Blog

”آل انڈیا مجلس اتحاد المجرمین“ طنزیہ نعرہ یا انتخابی حلف ناموں کا تلخ آئینہ؟

”آل انڈیا مجلس اتحاد المجرمین“ طنزیہ نعرہ یا انتخابی حلف ناموں کا تلخ آئینہ؟

تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز

حیدرآباد سے دہلی اور بہار تک پھیلتی ہوئی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کی سیاست ایک مرتبہ پھر سوالات کے گھیرے میں ہے۔ تازہ معاملہ تلنگانہ کے MLC مرزا رحمت بیگ کا ہے، جنہیں 29 اگست 2026 کو پارٹی نے فوری طور پر خارج کرنے کا اعلان کیا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق پارٹی نے اخراج کی مخصوص وجہ واضح نہیں کی۔ لیکن مرزا رحمت بیگ کا معاملہ اپنی جگہ، اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے: کیا ہندوستانی سیاست میں “جرائم کے مقدمات کا سامنا کرنے والے امیدوار” اب سیاسی جماعتوں کے لیے کوئی سنجیدہ مسئلہ نہیں رہے؟ اور اگر یہ مسئلہ ہے تو پھر AIMIM سمیت تمام جماعتوں سے یہ سوال کیوں نہ کیا جائے کہ فوجداری مقدمات والے افراد کو انتخابی سیاست میں جگہ دینے کا معیار کیا ہے؟ یہیں سے وہ طنزیہ سیاسی جملہ جنم لیتا ہے جسے مخالفین کبھی کبھی “آل انڈیا مجلس اتحاد المجرمین” کہتے ہیں۔ یہ نام کسی سرکاری یا قانونی حیثیت کا حامل نہیں، بلکہ ایک سیاسی طنز ہے۔ تاہم اس طنز کے پیچھے موجود اعداد و شمار کو نظر انداز کرنا بھی آسان نہیں۔
سب سے پہلے قانون کی لکیر واضح کردی جائے، یہ مضمون کسی شخص کو صرف FIR، پولیس کیس یا زیرِ سماعت مقدمے کی بنیاد پر “مجرم” قرار نہیں دیتا۔ مقدمہ درج ہونا جرم ثابت ہونا نہیں۔ الزام عائد ہونا سزا ہونا نہیں۔ انتخابی حلف نامے میں مقدمہ ظاہر ہونا عدالتی سزا کا ثبوت نہیں۔ اسی طرح اگر کسی عدالت نے کسی مقدمے میں کسی شخص کو بری کیا ہے تو اسے بھی رپورٹ میں واضح طور پر بری ہی لکھا جانا چاہیے۔ لہٰذا یہاں زیرِ بحث ”مجرمانہ ریکارڈ“ سے مراد امیدواروں کے اپنے انتخابی حلف ناموں میں ظاہر کیے گئے فوجداری مقدمات ہیں۔ یہ نمایاں فرق سیاسی بحث کو الزام تراشی سے نکال کر دستاویزی تحقیق کے دائرے میں لے آتی ہے۔ بہار 2025: AIMIM کے پانچ میں پانچ پر مقدمات، یہاں AIMIM کے ناقدین کے لیے سب سے مضبوط حوالہ کسی سیاسی تقریر کا نہیں بلکہ جمہوری اصلاحات کے لیے انجمن کا تجزیہ ہے۔
جمہوری اصلاحات کے لیے انجمن کے مطابق بہار اسمبلی انتخابات 2025 میں AIMIM کے پانچوں کامیاب امیدواروں نے اپنے انتخابی حلف ناموں میں فوجداری مقدمات ظاہر کیے۔ یعنی : 5 میں سے 5 — 100 فیصداور ان پانچ میں سے : 4 — یعنی 80 فیصد نے سنگین فوجداری مقدمات بھی ظاہر کیے۔ یہ عدد سیاسی جماعت کے مخالفین کو طنز کرنے کا موقع ضرور دیتا ہے۔ لیکن ذمہ دار ی کا تقاضا یہی ہے کہ اسے یوں لکھا جائے: ”AIMIM کے پانچوں کامیاب امیدواروں نے انتخابی حلف ناموں میں فوجداری مقدمات ظاہر کیے تھے، جبکہ چار نے سنگین نوعیت کے مقدمات بھی ظاہر کیے تھے“۔ اس کے بعد فیصلہ عوام اور عدالتوں پر چھوڑ دیا جائے۔ یہ صرف AIMIM کا مسئلہ نہیں— مگر سوال AIMIM سے بھی ہوگا، AIMIM کے دفاع میں یہ کہنا درست ہوگا کہ ہندوستانی سیاست میں فوجداری مقدمات کا مسئلہ صرف ایک جماعت تک محدود نہیں۔جمہوری اصلاحات کے لیے انجمن کے اسی 2025 بہار تجزیے کے مطابق ریاست کے 243 کامیاب امیدواروں میں سے 130 یعنی 53 فیصد نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات ظاہر کیے، جبکہ 102 یعنی 42 فیصد نے سنگین فوجداری مقدمات ظاہر کیے۔
BJP، RJD، JD(U)، LJP، Congress اور دیگر جماعتوں کے کامیاب امیدواروں میں بھی ایسے افراد موجود تھے جنہوں نے مقدمات ظاہر کیے۔ لہٰذا اگر AIMIM سے سوال کیا جائے تو یہی سوال: BJP سے بھی، RJD سے بھی، Congress سے بھی، اور ہر دوسری جماعت سے بھی پوچھا جانا چاہیے۔ لیکن اس عمومی مسئلے کا مطلب یہ نہیں کہ AIMIM کے ریکارڈ پر سوال نہ کیا جائے۔ AIMIM کے لیے اصل مشکل سوال: امیدوار کا انتخاب کیوں؟ جمہوری اصلاحات کے لیے انجمن کی ایک اور رپورٹ میں بہار 2025 کے امیدواروں سے متعلق سیاسی جماعتوں کے Format C7 میں ان وجوہات کا جائزہ لیا گیا جو فوجداری مقدمات رکھنے والے امیدواروں کے انتخاب کے لیے دی گئیں۔ اسی ریکارڈ میں AIMIM کے امیدوار محمد کائفی شمشیر کے حوالے سے 21 مقدمات اور 12 سنگین IPC/BNS counts ظاہر کیے گئے، جبکہ ان کے انتخاب کی وجوہات میں پارٹی سے وابستگی، فعالیت اور سماجی کام جیسے نکات درج کیے گئے۔
یہاں اصل سیاسی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیاسی مقبولیت یا انتخابی کامیابی کسی جماعت کے لیے امیدوار کے فوجداری مقدمات سے زیادہ اہم معیار بن جاتی ہے؟ اگر جواب ”ہاں“ ہے تو پھر ہر جماعت کو یہ پالیسی کھل کر عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔ اور اگر جواب ”نہیں“ ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ایسے امیدواروں کے انتخاب کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ سوال صرف مخالفین کا نہیں، AIMIM صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی بھی اس بحث سے باہر نہیں رہ سکتے۔ ان کے 2024 لوک سبھا انتخابی حلف نامے میں پانچ فوجداری مقدمات ظاہر کیے گئے تھے۔ یہ بات انتخابی حلف نامے کے ریکارڈ کی بنیاد پر ہے، نہ کہ کسی عدالت کی جانب سے پانچ جرائم ثابت ہونے کا دعویٰ۔ یہ فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ لیکن سیاسی احتساب کا سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے: اگر ایک عام امیدوار کے حلف نامے میں فوجداری مقدمات ہوں تو ووٹر کو اسے جاننے کا حق ہے؛ پھر بڑے سیاسی رہنماوں کے معاملے میں یہ سوال کیوں نہ پوچھا جائے؟
اکبر الدین اویسی کا معاملہ بھی سوالات سے باہر نہیں، AIMIM کے اہم رہنما اکبر الدین اویسی بھی ماضی میں مختلف فوجداری مقدمات کے باعث سیاسی اور عدالتی بحث میں رہے ہیں۔ یہاں ایک اہم مثال وہ مقدمات ہیں جو 2012 کی تقاریر سے متعلق تھے۔ 2022 میں خصوصی عدالت نے ان سے متعلق دو مقدمات میں انہیں بری کردیا تھا، کیونکہ عدالت کے مطابق استغاثہ مناسب ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ لہٰذا ان مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ”اکبر الدین اویسی کا جرم ثابت ہوگیا“۔ ”ان کے خلاف مقدمات درج ہوئے، لیکن متعلقہ دو مقدمات میں عدالت نے انہیں بری کردیا۔
مرزا رحمت بیگ کا تازہ واقعہ، مگر سوالات پرانے، 29 اگست 2026 کو AIMIM نے تلنگانہ کے MLC مرزا رحمت بیگ کو پارٹی سے خارج کرنے کا اعلان کردیا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق پارٹی کے مشترکہ سکریٹری ایس اے انور حسین نے اخراج کی اطلاع دی، لیکن مختصر رپورٹ میں اخراج کی مخصوص وجہ بیان نہیں کی گئی۔ یہاں بھی احتیاط ضروری ہے۔ مرزا رحمت بیگ کے اخراج کو AIMIM کے پورے فوجداری ریکارڈ کا ثبوت قرار دینا درست نہیں۔ بلکہ یہ سوال اٹھانا زیادہ مناسب ہے: پارٹی نے انہیں کیوں نکالا؟ کیا اس کی وجہ عوام کو بتائی جائے گی؟ اور کیا سیاسی جماعتیں اپنے اندرونی احتساب کے لیے کوئی شفاف نظام رکھتی ہیں؟
”مجلس اتحاد المجرمین“— نعرہ یا سیاسی چارج شیٹ؟ سیاسی مخالفین اگر AIMIM کو طنزیہ طور پر “آل انڈیا مجلس اتحاد المجرمین” کہتے ہیں تو یہ ایک سیاسی جملہ ہے۔لیکن کسی بھی صحافتی مضمون میں اسے حقیقت یا سرکاری نام کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔البتہ اس طنزیہ نام کے مقابلے میں ایک دستاویزی سوال ضرور کھڑا کیا جاسکتا ہے:اگر پارٹی کے متعدد امیدوار اپنے حلف ناموں میں فوجداری مقدمات ظاہر کرتے ہیں، تو پارٹی کو عوام کو اس کا جواب کیوں نہیں دینا چاہیے؟
یہ سوال صرف AIMIM کے لیے نہیں۔ یہ ہندوستان کی پوری سیاسی جماعتوں کے لیے ہے۔اصل ”چارج شیٹ“ عوام کے ہاتھ میں ہے، عوام کو سیاسی جماعتوں سے پانچ بنیادی سوال پوچھنے چاہئیں: 1۔ آپ نے ایسے امیدوار کو ٹکٹ کیوں دیا جس کے خلاف فوجداری مقدمات درج تھے؟ 2۔ کیا آپ نے امیدوار کے قانونی پس منظر کی آزادانہ جانچ کی؟ 3۔ اگر مقدمات سنگین نوعیت کے ہیں تو امیدوار کے انتخاب کی خاص وجہ کیا تھی؟ 4۔ اگر امیدوار عدالت سے بری ہوچکا ہے تو کیا پارٹی نے عوام کو اس بریت کی مکمل معلومات فراہم کیں؟ 5۔ کیا پارٹی میں ایسے امیدواروں کے لیے کوئی شفاف داخلی معیار موجود ہے؟

Related posts

شیخ الجامعہ کے دستِ مبارک سے شعبۂ اردو کے سالنامہ ’ارمغان- 14‘ کا اجرا عمل میں آیا

Paigam Madre Watan

والد کے ہاتھوں فرزند کی کتاب "امت کی مجموعی ترقی کا لائحہ عمل” کا اجراء

Paigam Madre Watan

مادرِ علمی جامعہ سلفیہ بنارس کی ترقی و خوشحالی کے لیے طلبہ کا کردار اہم ہے: افروز عالم ذکراللہ سلفی

Paigam Madre Watan