Articles مضامین

حماس کا حملہ اور فلسطین کی موجودہ صورت حال پر ہمارا موقف

تحریر۔۔۔۔۔ شیرخان جمیل احمد عمری

۷ / اکتوبر ۲۰۲۳م کے حماس حملہ اور فلسطین کی موجودہ صورت حال پر ابتک میں نے جو لکھا ہے اور جو میرا موقف رہا ہے، جس پر میں پورے شرح صدر سے اب بھی قائم ہوں اگر میں اس کو بطور خلاصہ اور پؤانٹس مجملا بیان کروں تو وہ یہ ہے:(۱) حالت ضعف میں جنگ کرنا حکمت اور دانشمندی کے خلاف ہے کیونکہ اس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے اور امت مزید کمزور اور تباہ ہوجاتی ہے اور اس کے اثرات عالمی پیمانے پر بھی مسلمانوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ جنگوں کے سلسلہ میں ہمیں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھرپور رہنمائی ملتی ہے۔ قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری رح اپنی کتاب "رحمة للعالمين” میں لکھتے ہیں کہ دور نبوت میں چھوٹی بڑی جنگوں کی تعداد ۸۲ بنتی ہے اور اس میں طرفین کے مقتولین کی تعداد ۱۰۱۸ (ایک ہزار اٹھارہ) جس میں مسلمان مقتول ۲۵۹ اور مخالف مقتول ۷۵۹ ۔ اس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں کی اسٹریٹجی کیا تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کم سے کم جانی نقصان ہو اس کا خیال رکھ کر جنگ کی پلاننگ فرماتے تھے۔ (۲) حماس کا بے اعتبار ، تقیہ پر عمل کرنے والے ملک ایران ، حزب اللہ اور رافضیوں سے گٹھ بندھن، ان کی گود میں جا بیٹھنا، ان سے محبت وعقیدت رکھنا، ان کو اپنا مشیر بنالینا اور ان کے اشاروں پر چلنا سنیوں اور سنی ملکوں کے ساتھ ان کے بدترین اور وحشیانہ سلوک کے باوجود ان پر بھروسہ کرنا حماقت اور دھوکہ سے خالی نہیں ہے۔ “لا يلدغ المؤمن من جحر مرتين” مؤمن ایک سوراخ سے دو مرتبہ ڈسا نہیں جاتا،۔ ( بخارى ومسلم ) شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمه الله نے رافضہ کے متعلق دو ٹوک انداز میں یہ لکھا ہے، “يوالون الكفار والمنافقين من اليهود والنصارى والمشركين…على المسلمين”۔ پوری تاریخ گواہ ہے ان کے ٹارگٹ پر یہود ونصاری وغیرہ کبھی نہیں رہے بلکہ ہمیشہ اہل السنہ اور ان کے ممالک ان کے نشانے پر رہے ہیں۔ ماضی چھوڑیے، حالیہ سالوں میں انہوں نے عراق، سیریا، لبنان، یمن وغیرہ میں لاکھوں سنیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے دنیا جانتی ہے۔ آپ جانتے ہیں یہ میرے اکیلے شخص کا موقف نہیں ہے بلکہ سعودیہ وغیرہ کے کبار علماء اور دنیا بھر میں پھیلے سیکڑوں حق پرست علماء کا بھی یہی موقف ہے جس کو میں نے تقلیداً نہیں بلکہ علماً وفھماً واجتھاداً اختیار کیا ہے۔ ایک معروف غير سلفى عالم دين شیخ یوسف القرضاوی صاحب کے آخری عمر میں دئے گئے ایک انٹرویو سے بھی میرے موقف کی تائید ہوتی ہے۔ جس میں قرضاوی صاحب نے حزب اللہ اور ایران (رافضہ) کو بری طرح کنڈم کیا ہے اور ان کی دھوکہ دہی، بے دینی اور بے اعتباری سے امت کو دو ٹوک انداز میں متنبہ کیا ہے۔ (٣) ۷ / اکتوبر کا حماس کا حملہ ایک سازش لگتا ہے ۔ واللہ اعلم ۔ حماس کو یا تو دھوکہ دیا گیا ہے یا وہ کسی کے ہاتھ استعمال ہوگئی ہے۔ ورنہ وہ کمزور رہ کر اتنا بڑا رسک نہیں لیتی ! سعودی ولیعہد محمد بن سلمان حفظه الله کے فلسطین کے مسئلہ کے وقتی طور پر حل (ورنہ حدیث میں عیسی علیہ السلام کے نزول کے بعد یہ مبارک سرزمیں مسلمانوں کو واپس مل جائے گی۔ وہاں سے یہود کا خاتمہ ہوجائے گا) یعنی دو ریاستوں کے لئے پیش رفت پر مشتمل انٹرویو کے دس دن بعد ہی حماس نے اسرائیل پر حملہ کردیا۔ عالمی اخبارات سے یہ معلوم ہوا کہ ولیعہد کے انٹرویو اور ۷ اکتوبر کے حملہ کے درمیان حماس کی لیڈر شپ نے ایران اور روس کا دورہ کیا تھا۔ ان دوروں کو بھی ذہن میں رکھا جائے اور اس حملہ کو سمجھا جائے۔ ( پاور اور مالی مفادات کے لئے عالمی پیمانے پر دنیا میں دو بلاک بنتے جارہے ہیں، حماس و ایران روس وغیرہ کے ساتھ ہیں بقیہ کا تو آپ کو علم ہے۔۔۔۔اس نکتہ کو بھی ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے) (۴) چونکہ جنگ چھڑ چکی ہے، قطع نظر حماس کی جنگی اسٹریٹجی سے اختلاف کے ہمارا موقف اب کیا ہونا چاہئے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ سارے فلسطینی حماس نہیں ہیں۔ فلسطینی مظلوم ہیں، مقہور ہیں، مجبور ہیں۔ اسرائیل نے ان کی زمین پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔ مسلسل ان پر ظلم ڈھائے جا رہا ہے۔ مسلمان اور انصاف پسند غیر مسلموں کو چھوڑیے اب تو انصاف پسند یہودی بھی احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے ہیں اور اسرائیل کو غاصب اور ظالم ٹہرا رہے ہیں۔ فلسطینی اپنے ملک میں محصور ہیں۔ معصوم بچوں، عورتوں اور بوڑھوں پر بم منگ ہورہی ہے، ان کے ہسپتال، مساجد اور تعلیمی ادارے تباہ کئے جارہے ہیں۔ اس صورت حال میں فلسطینیوں کا اپنے حق کے لئے لڑنا نہ صرف مذھبی اعتبار سے بلکہ انٹرنیشنل لاء کے اعتبار سے بھی بالکل درست ہے۔ اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہم اپنے مظلوم بھائیوں کی ہر طرح سے مدد کریں۔ سب سے پہلے اسرائیل کو اس قتل عام سے فورا روکنے کی تدابیر کو اختیار کیا جائے۔ دین اور عالمی و ملکی قوانین کے دائرہ میں رہ کر جنگ بندی کے لئے اپنی اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ فورا یہ جنگ بند کرائیں اور معصوم لوگوں کو نا حق قتل ہونے سے بچایا جاسکے۔ اپنے بھائیوں کے لئے دوا، علاج، اناج اور روز مرہ زندگی کے ساز وسامان کا انتظام کیا جائے اور ان کو جلد سے جلد ان تک پہنچانے کی سبیل تلاش کی جائے۔ دور رہ کر علی الأقل دعا کے ہتھیار سے اپنے بھائیوں کی صبح وشام مدد کی جائے۔ اللھم انصرھم نصرا مؤزرا آمین۔

Related posts

ابوالکلا م آزاد ہمہ گیر شخصیت اورنظام تعلیم کے علمبرادار

Paigam Madre Watan

مولانا شمس الدین سلفی کا کتاب ”ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کا دور “ پر تبصرہ

Paigam Madre Watan

میر صادق و میر جعفر کے ہاتھوں مسلم معیشت پر یلغار

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar