چنار بک فیسٹیول میں قومی اردو کونسل سے شائع ہونے والی کتاب ’میرتقی میر کی غزلیہ شاعری کا غنائی پہلو‘
کا اجرا اور ’ڈیجیٹل عہد میں اردو کا مستقبل‘ کے عنوان سے مذاکرے کا انعقاد
سری نگر/دہلی: چنار بک فیسٹیول 2026 کے چوتھے دن بھی میلے میں شائقین کتب کی بڑی تعداد موجود رہی اور مختلف ادبی اور ثقافتی تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔ قومی اردو کونسل سے شائع ہونے والی پروفیسر شفق سوپوری کی منفرد کتاب’میرتقی میر کی غزلیہ شاعری کا غنائی پہلو‘ کی تقریب اجرا و مذاکرے کا انعقاد بھی عمل میں آیا۔ اس تقریب میں پروفیسر احمد محفوظ(ممتاز اردو اسکالر، شاعر و ناقد، نئی دہلی)، صاحب کتاب پروفیسر شفق سوپوری (ممتاز شاعر، ماہر تعلیم، افسانہ نگار و نقاد)، پروفیسر شہاب عنایت ملک (ماہر تعلیم، صدر شعبۂ اردو، یونیورسٹی آف جموں)، پروفیسر محمد الطاف انجم (اردو اسکالر ڈائرکٹر سینٹر فار ڈسٹینس اینڈ آنلائن ایجوکیشن، یونیورسٹی آف کشمیر) نے بطور مقرر اور جناب عمر فرحت (مدیر رسالہ تفہیم) نے بطور موڈریٹر شرکت کی۔ مقررین نے میر کی شاعری کے غنائی پہلو پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کتاب کو میریات کے باب میں ایک اہم اضافہ قرار دیا۔ پروفیسر شہاب عنایت ملک نے مصنف اور کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے میر کی شاعری کی خوبیوں پر روشنی ڈالی اور پروفیسر محمد الطاف انجم نے بھی میر کی شاعری کے اس تکنیکی پہلو کو اہم قرار دیا۔ پروفیسر احمد محفوظ نے کتاب تصنیف کرنے کی ضرورت اور اس کی اہمیت پر نہایت قیمتی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے میر کی غزلوں میں موجود غنائی پہلوو?ں کو مثالوں سے واضح کرتے ہوئے شاعری میں عروض و آہنگ، وزن، بحر اور موسیقی کے رشتوں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے مصنف کو اس بات پر مبارکباد پیش کی کہ کلام میر کا ایک نیا زاویہ کتاب میں پیش کیا گیا ہے۔ صاحب کتاب پروفیسر شفق سوپوری نے کتاب تصنیف کرنے کے محرکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب قومی اردو کونسل کی جانب سے 2024میں منعقد ہونے والے میر سمینار کا نتیجہ ہے، جس میں پیش کیے گئے مقالے کی روشنی میں ڈاکٹر شمس اقبال اورپروفیسر احمد محفوظ کی ترغیب پر انھوں نے اسے باضابطہ ایک کتاب کی شکل عطا کرنے کا عزم کیا اور بہت کم وقت میں یہ کتاب منظرعام پر آگئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ میر کی شاعری کا یہ پہلو اس اعتبار سے اہم ہے کیونکہ میر کے اشعار کی روانی و نغمگی ہر کسی کو متاثر کرتی ہے۔
اس سے قبل ’ڈیجیٹل عہد میں اردو کا مستقبل‘ کے عنوان سے ایک مذاکرے کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں پروفیسر محمد زاہدالحق (ڈائرکٹر، خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ) اور جناب شاہد شفیع ایتو (ماہرتعلیم) نے بطور پینلسٹ اور جناب نذیر گنائی (آرٹسٹ اور ہیلتھ رپورٹنگ صحافی) نے بطور موڈریٹر شرکت کی۔ اردو کے مستقبل اور نئی تکنیکی تبدیلیوں کے حوالیسے دونوں مہمان مقررین نے گراں قدر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اردو کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے قریب کرنے کا مشورہ دیا اور ا س کی اہمیت و افادیت پر بھی روشنی ڈالی۔
پروفیسر محمد زاہد الحق نے خدا بخش اورینٹل لائبریری کے قیام اور موجودہ عہد میں مخطوطات کو محفوظ رکھنے اور عوام کے لیے قابل استفادہ بنانے کی تراکیب پر اظہار خیال کیا۔ انھوں نے ’کتاب الحشائش‘ اور ’کتاب التصریف‘ جیسی گراں قدر ہزار سالہ قدیم تصانیف کے مخطوطات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ان جیسے ہزاروں مخطوطات کو کیمکلائزیشن کے ذریعے محفوظ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ جلد ہی خدا بخش اورینٹل لائبریری کے مخطوطات سے عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے روشناس کرایا جائے گا۔
آج کے دوسرے مہمان جناب شاہد شفیع ایتو نے اردو اور ڈیجیٹل عہد کے موضوع پر کئی نکات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عملی طور پر کی جانے والی کاوشوں کا ذکر کیا۔ اس ضمن میں انھوں نے جنوبی کشمیر کے خطے بطور خاص اقبال لائبریری میں ڈیجیٹل تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریڈنگ روم ایک لائبریری کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے اور اس میں بچوں کے استفادے کے لیے تمام نئے وسائل اختیار کیے جارہے ہیں۔
اس مذاکرے میں موجود معروف صحافی جناب اشرف بستوی اور ڈاکٹر عبدالحی نے ڈیجیٹل عہد اور اردو کے حوالے سے اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں گراں قدر خیالات کا اظہار کیا۔
قابل ذکر ہے کہ دونوں مذاکروں میں طلبہ و طالبات اور اسکالر کی بڑی تعداد موجود رہی جن میں متعدد طلبا نے کئی اہم سوالات بھی کیے جن کا مہمان مقررین نے تشفی بخش جواب دیتے ہوئے چنار بک فیسٹیول کے انعقاد پر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا کو مبارکباد پیش کی جنھوں نے ایسا خوبصورت پلیٹ فارم مہیا کیا۔


