National قومی خبریں

سپریم کورٹ کے پاس اپنے ہی پٹیشنر کو سننے کا وقت نہیں, ہیرا گروپ کیخلاف زمین مافیاﺅں کو توجہ، ای ڈی کی جوابدہی غائب

سپریم کورٹ کے پاس اپنے ہی پٹیشنر کو سننے کا وقت نہیں
ہیرا گروپ کیخلاف زمین مافیاﺅں کو توجہ، ای ڈی کی جوابدہی غائب

دہلی / حیدر آباد (رپورٹ: مطیع الرحمن عزیز) ”ثبوت تلاش کرنے کے لیے دو سال ایک طویل مدت ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ہماری ہمدردیاں ہیرا گروپ کے ساتھ ہوں گی۔“ یہ الفاظ ہیں سپریم کورٹ میں ہیرا گروپ مقدمے کی سماعت کرنے والے ریٹائرڈ جسٹس سنجے کشن کول جی کے۔ ہیرا گروپ مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس سنجے کشن کول نے انفارسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور دیگر ایجنسیوں کو شرم دلاتے ہوئے یہ الفاظ 16 دسمبر 2022 کو ادا کیا تھا، جسے ملک کے دو مشہور اخبار انڈین ایکسپریس اور داسیاست ڈیلی نے جلی سرخیوں میں شائع کیا تھا، گزشتہ کل یعنی 26 اکتوبر کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں ہیرا گروپ کی سماعت کے وقت جسٹس سنجے کشن کول کے وہ الفاظ بہت یاد کئے گئے جس میں انہوں نے ہیرا گروپ کی دو سال تک سماعت کرتے ہوئے تاریخی جملہ ادا کیا تھا، کل کی سماعت میں سپریم کورٹ نے لگ بھگ 100 دنوں کے انتظار کے بعد محض تین منٹ میں کیس کی سماعت کو مکمل کر دیا، ہیرا گروپ کی زمینوں پر تاک لگائے بیٹھے حیدرآبادی زمین مافیاﺅں کو تو اس سماعت میں توجہ دی گئی، مگر ہیرا گروپ کو یکسر نظرانداز رکھا گیا اور ایک لفظ بولنے کی مہلت دئے بغیر اگلا کیس سنا جانے لگا، افسوس کا مقام ہے کہ جس ہیرا گروپ نے ایجنسیوں کی من مانی اور بے راہ روی کیخلاف سپریم کورٹ سے انصاف کی امید کی تھی، اسے ہی نہیں سنا جا رہا ہے، جب کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جس کیس کی اولین سماعتوں میں جسٹس سنجے کشن کول کے سامنے ای ڈی اور دیگر ایجنسیاں ایک رتی برابر ثبوت اکٹھا نا کر سکیں وہ بھلا بعد میں کہاں سے پیدا کرلائیں گی۔ لہذا جب ہیرا گروپ کو سنا ہی نہیں گیا تو عزت مآب سپریم کورٹ کے تالہ لگے دل کے دروازے کو کون کھٹکھٹائے گا کہ ”مائی لارڈ آپ ہی نے ای ڈی کو نیلام کی ہوئی زمینوں کو رجسٹرار کی مدد سے رجسٹری کرانے کے بعد ہیرا گروپ کی سی ای او کو بازیاب کرنے اور انہیں رہا کردینے کی بات کہی تھی“۔ اب عزت مآب کو خود یہ دیکھنا چاہئے کہ ای ڈی نے عدالت علیہ کے حکم کے مطابق رجسٹری کے مرحلے کو مکمل کرلیا یا ابھی تک نہیں، جس میں چند دنوں یا ہفتوں کی مہلت دی گئی تھی، لیکن یہاں تو سو دن گزر گئے، سوال پوچھے جانے کے لائق تھا کہ سپریم کورٹ وعدے کے مطابق ہیرا گروپ کی سی ای او ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو سیکڑوں دن گزر جانے کے بعد اب تک ضمانت دے دینی چاہئے، لیکن یہاں درخواست گزار ہیرا گروپ اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ ہیں، اور سماعت حیدرآبادی زمین مافیاﺅں کے حق میں اور ایجنسیوں کو مکمل طریقے سے انٹرٹین کیا جا رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عزت مآب جج صاحبان اپنا سابقہ فرمان پڑھ کر بلا درخواست کے اپنی ہی باتوں پر عمل کرلئے ہوتے۔ ایسے میں مادر وطن ہندستان میں انصاف مر رہا ہے یہ کہا جائے یا ابھی مرنے کے راستے پر گامزن ہے ایسی سوچ بنا لی جائے۔
کیا انصاف کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے والے ہیرا گروپ کو اب اپنی فریاد سنانے کے لیے بھی جدوجہد کرنا ہو گی؟ کیا عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی نگرانی کرنا اور متعلقہ ایجنسیوں سے جواب طلب کرنا عدالت کی ذمہ داری نہیں؟ اور اگر ایک مقدمے میں فریقین کو سننے، سابقہ احکامات کا جائزہ لینے اور ان پر عمل درآمد کی صورتِ حال معلوم کرنے کے لیے مناسب وقت ہی نہ ملے تو انصاف کی امید لے کر عدالت پہنچنے والے ہزاروں متاثرین آخر کس طرف دیکھیں؟ 26 اکتوبر 2026 کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں ہیرا گروپ سے متعلق سماعت کے بعد ایسے ہی کئی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ ہیرا گروپ کے معاملے میں طویل انتظار کے بعد ہونے والی سماعت اگر درخواست گزار کے مؤقف، سابقہ عدالتی ہدایات اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی ذمہ داریوں پر واضح پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئی، تو یہ صورتِ حال یقیناً سنجیدہ صحافتی اور قانونی توجہ کی متقاضی ہے۔ ہیرا گروپ کا بنیادی سوال محض ایک کمپنی یا اس کی سربراہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی رہائی کا نہیں، بلکہ اس پورے قانونی عمل کا ہے جس میں سرمایہ کاروں کے مفادات، ضبط شدہ جائیدادوں کی فروخت، ان کی رجسٹری، رقم کی واپسی اور متعلقہ ایجنسیوں کی جوابدہی جیسے اہم معاملات شامل ہیں۔
ہیرا گروپ کے معاملے میں اٹھنے والے سوالات کی روشنی میں درج ذیل اقدامات اہم ہوسکتے ہیں، جائیدادوں کی رجسٹری، فروخت اور متعلقہ شرائط کے بارے میں عدالت کے سابقہ احکامات کی موجودہ صورتِ حال واضح کی جائے۔ متعلقہ جائیدادوں، نیلامی، رجسٹری، جمع شدہ رقم اور سرمایہ کاروں کو رقم واپس کرنے کے مراحل پر تازہ رپورٹ طلب کی جائے۔ ہیرا گروپ اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی جانب سے دائر متعلقہ درخواستوں پر مؤثر سماعت کا موقع دیا جائے۔ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی ضمانت یا رہائی سے متعلق درخواست اور اس پر لاگو عدالتی احکامات کا قانون کے مطابق جائزہ لیا جائے۔ متاثرہ سرمایہ کاروں کے دعووں کی تصدیق، رقم کی واپسی کے طریقہ کار اور کارروائی کی مدت سے متعلق شفاف معلومات فراہم کی جائیں۔ یہ مطالبات کسی ادارے کو پہلے سے قصوروار قرار دینے کے بجائے شفافیت، منصفانہ کارروائی اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے چاہئیں۔ سپریم کورٹ آف انڈیا ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہے، اور عوام کی بڑی تعداد اس سے انصاف کی امید وابستہ کرتی ہے۔ اسی لیے عدالت کی کارروائی میں شفافیت، درخواست گزاروں کو مناسب سماعت اور سابقہ احکامات پر عمل درآمد کی نگرانی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہیرا گروپ کے معاملے میں اگر درخواست گزار کو اپنی بات رکھنے کا مناسب موقع نہیں ملا، اگر ای ڈی کی پیش رفت واضح نہیں ہوئی، یا اگر سابقہ عدالتی ہدایات پر عمل درآمد کی صورتِ حال غیر واضح ہے، تو ان امور کی وضاحت ہونی چاہیے۔ عدالتوں پر تنقید کا مقصد عدلیہ کے وقار کو کم کرنا نہیں، بلکہ انصاف کے تقاضوں کی طرف توجہ دلانا ہونا چاہیے۔ عدلیہ کی آزادی اور احترام کے ساتھ ساتھ یہ توقع بھی بجا ہے کہ ہر فریق کو سنا جائے، ہر متعلقہ حکم پر عمل درآمد کی صورتِ حال واضح ہو اور کسی بھی ادارے کو غیرضروری تاخیر یا جوابدہی سے بچنے کی گنجائش نہ ملے۔ اگر ہیرا گروپ کی درخواستوں پر مؤثر سماعت نہیں ہوگی، ای ڈی کی کارروائیوں کی صورتِ حال واضح نہیں ہوگی اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی رہائی سے متعلق قانونی سوالات کا فیصلہ نہیں ہوگا، تو اس مقدمے میں انصاف کی منزل کب اور کیسے طے ہوگی؟ ہیرا گروپ کے معاملے میں شفاف سماعت، ایجنسیوں کی جوابدہی اور قانون کے مطابق بروقت فیصلے ہی اس تاثر کو ختم کرسکتے ہیں کہ انصاف کے حصول کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ انصاف صرف حکم جاری کرنے کا نام نہیں؛ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ متعلقہ احکامات پر عمل درآمد ہو، فریقین کو سنا جائے اور قانونی سوالات کو واضح طور پر حل کیا جائے۔

Related posts

گجرات کی آدھی گرین انرجی پیدا کر ےگا ریلائنس۔ مکیش امبانی

Paigam Madre Watan

डॉ. नौहेरा शेख की गिरफ्तारी के पीछे ED हैदराबाद की गैर-कानूनी कार्रवाई का राज खुला

Paigam Madre Watan

معروف ومشہور ادبی علمی شخصیت ممتاز سالک بستوی تاریخ ساز شخصیت: ابوسعود محمدھارون انصاری

Paigam Madre Watan