Articles مضامین

باپ کے قرض سے شریعت کے فیصلے تک، اولاد کے صبر کی داستان : مفتی اشفاق قاضی

باپ کے قرض سے شریعت کے فیصلے تک، اولاد کے صبر کی داستان

image.png

مفتی اشفاق قاضی
وراثت کا مسئلہ جب زمین، مکان، دکان، فلیٹ یا بینک میں پڑی رقم کی تقسیم بن جائے تو بسا اوقات بھائی بھائی سے دور ہوجاتا ہے، بہنیں اپنے ہی گھر میں اجنبیت محسوس کرنے لگتی ہیں اور وہ رشتے جنہیں ایک باپ نے عمر بھر محبت سے سینچا تھا، چند جائیدادوں کی قیمت کے سامنے کمزور پڑنے لگتے ہیں؛ لیکن جب میراث کے معاملے میں اللہ کے حکم کو مقدم رکھا جائے، اپنے حق کے ساتھ دوسرے کے حق کا بھی احساس باقی رہے اور دل میں رشتوں کی حرمت زندہ ہو تو یہی وراثت ایک بکھرے ہوئے خاندان کو دوبارہ جوڑنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ میراث اللہ رب العزت کا مقرر کردہ نظام ہے، قرآن نے اولاد کے حصوں کا ذکر کرتے ہوئے واضح فرمایا:
”یُوصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ” دنیا کے بہت سے معاملات میں انسان کو مشورے اور باہمی رضامندی کی گنجائش دی گئی ہے، لیکن میراث کے حصے اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائے ہیں، افسوس یہ ہے کہ ہم نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے معاملے میں تو بہت محتاط رہتے ہیں، مگر جب میراث کی تقسیم کا وقت آتا ہے تو کبھی دنیا کی محبت، کبھی خاندانی مصلحت اور کبھی قدیم رسم و رواج شریعت کے واضح حکم پر غالب آجاتے ہیں، کہیں بیٹی سے کہا جاتا ہے کہ تمہیں شادی کے وقت جہیز دے دیا گیا تھا، اب تمہارا کوئی حصہ نہیں؛ کہیں بہن اپنے ہی والد کی چھوڑی ہوئی جائیداد میں حق مانگتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتی ہے؛ کہیں ماں کا حصہ نظرانداز کردیا جاتا ہے، ایسے ماحول میں ۱۴؍ اکتوبر ۲۰۲۱ء، بروز جمعرات، ظہر کی نماز کے بعد دارالافتاء والارشاد، جامع مسجد بمبئی میں ہونے والی ایک مجلس صرف تقسیم وراثت کی مجلس نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسے خاندان کے دلوں کو قریب لانے کی کوشش تھی جس کے سامنے چھ برس سے ایک پیچیدہ معاملہ کھڑا تھا، بمبئی کی ایک معروف شخصیت کا انتقال تقریباً پانچ چھ سال قبل ہوا تھا، مرحوم کی دو بیویاں تھیں؛ پہلی بیوی سے چھ اور دوسری سے چار اولادیں، یوں کل دس بچے تھے، بیٹیاں اپنی اپنی ازدواجی زندگی میں داخل ہوچکی تھیں اور اس روز اپنے شوہروں کے ساتھ بطورِ محرم مجلس میں آئی تھیں، مرحوم کے ترکے میں رہائشی مکان، زمینیں، چار پانچ فلیٹس، کمپنیوں کے استعمال میں آنے والے تقریباً تین دفاتر اور دوسری ملکیتوں کے ساتھ دو کمپنیاں بھی تھیں، لیکن اتنی جائیداد اور کاروبار موجود ہونے کے باوجود چھ برس سے باقاعدہ تقسیم کا معاملہ طے نہ ہوسکا تھا، وجہ صرف یہ نہ تھی کہ کس کو کیا ملے؛ اصل مسئلہ یہ بھی تھا کہ مرحوم کے ذمے تقریباً ساڑھے چار سے پانچ کروڑ روپے کا قرض بھی تھا، مرحوم کے بڑے بیٹے نے سب بھائی بہنوں کے سامنے نہایت وضاحت سے قرض کی تفصیلات رکھی کہ کمپنی کے معاملات میں بعض لوگوں کی رقوم، آن اکاؤنٹ سرمایہ کاری، سرکاری ٹیکسوں سے متعلق واجبات اور کمپنی کے ڈپازٹ وغیرہ شامل تھے، یوں ایک طرف ترکہ تھا، دوسری طرف کروڑوں کا قرض؛ ایک طرف بہنوں کا شرعی حق تھا، دوسری طرف بھائیوں کے سامنے والد کے قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری، اور تیسری طرف وہ کاروبار تھا جسے مرحوم نے اپنی محنت سے قائم کیا تھا اور جس سے کئی لوگوں کے روزگار وابستہ تھے، مجلس میں معاملے کو جذبات کے بجائے حقیقت کی زمین پر لانے کے لیے ملکیتوں کی ایک ایک تفصیلات سامنے رکھی گئیں، تقریباً نو بڑی ملکیتوں کا جائزہ لیا گیا؛ دو کمپنیاں اور ان سے متعلق جگہیں، زمینیں، آبائی رہائشی مکان، چار پانچ فلیٹس اور کمپنیوں کے زیرِ استعمال تقریباً تین دفاتر، ہر ملکیت کی قیمت باہمی گفتگو اور اتفاقِ رائے سے طے کی جاتی رہی، بعض ملکیتوں کی قیمت پر گفتگو ہوئی، کسی نے اپنی رائے دی، کسی نے دوسری قیمت تجویز کی اور بالآخر سب کی رضامندی سے ایک قیمت مقرر ہوتی گئی، رہائش کے اعتبار سے دونوں بیویوں کے بچے الگ الگ ملکیتوں میں مقیم یا ان کے استعمال میں تھے، جبکہ شادی شدہ بہنیں عملاً  اپنے والد کی چھوڑی ہوئی جائیداد سے کچھ حاصل نہیں کرپائی تھیں، اسی دوران ایک بھائی نے والد مرحوم کی طرف سے تیار کیا ہوا ایک کاغذ پیش کیا، جسے ابتدا میں وصیت یا ول ڈیڈ سمجھا جارہا تھا، لیکن غور سے معلوم ہوا کہ وہ دراصل پارٹنرشپ سے متعلق ادھورا دستاویز تھی، جسکا نہ رجسٹریشن ہوا تھا اور نہ ہی گواہان کی تفصیلات اور دستخط اس پر تھے، اس دستاویز میں مرحوم نے مختلف کمپنیوں میں اپنے مختلف بیٹوں کو شریک بنایا تھا، چونکہ صرف کاغذ پر نام لکھ دینے سے شرعی ہبہ مکمل نہیں ہوجاتا اور عملی طور پر ملکیت منتقل کرنے کی شرائط پوری نہیں ہوئی تھیں، اس لیے اس دستاویز کو شرعی تقسیم کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا تھا،بڑے بیٹے نے اخراجات اور متعلقہ مالی معاملات کی تفصیلات بھی پیش کیں اور مجلس میں یہ بات واضح رکھی گئی کہ فیصلہ نہ کسی پر ظلم کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور نہ کسی پر جبر کے ذریعے، بلکہ شرعی اصول، انصاف اور باہمی رضامندی کے ساتھ ہر ایک کا حق متعین ہونا چاہیے، اس مقصد کے تحت چار صورتیں زیرِ غور آئیں، پہلی صورت یہ تھی کہ کمپنی کی موجودہ مارکیٹ قیمت طے کرلی جائے، اس کے ذمے واجب قرض اور تمام مالی ذمہ داریاں نکالنے کے بعد جو مالیت بچے، اسے شرعی حصوں کے مطابق وارثوں میں تقسیم کردیا جائے؛ یوں کمپنی کے آئندہ نفع یا نقصان کا معاملہ ان لوگوں کے ساتھ رہے جو اسے آگے چلائیں گے، دوسری صورت یہ تھی کہ کمپنی بھائیوں کے پاس رہنے دی جائے اور بہنوں کے لیے ان کے حصے کے عوض ایک متعین رقم طے کردی جائے، مثلاً ہر بہن کے لیے پچاس پچاس لاکھ روپے، اور اس رقم کی ادائیگی کے لیے دو تین برس کی مہلت دی جائے، تیسری صورت یہ تھی کہ تمام جائیدادوں کی قیمت متعین کرکے شرعی تناسب سے جائیدادیں تقسیم کردیں جائیں ،دونوں ماؤں کی موجودگی میں ان کا مجموعی حصہ ایک آٹھواں، یعنی ۵ء۱۲فیصد، بنتا تھا اور دونوں کے درمیان برابر تقسیم ہونا تھا، جب کہ باقی ۵ء۸۷ مال اولاد میں لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ کے اصول کے مطابق تقسیم ہوتا؛ یعنی ایک بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر، چوتھی صورت یہ سامنے آئی کہ کمپنی چلانے والے بھائیوں کو مضاربت کی بنیاد پر کام کرنے دیا جائے، انہیں ان کی محنت کا متعین حصہ ملے اور باقی بہن بھائی اپنے حصوں کے مطابق شریک رہیں، یہ فیصلہ چند لمحوں میں نہیں ہوسکتا تھا، تقریباً چار پانچ گھنٹے اسی غوروفکر میں گزر گئے، کبھی سب کے سامنے گفتگو ہوتی، کبھی کسی بہن کو اس کے شوہر کے ساتھ الگ بلاکر اس کی رائے پوچھی گئی، کبھی دوسری بہن سے اس کے دل کی بات معلوم کی گئی، یہ صرف جائیداد کی قیمت لگانے کا عمل نہیں تھا بلکہ ہر قیمت کے پیچھے ایک رشتہ تھا، ہر فیصلے کے پیچھے ایک باپ کی یاد تھی اور ہر شرعی حصے کے ساتھ ایک خاندان کا مستقبل وابستہ تھا اور پھر اس مجلس کا وہ مرحلہ آیا جس نے پورے معاملے کی سمت بدل دی، واضح رہے یہ ایک دیندار گھرانہ تھا اور ہر دل میں تین باتیں بیک وقت موجود تھیں: پہلی یہ کہ میراث میں کسی کا حق ضائعنہ ہو، دوسری یہ کہ والد مرحوم کے ذمے جو کروڑوں روپے کا قرض ہے اسے ادا کرنے کی ذمہ داری پوری ہو اور تیسری یہ کہ وہ کمپنی جسے مرحوم نے عمر بھر کی محنت سے قائم کیا، جس کے لائسنس اور کاروباری حیثیت کو دوبارہ حاصل کرنا آسان نہ تھا اور جس سے کئی لوگوں کے گھر وابستہ تھے، وہ اس وراثتی تنازع کی نذر نہ ہوجائے، یہی تینوں فکر اس مجلس کو عام وراثتی جھگڑے سے مختلف بنارہی تھیں ،اگر بہنیں صرف اپنا حق دیکھتیں تو ان کا مطالبہ بجا تھا، اگر بھائی صرف قرض کا بوجھ دیکھتے تو ان کی مشکل بھی اپنی جگہ تھی اور اگر صرف کمپنی بچانے کی فکر ہوتی تو کسی دوسرے کے حق کو نظرانداز کرنے کا اندیشہ تھا؛ لیکن یہاں کوشش یہ تھی کہ کسی کا حق مارے بغیر ایسا عادلانہ راستہ اختیار کیا جائے جس سے قرض بھی ادا ہو، کاروبار بھی چل سکے اور بہنوں کو ان کا حق بھی مل جائے، آخرکار کئی گھنٹوں کی گفتگو، باہم مشاورت اور الگ الگ طور پر بہنوں کی آراء معلوم کرنے کے بعد وہ حسین لمحہ آیا ، تمام وارثین نے باہمی اتفاق سے ایک رقم پر رضامندی ظاہر کردی، رقم کی تفصیل بیان کرنا مناسب نہیں، کیونکہ وہ ایک باہمی اور امانتی معاملہ تھا، لیکن بہنوں کا طرزِ عمل اس مجلس کی سب سے روشن یاد بن گیا، انہوں نے بھائیوں سے کہا کہ آپ کمپنی چلائیں، والد کا قرض ادا کریں اور ہماری طے شدہ رقم ہمیں دو تین برس کے اندر آہستہ آہستہ ادا کردیں، یہ صرف رقم پر رضامندی نہیں تھی؛ یہ اپنے بھائیوں پر اعتماد، والد کی یاد سے وفاداری اور خاندان کو ٹوٹنے سے بچانے کا ایک خاموش مگر غیر معمولی فیصلہ تھا، جن بہنوں نے چھ برس تک اپنے والد کی میراث میں عملاً کچھ نہیں پایا تھا، وہ چاہتیں تو اپنے شرعی حق پر اصرار کرسکتی تھیں، لیکن انہوں نے رضامندی اور ایثار کا راستہ اختیار کیا،دوسری طرف بھائیوں کے لیے بھی یہ لمحہ آسان نہ تھا؛ والد کے قرض کا بوجھ، کمپنی کی ذمہ داری اور بہنوں کا حق، سب کچھ ایک ساتھ ان کے سامنے تھا، مگر جب بہنوں نے اپنے دل کشادہ کیے تو بھائیوں کے کندھوں کا بوجھ بھی ہلکا ہوگیا اور آنکھیں نم ہوگئیں، اللہ کے فضل و کرم سے چھ برس سے الجھا ہوا معاملہ اسی مجلس میں عافیت کے ساتھ طے ہوگیا،نہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا، نہ تھانے اور کچہری کے چکر لگے، نہ رشتے ٹوٹے، نہ بھائی بہن ایک دوسرے سے دور ہوئے، بہنیں اپنا معاملہ طے کرکے صرف مال نہیں بلکہ اپنے بھائیوں کی دعائیں لے کر اٹھیں، بھائی صرف ایک فیصلہ لے کر نہیں بلکہ اپنی بہنوں کے ایثار کا قرض لے کر روانہ ہوئے اور دونوں ماؤں کے دلوں کو بھی اطمینان قلب حاصل ہوا، اگر اللہ کے حکم کو سامنے رکھ کر، اپنے حق کے ساتھ دوسرے کے حق کا احترام کرتے ہوئے، دل میں خوفِ خدا اور رشتوں کی محبت باقی رکھتے ہوئے میراث تقسیم کی جائے تو یہی میراث گھر کو جوڑ سکتی ہے، مال آخرکار انسان کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے، جائیدادیں رہ جاتی ہیں، کاروبار بدل جاتے ہیں، لیکن ایک بہن کا اپنے بھائی کے لیے دل کشادہ کرنا، ایک بھائی کا اپنی بہن کا حق تسلیم کرنا اور ایک خاندان کا عدالت کی دہلیز تک پہنچنے سے پہلے اپنے انصاف کا راستہ تلاش کرلینا وہ دولت ہے جس کی کوئی قیمت نہیں لگائی جاسکتی، اللہ تعالیٰ اس خاندان کے درمیان قائم محبت، اعتماد اور ایثار کو ہمیشہ سلامت رکھے، مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے قرضوں کی ادائیگی کی آسانی کے لیے اسباب مہیا فرمائے اور تمام ورثاء کو اپنے اپنے شرعی حقوق ادا کرنے اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

Related posts

اردو کا تحفظ کیوں اور کیسے کیا جائے؟

Paigam Madre Watan

کیا قرآن مجید صرف مسلمانوں کی مذہبی کتاب ہے ؟

Paigam Madre Watan

شکرانے کا دن

Paigam Madre Watan