Blog

نصیب کے دریچے اپنے وقت پر کھلتے ہیں ✍️ حکیم الدین صدیق سنابلی

نصیب کے دریچے اپنے وقت پر کھلتے ہیں

✍️ حکیم الدین صدیق سنابلی

زندگی دوڑ کا وہ میدان ہے جس میں سب کو ایک ہی خطِ پایان تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔ اس کے راستے بھی الگ ہیں تو موسم بھی الگ ہیں، رفتاریں بھی الگ اور منزلوں کے پتے بھی جدا ہیں۔ کوئی پھولوں کی نرم چادر پر چل رہا ہے تو کوئی کانٹوں سے بھری ہوئی پگڈنڈی پر دوڑ رہا ہے، کسی کے حصے میں بہار کی صبح آتی ہے تو کسی حصے میں خزاں کی دوپہر آتی ہے۔ مگر سبھی اس راہ حیات کے مسافر ہیں، اور سب اپنے رب کے بنائے ہوئے نقشے پر چل رہے ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ رزق تقسیم ہوچکے ہیں، عمر متعین ہوچکی ہے اور تقدیر لکھی جاچکی ہے۔ جو آپ کے لیے لکھ دیا گیا ہے، وہ راستوں کی تمام دشواریوں، زمانے کی تمام رکاوٹوں اور فاصلے کی تمام مسافتوں کو عبور کرکے آپ تک پہنچے گا، اور جو آپ کی تقریر میں نہیں لکھا گیا ہے، دنیا کی تمام قوتیں مجتمع ہوکر بھی اسے آپ کی جھولی میں نہیں ڈال سکتیں، تو پھر ہم کیوں دوسروں کی راہوں میں اپنی منزل تلاش کرتے ہیں؟ ہم دوسروں کی زندگی کے آئینے میں کیوں اپنا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں؟ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں دوسروں کی زندگی کے صرف روشن پہلو نظر آتے ہیں اور اپنی زندگی سے اس کا موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ ہمیں کسی کے چہرے پر مسکراہٹ تو دکھائی دیتی ہے، مگر اس مسکراہٹ کے پیچھے چھپی سیاہ راتیں، کرب و الم کی خونچکاں داستان دیکھائی نہیں دیتی۔ ہمیں کسی کے ہاتھ میں کامیابی کا پھول تو نظر آتا ہے، مگر اس پھول تک پہنچنے والے زخموں کا سفر دیکھائی نہیں دیتا۔ کتنے چہرے ہیں جو بظاہر مسکراتے نظر آتے ہیں، مگر ان کے سینے میں ہموم و غموم کا موجزن سمندر کسی کو نظر نہیں آتا، ان کی مسکراہٹ کے پیچھے پورا بابِ غم پوشیدہ ہوتا ہے۔ یاد رکھیں! کسی کا چراغ ہم سے پہلے روشن ہوگیا تو اس سے ہمارے حصے کی روشنی کم نہیں ہوگی۔ کسی کی صبح اگر ہماری صبح سے پہلے طلوع ہوگئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہماری شام ہمیشہ اندھیری رہے گی۔ سورج ایک ہے مگر ہر آنگن میں اس کی کرنیں اپنے وقت پر ضرور اترتی ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ "نصیب کے دریچے اپنے وقت پر کھلتے ہیں” ہر پھول کے کھلنے ایک وقت متعین ہوتا ہے۔ یہ دنیا دراصل بازار تقسیم ہے۔ کسی کو دولت ملی ہے تو کسی کو علم، کسی کو شہرت ملی ہے تو کسی کو سکون، کسی کو صحت ملی ہے تو کسی کو قناعت، کسی کے گھر میں آسائشیں اتریں ہیں تو کسی کے دل میں ایمان کی روشنی۔ ہم اپنی کمیوں کی فہرست بناتے رہتے ہیں، مگر ان نعمتوں کا شمار بھول جاتے ہیں جن کے بغیر ہماری زندگی شاید ایک لمحہ بھی نہ چل سکے۔ ممکن ہے جس نعمت کو آپ معمولی سمجھتے ہیں، اسے حاصل کرنے کے لیے کچھ لوگ شب و روز جستجو کرتے ہوں۔ جس گھر کو آپ تنگ اور دیواروں کو کچی اور سادہ سمجھتے ہوں، شاید اس میں وہ سکون آباد ہو جس کے لیے بڑے بڑے محل ترستے ہیں۔ اگر آپ تقدیر پر ایمان رکھتے ہیں، قناعت پسند دل رکھتے ہیں تو پھر یہ حسرت کیسی؟ یہ بے قراری کیوں؟ دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر اپنے رب سے شکوہ کیوں؟ زندگی کی خوبصورتی تو یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، اسے نعمت سمجھنے والا دل ہمارے پاس ہونا چاہیے۔ ہمارا کام بیج بونا ہے، فصل اگانا اللہ کے اختیار میں ہے۔ ہمارا کام دروازہ کھٹکھٹانا ہے، کب کھلے گا، یہ اس کی حکمت ہے۔ ہمارا کام قدم بڑھانا ہے، منزل تک پہنچانا اس کی مشیت ہے۔ ہمارا کام دعا کرنا ہے، اسے قبول کرنا اور اس کے مطابق فیصلے صادر کرنا رب کا کام ہے۔ اس کا ہر فیصلہ بندے کے حق اور مفاد میں ہوتا ہے، گرچہ ہماری کوتاہ عقل و نظر اس کو سمجھنے اور دیکھنے سے قاصر ہوتی ہیں۔ اس لیے اگر آپ گر جائیں تو اسے اپنی شکست نہ سمجھیں؛ شاید یہ اٹھنے کا سبق اور عندیہ ہو، تھک جائیں تو سفر ختم نہ سمجھیں؛ کچھ دیر سایۂ صبر میں بیٹھ جائیں، پھر چل پڑیں، راستہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، رب کی رحمت سے بڑا نہیں ہوسکتا! ۔ ماضی کی ناکامیوں کو اپنے پاؤں کی زنجیر نہ بنائیں؛ اسے محض ایک وقت اور لمحہ تصور کریں۔ جو گزر گیا، اسے بار بار جینا اور یاد کرنا خوشگوار اور کامیاب زندگی کی علامت نہیں ہے، اس سے سبق لے کر آگے بڑھنا کامیابی کی ضمانت و علامت ہے۔ مستقبل کو خوف کی دھند نہ بنائیں؛ اسے امید کا آسمان سمجھ کر دیکھئے۔ اور حال کو غفلت کے حوالے نہ کیجئے، کیونکہ مستقبل اسی حال کی مٹی سے تشکیل پاتا ہے۔ آج کا ایک قدم کل کی سمت بدل سکتا ہے، آج کی ایک کوشش آنے والے برسوں کا راستہ روشن اور ہموار کرسکتی ہے۔
لہٰذا اپنی نگاہ دوسروں کی منزلوں سے ہٹا کر اپنے راستے پر رکھیں۔ اپنی نعمتوں کو گنئے، خواہشوں کو کوشش، محنت و لگن اور جستجو کا لباس پہنائیں۔
یاد رکھیں! کسی کی تیز رفتار آپ کی شکست نہیں ہے۔ کسی کی منزل آپ کی محرومی نہیں ہے۔ کسی کی خوشی آپ کی بدقسمتی نہیں ہے۔ اور کسی کی کامیابی آپ کی ناکامی نہیں ہے۔ ہر شخص اپنے حصے کا آسمان لے کر آیا ہے اور اپنے حصے کی زمین پر چل رہا ہے۔ کسی کے سفر میں راستے جلدی کھل جاتے ہیں اور کسی کے لیے دروازے دیر سے وا ہوتے ہیں؛ رب کے یہاں دیر ہے، اندھیر نہیں ہے۔ المہم! زندگی کا حاصل دوسروں سے آگے نکل جانا نہیں؛ اپنے رب کے قریب ہوجانا ہے۔ یہ دنیا مقابلے کا میدان نہیں ہے، یہ تو مسافروں کی گزرگاہ ہے۔ کوئی آج اپنے سفر کی پہلی منزل پر کھڑا ہے تو کل وہی آگے بڑھ کر منزل کی انتہا کو پہنچ جائے گا۔ کسی کے قدموں کی چاپ کچھ دیر زیادہ سنائی دے گی تو کسی کی آواز جلدی خاموش ہوجائے گی۔ پس بغض و حسد، عناد و دشمنی اور نفرتوں کی کھار دار جھاڑیوں سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے سفر کیجئے، کیوں کہ سب سے بہترین مسافر وہ ہے جو منزل کی فکر کے ساتھ راستے کے آداب کو نہ بھولے اور راستے میں الجھ کر نہ رہ جائے۔
دعا ہے کہ رب کریم ہمارے سفر زندگی کو نیکی و بھلائی ،خدمت خلق اور قوم و ملت کی بہتری کے لئے آخری سانس تک جاری رکھے، آمین۔

Related posts

”آل انڈیا مجلس اتحاد المجرمین“ طنزیہ نعرہ یا انتخابی حلف ناموں کا تلخ آئینہ؟

Paigam Madre Watan

نیپال کے تباہ کن سیلاب پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا اظہارِ افسوس

Paigam Madre Watan

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کااعلیٰ سطحی راحتی وفدصوبائی جمعیت اہل حدیث آسام کے ساتھ آسام کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں

Paigam Madre Watan