Articles مضامین Blog

ایک ایم پی، 7 ایم ایل اے، 2 ایم ایل سی، 41 کارپوریٹر۔ مسجد بند۔ مندر کا افتتاح: تحریر ۔ مطیع الرحمن عزیز

ایک ایم پی، 7 ایم ایل اے، 2 ایم ایل سی، 41 کارپوریٹر۔ مسجد بند۔ مندر کا افتتاح

تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز

اترپردیش کے اجودھیا فیض آباد میں بابری مسجد کی مسماری پر سب سے زیادہ روٹی سینکنے والی سیاسی جماعت دو ہیں۔ ایک بی جے پی اور دوسری ایم آئی ایم۔ اویسی خاندان کی پچھلی نسل نے بابری مسجد کی ہڈیوں کو چبا چبا کر اپنی غذا خوب حاصل کی، بھارتیہ جنتا پارٹی نے اٹل بہاری واجپئی کی مرکز میں پہلی حکومت بنائی بابری مسجد گرا کر اور تین بار نریندر مودی نے حکومت بنائی رام مندر بنا کر۔ وہیں کہنے والے کہتے ہیں کہ سلطان صلاح الدین اویسی نے بابری مسجد مسماری سانحہ پر سمجھوتہ کرکے حیدرآباد میں اسرا اور فاطمہ اویسی اسپتال مفت میں حاصل کرلیا۔ وہیں دوسری جانب ان کے صاحبزادے اسد اویسی بابری مسجد کی بوسیدہ ہڈیوں سے اپنی سیاسی غذا حاصل کرتے رہے اور تقریروں میں بابری مسجد کا نام نہاد درد دکھا کر عوام کو جذباتی کرتے رہے۔ ساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں میں مسجدوں کی ہو رہی مسماری کارروائیوں کو نشانہ بنا کر ایک ایم ایل اے کی بھیک مانگتے رہے، اویسی کو کہتے ہوئے سنا گیا کہ اگر ایم آئی ایم کا ایک ایم ایل اے ہوتا تو مسجد میں سو جاتا اور مسجد کو مسمار ہونے سے بچا لیتا، لیکن دوسری جانب چار مینار پر قائم مسجد تو برسوں سے بند تھی ہی، اب وزیر داخلہ امت شاہ نے اسی بند مسجد پر بھاگیہ لکشمی مندر کا افتتاح کر کے ایم آئی ایم کی کھوکھلی پالیسی اور متشدد بیانوں اور بوکھلائی باتوں کی قلعی کھول دی ہے، شاید اویسی کو شرم آئے لیکن مشکل بات ہے کیونکہ جس شہر میں ایک ایم پی، 7 ایم ایل اے، 2 ایم ایل سی اور 41 کارپوریٹر ہوں وہاں کی پیشانی چار مینار پر مسجد کا بند ہونا اور مندر کا افتتاح ہونا اویسی کیلئے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ دوسری جانب یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اب یہاں سے اویسی کو بھڑکاﺅ بیان دینے کا ایک مدعا اور پسندیدہ غذا حاصل ہو گیا ہے، ممکن ہے اس مندر کی مسماری اویسی کے ہاتھوں کرا کے آنے والے ودھان سبھا تلنگانہ الیکشن میں اویسی کو ہیرو بنایا جائے اور 2029 میں پھر سے بھاگیہ لکشمی مندر بنا کر مرکز میں نریندر مودی اور بی جے پی کی سرکار بنائی جائے۔
اترپردیش کے اجودھیا، فیض آباد میں بابری مسجد کی شہادت ہندوستان کی تاریخ کا ایک ایسا دردناک باب ہے، جس کے اثرات آج بھی ملک کی سیاست، سماج اور اقلیتی طبقے کے اجتماعی شعور میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ لیکن اس سانحے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، جس پر سنجیدہ صحافتی اور سیاسی احتساب کی ضرورت ہے۔ آخر بابری مسجد کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں نے مسلمانوں کو کیا دیا؟ ان کے جذبات سے فائدہ کس نے اٹھایا؟ اور جب اپنی سیاسی قوت کے مرکز میں ایک تاریخی مسجد کے اندر نماز ادا کرنے کا سوال سامنے آتا ہے تو ان کی عملی حکمت عملی کہاں کھڑی نظر آتی ہے؟ بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے رام مندر کے مسئلے کو اپنی سیاسی مہم کا ایک بڑا حصہ بنایا۔ اٹل بہاری واجپئی سے لے کر نریندر مودی تک بی جے پی کی سیاست میں رام مندر کا موضوع مسلسل نمایاں رہا۔ بالآخر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر ہوئی اور جنوری 2024 میں اس کی پران پرتشٹھا کی تقریب منعقد ہوئی۔ بی جے پی نے اس معاملے کو اپنی سیاسی کامیابی اور نظریاتی جدوجہد کے طور پر پیش کیا۔ دوسری طرف آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور اویسی خاندان کی سیاست میں بھی بابری مسجد کا تذکرہ ایک مستقل سیاسی موضوع رہا ہے۔ اسدالدین اویسی اپنی تقریروں میں بابری مسجد، مسلمانوں کے حقوق، مساجد کے تحفظ اور آئینی انصاف کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ ان موضوعات پر ان کی سیاسی تقریروں نے انہیں ملک بھر میں ایک نمایاں مسلم سیاسی آواز کے طور پر شناخت دی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف تقریروں، جذباتی نعروں اور سیاسی بیانات سے مسلمانوں کے مذہبی و تاریخی مسائل حل ہوجاتے ہیں؟ کیا عوام کو ہر انتخاب میں ماضی کے زخم یاد دلانا کافی ہے، یا ان زخموں کے علاج کے لیے عملی سیاسی جدوجہد بھی ضروری ہے؟
یہ ایک تلخ سیاسی حقیقت ہے کہ بابری مسجد کا مسئلہ مختلف سیاسی جماعتوں کے لیے مختلف ادوار میں سیاسی اہمیت رکھتا رہا ہے۔ بی جے پی نے رام مندر کی تحریک کو اپنی انتخابی سیاست میں نمایاں مقام دیا، جبکہ ایم آئی ایم نے بابری مسجد اور مسلمانوں کے حقوق کے سوال کو اپنی سیاسی تقاریر میں بارہا اٹھایا۔ ناقدین کا سوال ہے کہ کیا مسلمانوں کے جذبات کا سیاسی استعمال صرف انتخابی موسم میں ہونا چاہیے؟ کیا بابری مسجد کے نام پر تقریریں کرنے والوں سے یہ سوال نہیں کیا جانا چاہیے کہ ان کی سیاسی طاقت سے عام مسلمانوں کو کیا فائدہ پہنچا؟ سلطان صلاح الدین اویسی کے دور کی سیاست اور بابری مسجد کے مسئلے پر ان کے مبینہ سیاسی سمجھوتوں کے حوالے سے بھی مختلف حلقوں میں سوالات اور الزامات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں کسی مبینہ سمجھوتے یا اس کے عوض اسپتالوں کی مفت فراہمی کے دعوے کو مستند دستاویزات کے بغیر ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن یہ سوال ضرور اپنی جگہ موجود ہے کہ بابری مسجد کے معاملے میں ماضی کے سیاسی کرداروں کا غیر جانب دارانہ احتساب کیوں نہیں ہونا چاہیے؟ اب ذرا حیدرآباد کے تاریخی چارمینار کا رخ کیجیے۔ 2 نومبر 2026 کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے چارمینار کے قریب واقع بھاگیہ لکشمی مندر میں حاضری دی اور خصوصی پوجا کی۔ یہ محض ایک مذہبی حاضری نہیں بلکہ ایسے وقت میں ایک نمایاں سیاسی منظر بھی تھا، جب حیدرآباد کی سیاست میں بی جے پی اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔ اس واقعے نے ایک اہم سوال کو پھر زندہ کردیا ہے۔ چارمینار کی بالائی منزل پر موجود تاریخی مسجد میں نماز کی اجازت نہیں، جبکہ اس کے قریب واقع بھاگیہ لکشمی مندر میں مذہبی سرگرمیاں جاری ہیں۔ آثار قدیمہ کے محکمے (ASI) کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ تاریخی عمارت کے تحفظ اور انتظامی وجوہات کی بنا پر مسجد میں نماز کی اجازت بند کی گئی تھی۔ یہ معاملہ نیا نہیں بلکہ کئی برسوں سے زیر بحث ہے۔
جس حیدرآباد میں اسدالدین اویسی رکن پارلیمنٹ ہیں، جہاں ان کی جماعت کے سات ایم ایل اے موجود ہیں، دو ایم ایل سی کی نمائندگی بھی بتائی جاتی ہے اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں 41 کارپوریٹر ہیں، وہاں اس تاریخی مسجد کے معاملے پر اب تک کوئی قابل ذکر عملی پیش رفت کیوں سامنے نہیں آسکی؟ یہاں سوال صرف اویسی خاندان سے نہیں، بلکہ ان تمام منتخب نمائندوں سے ہے جو عوام کے ووٹوں سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے ہیں۔ اگر اتنی بڑی سیاسی نمائندگی کے باوجود ایک تاریخی مسجد میں نماز کی بحالی کا سوال حل نہیں ہوسکا تو عوام اپنی سیاسی قیادت سے سوال کیوں نہ کریں؟ اسدالدین اویسی کے سیاسی بیانات میں یہ موقف سامنے آتا رہا ہے کہ اگر ان کی جماعت کے نمائندے متعلقہ علاقوں میں موجود ہوں تو وہ مساجد اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں۔ مختلف مواقع پر انہوں نے ایک ایم ایل اے کی سیاسی اہمیت بھی بیان کی ہے۔ لیکن آج حیدرآباد میں صرف ایک ایم ایل اے کی بات نہیں ہے۔ یہاں سات ایم ایل اے، ایک ایم پی اور بلدیاتی سطح پر درجنوں منتخب نمائندے موجود ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ جب دوسرے شہروں میں مساجد کے مسائل سامنے آتے ہیں تو ایم آئی ایم کی قیادت ان پر بھرپور سیاسی مہم چلاتی ہے، لیکن اپنے سیاسی مرکز میں چارمینار کی مسجد کے مسئلے پر اس کی حکمت عملی کیا ہے؟ کیا اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں اٹھایا گیا؟ کیا متعلقہ سرکاری محکموں سے باضابطہ اور مسلسل قانونی پیروی کی گئی؟ کیا عدالت سے رجوع کیا گیا؟ کیا عوام کو پیش رفت سے آگاہ کیا گیا؟ اگر یہ کوششیں ہوئی ہیں تو ان کی تفصیلات عوام کے سامنے آنی چاہئیں، اور اگر نہیں ہوئیں تو خاموشی کی وجہ بھی بتائی جانی چاہیے۔
ہندوستانی سیاست کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ بعض اوقات سیاسی مخالفین ایک دوسرے کی سیاست کو مضبوط کرنے والے موضوعات فراہم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بی جے پی حیدرآباد میں مذہبی شناخت، مندروں اور تاریخی ورثے کے حوالے سے اپنی سیاسی مہم کو نمایاں کرتی ہے، جبکہ ایم آئی ایم ان ہی معاملات کو مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور حقوق کے تناظر میں اٹھاتی ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اس طرح دونوں جماعتوں کو اپنے اپنے ووٹ بینک کے سامنے سیاسی بیانیہ قائم رکھنے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن اس پورے سیاسی منظرنامے میں عام شہری کا سوال کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ مسلمانوں کو تعلیم، روزگار، کاروبار، صحت، تحفظ اور معاشی خودمختاری کی ضرورت ہے۔ حیدرآباد کی نئی نسل کو روزگار اور بہتر مستقبل چاہیے۔ پرانے شہر کے علاقوں کو بنیادی سہولتوں، معیاری تعلیمی اداروں اور صحت کی بہتر خدمات کی ضرورت ہے۔ کیا ان مسائل پر بھی اتنی ہی شدت سے سیاسی جدوجہد ہوتی ہے جتنی مذہبی تنازعات پر تقریریں کی جاتی ہیں؟ کیا عوام کو صرف جلسوں میں تالیاں بجانے اور انتخابی مہم میں نعرے لگانے کے لیے استعمال کیا جائے گا؟چارمینار اور بھاگیہ لکشمی مندر کا معاملہ پہلے ہی سیاسی حساسیت رکھتا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی فریق کی اشتعال انگیز تقریر، غیر ذمہ دارانہ اقدام یا مذہبی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش پورے شہر کے امن کو متاثر کرسکتی ہے۔یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ آنے والے تلنگانہ اسمبلی انتخابات سے پہلے یہ معاملہ سیاسی طور پر مزید گرم ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے بی جے پی اس موضوع کو اپنے انتخابی بیانیے میں استعمال کرے اور ایم آئی ایم بھی اس کے ردعمل میں اپنی سیاسی مہم کو تیز کرے۔کیا چارمینار کے تاریخی ورثے اور مذہبی مقامات کو انتخابی سیاست کا میدان بنانا ضروری ہے؟ کیا کسی بھی مذہبی مقام کے تحفظ اور حقوق کے لیے آئینی، قانونی اور پرامن راستہ اختیار نہیں کیا جاسکتا؟

Related posts

    اویسی کے ناجائز قبضہ میں وقف کی 3 ہزار کروڑ کی جائیداد

Paigam Madre Watan

ووٹ چوری و ڈکیتی: مودی کے گیانیش اور اویسی—دو لعل

Paigam Madre Watan

دہلی حکومت نے 22 ہزار کروڑ کا چاول گھوٹالہ رچایا: سوربھ بھردواج

Paigam Madre Watan