دربھنگہ میں دو اہم ادبی کتابوں کی تقریبِ اجراء، احسان عالم کی شعری و ادبی خدمات پر گفتگو
ڈاکٹر نذیر فتح پوری کی کتاب ’’خوب انداز غزل ہے آپ کا‘‘ کو مقررین نے تنقیدی مطالعے کے اعتبار سے اہم قرار دیا
دربھنگہ (نمائندہ) المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ دربھنگہ کے زیر اہتمام جمعہ کی شام حکیم دمڑی منزل، ڈاکٹر آفتاب حسین کمپلیکس، سبھاش چوک، دربھنگہ میں دو اہم ادبی کتابوں ’’ارمغانِ طرزی‘‘ اور ’’خوب انداز غزل ہے آپ کا‘‘ کی تقریبِ اجراء منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت متھلا یونیورسٹی کے سابق صدر شعبۂ اردو پروفیسر آفتاب اشرف نے کی، جب کہ نظامت کی ذمہ داری ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے انجام دی۔ اس موقع پر شہر کے متعدد اہل قلم، دانشوروں اور ادب نواز شخصیات نے شرکت کی اور دونوں کتابوں کے ادبی و تنقیدی پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔
’’ارمغانِ طرزی‘‘ پروفیسر عبدالمنان طرزی کی تصنیف ہے، جب کہ ’’خوب انداز غزل ہے آپ کا‘‘ ڈاکٹر نذیر فتح پوری کی کتاب ہے، جو سلسلۂ کتاب 120 کے تحت شائع ہوئی ہے۔ دوسری کتاب ڈاکٹر احسان عالم کی شعری و ادبی شخصیت اور ان کے شعری مجموعے ’’اندازِ غزل‘‘ کا تنقیدی مطالعہ پیش کرتی ہے۔ تقریب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی ادیب یا شاعر کی تخلیقی شخصیت کو سمجھنے اور اس کے ادبی سفر کا جائزہ لینے میں تحقیقی و تنقیدی کتابوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔
صدارتی خطاب میں پروفیسر آفتاب اشرف نے کہا کہ دو اہم ادبی شخصیات کے حوالے سے ڈاکٹر احسان عالم کی کتاب پر گفتگو اور ان کی ادبی خدمات کو موضوع بنانا بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس نوع کی ادبی کاوشوں کو اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے مفید قرار دیا۔ ان کے خطاب میں ادبی شخصیات کے کام کو محفوظ کرنے، ان کی تخلیقی جہات کو سامنے لانے اور علمی و ادبی مباحث کو آگے بڑھانے کی ضرورت نمایاں رہی۔
ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے اپنی گفتگو میں ڈاکٹر نذیر فتح پوری کی کتاب ’’خوب انداز غزل ہے آپ کا‘‘ کے تنقیدی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کتاب بظاہر ڈاکٹر احسان عالم کے شعری مجموعے ’’اندازِ غزل‘‘ کے مطالعے پر مبنی ہے، لیکن اس کا دائرہ محض اشعار کی تشریح تک محدود نہیں رہتا۔ مصنف نے شاعر کی ادبی شخصیت، تخلیقی مزاج، فکری رویوں اور غزل سے اس کے رشتے کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اس اعتبار سے کتاب ڈاکٹر احسان عالم کے مجموعی ادبی وجود کو سامنے لاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر احسان عالم کی شخصیت کسی ایک ادبی صنف یا میدان تک محدود نہیں، بلکہ وہ شاعری کے ساتھ نثر اور دیگر ادبی سرگرمیوں میں بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر نذیر فتح پوری نے ان کی اسی ہمہ جہت شخصیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی شاعری کا جائزہ لیا ہے۔ کتاب میں شاعر کے فکری رجحانات اور تخلیقی مقاصد کو سمجھنے کی کوشش اسے محض تعریفی تبصرے سے الگ کرتی ہے۔
ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کے مطابق کتاب کا ابتدائی حصہ ’’گفت باہمی‘‘ قاری کے ساتھ مکالمے کی فضا قائم کرتا ہے۔ اسلوب میں بے تکلفی، دوستانہ گفتگو اور سنجیدہ فکری مباحث کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ مصنف قاری پر اپنی رائے مسلط کرنے کے بجائے اسے شاعر کی تخلیقی دنیا سے روشناس کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی انداز کتاب کو خشک تنقیدی تحریر کے بجائے ایک بامعنی ادبی مکالمے کی صورت عطا کرتا ہے۔
پروفیسر عبدالودود قاسمی، صدر شعبۂ اردو، کے ایس کالج دربھنگہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اردو تنقید اور تحقیقی ادب کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ادبی شخصیات کے تخلیقی کاموں کے سنجیدہ مطالعے اور ان کی خدمات کو علمی انداز میں پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق اس نوع کی کتابیں قارئین کو شاعری کے فنی اور فکری پہلوؤں سے واقف کرانے کے ساتھ ادبی ذوق کی بالیدگی میں بھی معاون ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر منصور خوشتر، سکریٹری المنصور ٹرسٹ، نے اپنی گفتگو میں ادبی تقریبات اور کتابوں کی اشاعت کے ذریعے اردو زبان و ادب کی خدمت کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات کے ساتھ ان پر ہونے والے تحقیقی و تنقیدی کام کو بھی قارئین تک پہنچایا جائے، تاکہ نئی نسل اپنے ادبی سرمایہ اور علمی روایت سے واقف ہوسکے۔ انہوں نے تقریب میں شریک اہل علم و ادب کا خیرمقدم کرتے ہوئے ادبی سرگرمیوں کے تسلسل کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
ڈاکٹر ریحان احمد قادری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کتابوں کی اشاعت اور ادبی مباحث کے فروغ کو اردو کی علمی روایت کے لیے اہم قرار دیا۔ منظر صدیقی،شفیع الرحمان راعین،مہدی رضا روشن نے ادبی شخصیات کے کام کو محفوظ کرنے اور ان کے تخلیقی سفر کو قارئین کے سامنے لانے کی ضرورت پر توجہ دلائی۔ عرفان احمد پیدل اور احمد علی نے بھی تقریب میں اپنے خیالات پیش کیے اور ادبی سرگرمیوں کے فروغ کی اہمیت اجاگر کی۔
تقریب میں افلاک منظر کی مہمان کی حیثیت سے شرکت بھی اہم رہی۔ اس موقع پر اہل علم و ادب نے دونوں کتابوں کی اشاعت کو ادبی سرگرمیوں کے تسلسل اور مطالعے کے فروغ کے حوالے سے قابل توجہ قرار دیا۔

