Blog

مدرسہ تعلیم القرآن ٹرسٹ میں ششماہی امتحان کی تکمیل پر اختتامی پروگرام

مدرسہ تعلیم القرآن ٹرسٹ میں ششماہی امتحان کی تکمیل پر اختتامی پروگرام

ممتحنین نے طلبہ کی تعلیمی و اخلاقی تربیت کو سراہا، اساتذہ کی محنت کی بھی کی تعریف

نئی دہلی، 9 ستمبر 2026ء: مدرسہ تعلیم القرآن (ٹرسٹ)، C-691، تکیہ کالے خاں، نئی دہلی میں ششماہی امتحان کے کامیاب انعقاد اور تکمیل کے موقع پر ایک مختصر مگر پروقار اختتامی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام میں مدرسے کے طلبہ، اساتذہ، ممتحنین اور دیگر معززین نے شرکت کی۔

ششماہی امتحان میں مدرسہ ہٰذا کے تمام طلبہ نے نہایت جوش و خروش، محنت اور ذمہ داری کے ساتھ شرکت کی۔ حفظ و ناظرہ، اردو، ہندی اور انگلش سمیت مختلف مضامین میں طلبہ کی تعلیمی استعداد اور تیاری کا جائزہ لیا گیا۔

حفظ و ناظرہ کے امتحان کے لیے حضرت مولانا مفتی نثار احمد قاسمی، مہتمم مدرسہ جامعہ حمیدیہ، سنگم وہار، دہلی بطور ممتحن تشریف لائے۔ انہوں نے طلبہ کے حفظ و ناظرہ کا امتحان لیا اور ان کی روانی، ادائیگی، محنت اور تعلیمی تیاری کا جائزہ لیا۔ اختتامی پروگرام میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے طلبہ کی کارکردگی کو حوصلہ افزا قرار دیا اور انہیں مزید محنت، پابندی اور قرآن کریم کے ساتھ مضبوط تعلق قائم رکھنے کی تلقین کی۔

دوسرے ممتحن حضرت مولانا مفتی اسامہ قاسمی، امام و خطیب مسجد یمنا وہار، دہلی نے بھی حفظ و ناظرہ کے طلبہ کا امتحان لیا۔ انہوں نے طلبہ کی قرآنی تعلیم کے ساتھ ان کے اخلاق و آداب کو بھی قابلِ تعریف قرار دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن کریم کی تعلیم صرف امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی پوری زندگی سنوارنے کا عظیم ذریعہ ہے۔ انہوں نے مدرسے کے اساتذہ کی محنت اور طلبہ کی اخلاقی تربیت پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔

اردو، ہندی اور انگلش کے امتحان کے لیے معروف قاری تصور حسین رامپوری صاحب بطور ممتحن تشریف لائے۔ انہوں نے طلبہ کی تعلیمی استعداد، زبان دانی اور سبق کی تیاری کا جائزہ لیا۔ اختتامی پروگرام میں انہوں نے طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بچوں کی صلاحیتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ مدرسے کے اساتذہ تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی شخصیت سازی پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مزید محنت، شوق اور لگن کے ساتھ تعلیم جاری رکھنے کی تلقین کی۔

بعد ازاں تمام ممتحنین حضرات نے مدرسہ تعلیم القرآن (ٹرسٹ) کے مہتمم حضرت مولانا محمد قاسم نوری قاسمی، صدر جمعیت علماء صوبہ دہلی کی تعلیمی و تربیتی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے مدرسے کے نظم و نسق، تعلیمی ماحول، اساتذہ کی محنت اور طلبہ کی دینی و اخلاقی تربیت کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

ممتحنین نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی اصل کامیابی صرف طلبہ کی تعلیمی قابلیت نہیں، بلکہ ان کے اندر علم، عمل، اخلاق، ادب اور کردار پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے مدرسہ تعلیم القرآن میں ان تمام پہلوؤں پر دی جانے والی توجہ کو خوش آئند قرار دیا۔

اختتامی نشست میں مدرسے کے مہتمم حضرت مولانا محمد قاسم نوری قاسمی نے مختصر خطاب کرتے ہوئے طلبہ اور اساتذہ کو امتحان کی تکمیل پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے طلبہ کو محنت، وقت کی پابندی، اساتذہ کا ادب، والدین کی خدمت اور علم پر عمل کرنے کی نصیحت کی۔ انہوں نے اساتذہ کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ بچوں کی دینی و عصری تعلیم کے ساتھ ان کی اخلاقی تربیت بھی ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے طلبہ کو امتحان کے نتائج سے زیادہ اپنے علم، عمل اور کردار کی اصلاح پر توجہ دینے کی تلقین کی اور کہا کہ حقیقی کامیابی اچھے اخلاق، مضبوط کردار اور علم کو عملی زندگی میں نافذ کرنے میں ہے۔

پروگرام کے اختتام پر مدرسہ انتظامیہ کی جانب سے تمام ممتحنین حضرات کا شکریہ ادا کیا گیا۔ آخر میں حضرت مولانا محمد قاسم نوری قاسمی کی دعا کے ساتھ یہ پروقار پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

اس موقع پر حافظ محمد فیاض قمر، ناظمِ تنظیم جمعیت علماء نئی دہلی، قاری عبدالحلیم معاون مدرسہ ہٰذا، قاری تہذیب عالم، قاری انور عالم، قاری عبدالرحمن، محمد سفیان کے علاوہ مدرسے کے اساتذہ، طلبہ اور عوام و خواص کی بڑی تعداد موجود رہی۔

مدرسہ انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ طلبہ کی دینی، عصری، اخلاقی اور تربیتی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لیے آئندہ بھی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

Related posts

آسام سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کا مرحلہ توجہ وامداد کا محتاج – مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے اعلیٰ سطحی راحتی وفد کے سہ روزہ دورے سے واپسی پروفد کے تاثرات

Paigam Madre Watan

ہم ایک دوسرے سے جڑ کر بھی تنہا کیوں ہیں؟ سوشل میڈیا کے عہد میں رشتوں کی خاموش ہوتی ہوئی دنیا غلام مزمل عطاؔ اشرفی

Paigam Madre Watan

گاؤں ٹکریا پر لکھا گیا میرا مضمون : مطیع الرحمن عزیز

Paigam Madre Watan