Delhi دہلی

اسد اویسی برقع پوش خاتون کو جیل میں زد و کوب کراکے

مسلم معیشت کو برباد کر کے وزیر اعظم بنانے کا دعوی کرتے ہیں

نئی دہلی (رپورٹ : مطیع الرحمن عزیز) برقع پوش خاتون کے گھر کی فون گھنٹی بجتی ہے اور سامنے سے بڑے کرخت انداز میں دھمکی آمیز لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ تم اسد صاحب کے شرائط کو منظور کر لو، ورنہ انجام بہت برا ہو گا، تم نہیں جانتے کہ تمہاری ہستی دنیا میں ناپید ہوجائے گی، تم اپنی حیثیت کے برابر کے لوگوں سے الجھنا، اگر تم اسد صاحب سے الجھو گی تو بربادی تمہارا مقدر ہو گی۔ ابھی ٹیلی فون والے واقعے کو زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ ای میل موصول ہوتا ہے جس میں لکھا جاتا ہے کہ ”تم اپنے دفاتر حیدر آباد سے منتقل کر کے کسی دوسرے شہر چلی جاﺅ، تمہیں نہیں معلوم کہ ہم تمہاری کیا حالت بنائیں گے، شکر کرو کہ اس معاملے میں اکبر بابا شامل نہیں ہیں، ورنہ تمہارے دفتروں کے نیچے تمہاری قبریں بنا دیتے“۔ اس طرح کے نت نئے حربے حیدر آباد میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ جو پیشے سے تاجرہ اور برقع پوش خاتون ہیں ملتے رہے، یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ غنڈوں کی بڑی جماعت ہمیشہ اس برقع پوش خاتون ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے گھر اور دفاتر کے گرد بھیج کر کارکنان اور کمپنی اہلکاروں کو ڈرانے کی کوششیں چلتی رہیں، یہ واقعات 2008سے شروع ہوئے اور تا دم تحریر الگ الگ شکل میں جاری ہیں۔ ایک طرف اسد اویسی عوامی کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے جھوٹا بیان دیتے ہیں کہ ایک دن برقع پوش خاتون ہندستان کی وزیر اعظم بنے گی، لیکن دوسری جانب ایک برقع پوش خاتون کو لگ بھگ بیسیوں سال سے زدوکوب اور ٹارچر کے دور سے نا صرف گزارا ہے بلکہ اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج کر اس کے عزم و حوصلے تو توڑنے اور اس کی مسلم معیشت سمجھی جانے والی تجارت کو ملیا میٹ کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہوا ہے۔
برقع پوش خاتون ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے خلاف چار سال تک مسلسل دھمکیوں اور ہراسانیوں کا سلسلہ جاری رہا، جس کے بعد 2012میں اسد اویسی نے اسی برقع پوش خاتون اور اسکی تجارت کے خلاف مقدمہ درج کراکے بہت سخت جانچ پڑتال کے دور سے گزارتے ہیں، یہ مقدمہ بھی چار سال بہت اذیت ناک جانچ پڑتال سے گزارا جاتا ہے، آخر کار برقع پوش خاتون کو وزیر اعظم بنانے کا ڈھکوسلا رچنے والے اسد اویسی 2016 میں شکست فاش سے دو چار ہو جاتے ہیں، قربان جائیے نام نہاد قائد اس اویسی پر کہ اس نے برقع پوش خاتون ڈاکٹر نوہیرا شیخ سے شکست کھانے کے بعد بھی سکون سے نا بیٹھنے کا تہیہ کر رکھا ہے، 2016کے اپنے ہی مقدمے میں ذلت آمیز شکست سے دو چارہونے کے بعد ڈاکٹرنوہیرا شیخ کیخلاف مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے اپنی پوری آئی ٹی سیل لگا رکھی ہے، اور اپنے رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے 2018 میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا، جیل میں سختی برپا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، لیکن ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے ہمت نا ہاری اور اپنی مہمات کو جاری رکھنے کا وعدہ دہراتی رہیں، اور اسد اویسی جیسے ڈھکوسلے باز بھی پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی بربادی کی داستان رقم کرنے کی خواہش رکھنے والے اسد اویسی نے جیلوں میں پیغام بھیجے اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے سامنے شرطیں رکھیں۔ جن میں ایک یہ تھا کہ اپنے سود سے پاک تجارت کو لے کر حیدر آباد سے کسی دوسرے شہر چلی جائیں، اسد اویسی نے دوسری شرط یہ رکھی کہ اپنا میڈیکل کالج بنانے کا جنون ختم کردیا جائے اور اپنی سیاسی پارٹی آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی کی منسوخی کا اعلان کر دیا جائے۔
برقع پوش خاتون کو ملک کی وزیر اعظم بنانے کی کھوکھلی تقریر کرتے ہوئے اسد اویسی کو ذرہ برابر بھی شرم اور خوف خدا نا آیا، اور آخر کار سود کے کاروبار سے اپنے جہنم نما پیٹ بھرنے والے کو بھلا کیا رحم کیا آئے گا جس پر اللہ اور اس کے رسول کے فرامین کے مطابق رب کائنات کا دشمن اور باغی ہونے کا مہر ثبت ہو چکا ہے، یہودی طاقت کو بڑھاوا دینے والے سودی ایجنٹ کو ملک کے مسلمانوں کی ریڈھ کی ہڈی سمجھی جانے والی برقع پوش خاتون ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی سود سے پاک تجارت کی بربادی سے بھلا کیا واسطہ ہو سکتا ہے، ایک برقع پوش خاتون سے دہشت زدہ اسد اویسی اپنی دشمنی میں اس قدرگر جائے گا کہ خواب وخیالوں یہاں تک کہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا وجود اتنا خوفزدہ کر دے گا کہ ایک جانب برقع پوش خاتون کو قائد کے نامرد حضرات دھمکیاں دیتے ہیں، دوسری طرف اس پر مقدمہ کرکے شکست فاش سے دوچار ہوتے ہیں اور جب کوئی چارہ نہیں چلتا تو پوری امت کو داﺅں پر لگا کر اس کے خلاف ہر پروپیگنڈہ اور افواہ کھڑا کر کے اپنی آئی ٹی سی کے لوگوں کو کھلے سانڈ کی طرح دندناتے پھرتے رہنے اور ملک میں نفرت کا بازار گرم کرنے کیلئے چھوڑ دیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اسد اویسی کی کھوکھلی تقریر اور بیان بازی چلنے نہیں پائے گی، بلکہ برقع پوش خواتین سے نفرت اور ان کے خلاف سازشوں کے بازار گرم کرنے کی داستان عنقریب منظر عام پر آئے گی، کیونکہ ہر غلط کار کا مقدر بربادی اور شکست ہی ہوا کرتا ہے۔

Related posts

Investors protest against the Enforcement Directorate’s sale of Heera Group properties at low prices

Paigam Madre Watan

AIMEP is committed to the advancement, revitalization, and enrichment of the Urdu language through its unwavering pursuit of promotion, renewal, and development: Aalima Dr. Nowhera Sheikh

Paigam Madre Watan

عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ سے منسلکہ اداروں کا کلینڈر 2024

Paigam Madre Watan

Leave a Comment