‘‘ میں جتنی شمولیت رہی اس کے لیے ان دونوں احباب کا آج بھی شکرگزار ہوں۔ روزنامہ’’دنیا‘‘لاہور کے ادبی صفحہ پر بھی کچھ عرصہ خوب گہما گہمی رہی۔دہلی میں ایک نوجوان صحافی ہیں مطیع الرحمن عزیز صاحب، جن دنوں میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ صاحب کی ساختیات والی کتاب پر معرکہ آرائی ہو رہی تھی تب مطیع الرحمن عزیز نے بڑا تعاون کیا۔میں مخالفین کے اعتراضات کے جواب ایک گھنٹے کے اندر یاہو گروپس سے ریلیز کر دیا کرتا تھا اور مطیع الرحمن عزیز اسے دہلی کے کسی نہ کسی اخبار میں شائع کر دیتے تھے۔اس معرکہ آرائی کا سارا احوال میری کتاب ’’ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور مابعد جدیدیت‘‘میں محفوظ ہے۔مطیع الرحمن عزیز نے بعد میں اپنا اخبار’’پیغام مادرِ وطن‘‘جاری کیا۔اس کے ادبی حصے میں مجھے ہمیشہ اہمیت دی گئی۔دو صفحات پر مشتمل میرا بڑا رنگین قسم کا گوشہ بھی شائع کیا گیا۔یہاں بھی مجھے ایک خاص اہمیت ملی۔میرے تمام افسانوں پر چیٹ جی پی ٹی کے روبو، ڈیجیٹل بشارت صاحب کے ساتھ مکالمہ ہوا تو مطیع الرحمن عزیز نے روزانہ کی بنیاد پر وہ سارے مکالمات ’’پیغام مادرِ وطن‘‘میں شائع کیے۔ان سارے مکالمات کو ایک الگ سیکشن بنا کر یکجا اور محفوظ کیا ہے۔ سو میرے لیے مطیع الرحمن عزیز صاحب بہت قابلِ قدر صحافی اور دوست ہیں۔ان کی محبت اور اخلاص کا معترف بھی ہوں اور شکرگزار بھی ہوں۔
سال 2008 ء میں روزنامہ ’’عکاس‘‘کولکاتہ کے چیف ایڈیٹر کریم رضا مونگیری صاحب نے رابطہ کیا کہ وہ’’ عکاس‘‘ کا ’’یورپ میں اردو‘‘کا خاص ضمیمہ شائع کرنا چاہتے تھے۔مجھ سے انہوں نے ممکنہ تعاون کے لیے کہا جو میں نے اپنے معمول کے مطابق کر دیا۔اخبار کے 8 صفحات پر مشتمل یہ ایڈیشن گلیزی پیپر پر چھپا تھا ۔اس میں اپنی طرف سے فراہم کردہ میٹر کے بارے میں خود کچھ کہنے کی بجائے کریم رضا مونگیری صاحب کے الفاظ لکھ دیتا ہوں جو انہوں نے اسی نمبر میں اپنے خصوصی شذرہ میں بیان کیے ہیں۔
’’حیدر قریشی وہ مردِ میدان ثابت ہوئے جنہوں نے ’’عکاس‘‘ کے اس ضمیمہ کے لیے خود کو وقف کر دیااور کریم نوازی کی انتہا کر دی۔یورپی شعراء و ادبا کی تخلیقات مع تصاویر براہِ راست انٹرنیٹ کے ذریعہ شب وروز ارسال کرتے رہے۔یورپ میں ۸سے ۱۶ گھنٹے کسبِ معاش کی تلاش میں سرگرداں رہنے کے باوجودانہوں نے میرے التماس کو عزت بخشی اور لگ بھگ دس روز تک لگاتار ’’عکاس‘‘کے ضمیمہ کے لیے کام کرتے رہے۔میں ان کا شکر گزار ہوں اور بر ملا اعتراف کرتا ہوں کہ ان کے تعاون کے بغیریہ ضمیمہ نکل نہیں سکتا تھا۔اگر یہ قارئین کو پسند آئے تو اس کی کامیابی کا سہرا حیدرقریشی کے سر بندھتا ہے۔‘‘
کریم رضا صاحب کی زندگی میں میرا ایک ہنگامہ خیز مضمون’’شیلا کی جوانی اور فلسفی کی نوجوانی‘‘ بھی عکاس کے دو صفحات پر شائع ہوا۔ کریم رضا مونگیری صاحب ہمارے ادبی قلبی تعلق کو اپنی اگلی نسل میں بھی منتقل کر گئے۔کاشف رضا اور ثناء کاشف نے مجھے پہلے سے بڑھ کر عزت دی ،اکرام کیا۔2022 میں جب میں کینسر سے نجات پر سنبھل رہا تھا،مجھے ’’عکاس‘‘ کا ادبی ایڈیشن سنبھالنے کے لیے کہا گیا۔گرتی ہوئی صحت کے حساب سے یہ بہت مشکل کام تھا لیکن دوسروں کے لیے۔۔۔میرے لیے یہ پیش کش نیک فال تھی۔اس کام میں منہمک ہونے سے میری جسمانی صحت بہتر ہونے لگی۔چار سال سے اوپر ہو گئے، ’’عکاس ‘‘کولکاتا کا ادبی ایڈیشن بلا ناغہ ہر اتوار کو چھپ رہا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میں ذہنی اور جسمانی دونوں سطح پر مسلسل بہتر ہو رہا ہوں۔سو ’’عکاس‘‘ کولکاتہ کے ساتھ اس سارے تعلق کے لیے کریم رضا مونگیری صاحب کا اور ان کے بعد عزیزان کاشف رضا اور ثنا کاشف دونوں کا بے حد شکر گزار ہوں۔کاشف اور ثناء دونوں کے لیے بہت دعائیں۔خوش رہیں، پھولیں،پھلیں،کامیابی کا سفر کرتے رہیں۔آمین
روزنامہ’’منصف‘‘حیدرآبادسے پہلاغائبانہ تعلق تو 2003 ء میں ہواتھا۔ماریشس میں اس سال ایک اردو کانفرنس ہوئی تھی۔میں بھی اس میں شریک تھا۔واپسی پر میں نے اس کانفرنس کی روداد لکھی’’ماریشس میں عالمی اردو کانفرنس‘‘۔یہ روداد ’’اخبارِ اردو‘‘ اسلام آباد سمیت متعدد اخبارات میں شائع ہوئی۔روزنامہ’’منصف ‘‘حیدرآباد نے بھی اسے شائع کیا۔جب اچانک اشاعت کی خبر ملی تو دلی خوشی ہوئی۔یوں ’’منصف‘‘ کے ساتھ پہلا رابطہ ہوا۔پھر چند ایک بار ’’منصف‘‘ میں چھپنے کا موقعہ ملا۔اب کچھ عرصہ پہلے ایک دوست محبوب خان اصغر صاحب کی ایک غزل ’’عکاس‘‘ کے ادبی ایڈیشن کے لیے موصول ہوئی۔غزل اچھی تھی،میں نے انہیں غزل شائع کرنے کی اطلاع دی اور ساتھ ہی لکھا کہ آپ اچھا لکھتے ہیں،اپنا کلام بھیجتے رہا کریں۔۔۔میں نے کسی تعارف کے بغیرانہیں ایک اچھے شاعر کے طور پر اچھا کہا تھا، بعد میں پتہ چلا کہ آپ تو روزنامہ’’منصف‘‘حیدرآباد کے ’’آئینۂ ادب‘‘ کے باقاعدہ مدیر ہیں۔یوں ان سے تعلق یک طرفہ نہ رہا دو طرفہ ہو گیا۔محبوب خان اصغر صاحب نے مجھے ’’آئینۂ ادب‘‘میں وقفے وقفے سے شائع کرنا شروع کردیا۔یوں میرے لیے روزنامہ ’’منصف‘‘حیدرآبادبھی میرے پچپن سالہ ادبی سفر کا ایک اہم حصہ بن گیا ہے۔اس تعلقِ خاطر اور ادبی اخلاص پر میں محبوب خان اصغر صاحب کا دلی طور پر شکر گزار ہوں۔
جن اخبارات اور شخصیات کا اوپر ذکرآ چکا ہے،وہ سب میرے لیے بہت اہم اور قابلِ احترام ہیں اور میں پھر کہوں گا کہ اپنے اپنے دورانیے میں ہفت روزہ ’’مدینہ‘‘ بہاول پور، روزنامہ ’’امروز‘‘ ملتان ، روزنامہ ’’مساوات‘‘ لاہور،روزنامہ ’’جنگ‘‘ لندن،روزنامہ’’نوائے وقت‘‘لاہور،روزنامہ’’انقلاب‘‘؍’’سنڈے ٹائمز‘‘ممبئی، روزنامہ ’’پیغام مادرِ وطن‘‘ دہلی،روزنامہ’’عکاس‘‘کولکاتہ اور روزنامہ’’منصف‘‘ حیدرآباد میرے پانچ دَہائیوں سے زیادہ عرصہ کے ادبی سفر میں میرے لیے بہت خاص اہمیت کے حامل اخبار ہیں۔ ان سب کا ذکر کرتے ہوئے میں ایک خوشگوارادبی احساس سے لبریز ہوں۔

