در اندازعقیل و منیب نامی دو ملزمان گرفتار، ایف آئی آر درج
بنگلور (کرناٹک) – 25 دسمبر 2025 کرناٹک کے ریاستی راجدھانی شہر بنگلور میں ایک سنسنی خیز واقعے میں دو مبینہ غنڈوں نے ہیرا گروپ مارٹ پر دراندازی کی، جس کے نتیجے میں پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا اور مقدمہ درج کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، ملزمان کی شناخت عقیل عرف راشد اور عبداللہ عرف منیب نام سے ہوئی ہے۔ یہ دونوں کرناٹک کے شیموگہ شہر کے غنڈہ عناصر کے طور پر مشہور ہیں۔ واقعہ ہیرا گروپ مال (مارٹ) ایک کمرشل اسٹیبلشمنٹ پر پیش آیا، جہاں ملزمان عقیل عرف راشد اور عبداللہ عرف منیب نے مبینہ طور پر دھمکیاں دیں اور ممکنہ طور پر لوٹ مار یا دھاندلی کی کوشش کی۔ تاہم جو تفصیلات ابھی تک منظر عام پر آئی ہیں وہ یہ ہیں کہ عقیل عرف راشد اور عبداللہ عرف منیب نے خود کو ای ڈی کا آفیسر بتا کر ہیرا گروپ مال مارٹ میں داخل ہوئے اور وہاں پر تعینات کارکنوں کو گن پوائنٹ پر ڈرا دھمکا کر باہر نکال دیا، جب اس واقعے کی خبر ہیرا گروپ سی ای او ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو موصول ہوئی تو انہوں نے پولس کارروائی کرتے ہوئے ان شرپسند غنڈوں اور ان کے دیگر لوگوں کو باہر نکالا۔ ویڈیو فوٹیج اور عینی شاہدین کے بیانات کی بنیاد پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر ملزمان کو حراست میں لے لیا۔ ایف آئی آر درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ مالی ڈکیتی، پھروتی اور بلیک بیلنگ یا لوکل گینگ وار سے منسلک ہو سکتا ہے، کیونکہ ہیرا گروپ مارٹ ایک معروف کاروباری ادارہ ہے جو ممکنہ طور پر کمرشل سرگرمیوں سے وابستہ ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں اس واقعے کی جھلکیاں دکھائی گئی ہیں، جو یوٹیوب چینل "مطیع الرحمٰن عزیز” پر اپ لوڈ کی گئی۔ ویڈیو میں واقعے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور تین زبانوں (انگلش، اردو، ہندی) میں ڈسکرپشن دی گئی ہے۔ ویڈیو اپ لوڈ ہونے کے چند گھنٹوں میں ہی ہزاروں ویوز حاصل کر چکی ہے۔
مقامی پولیس افسران کا کہنا ہے کہ شہر میں جرائم کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ متاثرہ مارٹ کے مالکان نے ابھی تک کوئی آفیشیل بیان جاری نہیں کیا، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ کاروبار معمول کے مطابق جاری ہے۔ یہ واقعہ بنگلور میں بڑھتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں پر سوالات اٹھا رہا ہے، جہاں گزشتہ چند ماہ میں اسی طرح کے کئی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاعات فوری طور پر شیئر کی جائیں۔
عقیل عرف راشد اور عبداللہ عرف منیب کے تعلق سے تفصیل حاصل کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ شیموگہ کرناٹک سے تعلق رکھنے والے شرپسند عناصر پہلے ہیرا گروپ میں نوکری کیلئے نام تبدیل کرکے داخل ہوئے تھے، بعد میں جھانسہ دیکر دیگر ذمہ داریاں بھی حاصل کرلیں، اول دن سے ان شرپسند عناصر کی نیتوں میں فتور دیکھا جا رہا تھا، مگر عوامی رائے مختلف ہونے کے خدشہ سے ان پر کارروائی نا ہو سکی، لیکن کمپنی کے شکوک و شبہات اس وقت بڑھ گئے جب عقیل عرف راشد اور عبداللہ عرف منیب نے دیگر عملہ سے کمپنی جائیدادوں کی تفصیلات اور زیراکس طلب کی، اس کے بعد عقیل عرف راشد اور عبداللہ عرف منیب کو کمپنی سے انتباہ جاری کرتے ہوئے خارج کردیا گیا، اس کے بعد سے بلیک میل کرنے اور دھمکیاں دینے و مقدمات کرکے پھنسانے کی واردات میں تیزی آگئی، عقیل عرف راشد اور عبداللہ عرف منیب کا ہیرا گروپ کی جائدادوں میں دراندازی کوئی پہلی بار نہیں ہوئی، بلکہ اس سے قبل ہیرا گروپ کے فیملی ممبران کے گھروں میں داخل ہوکر ہیرا گروپ کے تمام اہل خانہ کو اغوا کیا اور بندھک بنا لیا، عقیل عرف راشد اور عبداللہ عرف منیب کی ابتدائی شرارت اور بچکانی حرکت سمجھ کر معافی تلافی پر درگزر کر دیا گیا، لیکن اسی طرح کی دوسری واردات بلقیس منزل ہیرا گروپ سی ای او کی رہائش گاہ پر عقیل عرف راشد اور عبداللہ عرف منیب کی جانب درجنوں غنڈوں کے ساتھ انجام دیا گیا۔ اور بلقیس منزل کے چوکیداروں اور عملہ سے سی ای او ہیرا گروپ کی ذاتی رہائش گاہ اور تجوریوں تک پہنچانے کیلئے طاقت کا استعمال کیا گیا۔
عقیل عرف راشد اور عبداللہ عرف منیب نے ہیرا گروپ سی ای او سے لگ بھگ دس کروڑ روپئے سافٹ ویئر بنانے کے نام پر طلب کئے ہیں، جو کہ بلیک میل اور جھانسے کا ایک ناجائز قدم ہے، کیونکہ عقیل عرف راشد اور عبداللہ عرف منیب جیسے غنڈہ عناصر کے پاس ایسا کوئی علم نہیں ہے کہ وہ کروڑوں روپئے کا سافٹ ویئر تیار کر سکیں۔ پھروتی کے دس کروڑ روپئے طلب کرنے کے پیچھے عقیل عرف راشد اور عبداللہ عرف منیب کا ہیرا گروپ دفتر سے چرایا ہوا چیک ہے، جو ان شرپسند عناصر نے ہیرا گروپ دستاویز جمع کرنے کے وقت چرا کر رکھ لیا تھا ان چیک کی تعداد 19 ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ عقیل عرف راشد اور عبداللہ عرف منیب جیسے شرپسند عناصر کم عمری میں ایک بڑا لوٹ کرنے کیلئے مستعد ہیں، جنہیں ملک کے قانون اور انتظامیہ کا کوئی ڈر دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

