Delhi دہلی

غالب انسٹی ٹیوٹ میں بین الاقوامی جشن غالب تقریبات اختتام پذیر

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی جشن غالب تقریبات جس کا سلسلہ 26دسمبر سے شروع ہواتھا 28دسمبر کو اختتام پذیر ہوا۔ تقریبات کے تحت سہ روزہ بین الاقوامی سمینار ’منشی پریم چند: ذہن زمانہ اور آرٹ‘ کے تین اجلاس منعقد ہوئے۔ پہلے اجلاس کی صدارت جناب امیر مہدی نے کی۔ صدارتی تقریر کے دوران انہوں نے کہا پریم چند کو جن لوگوں نے پڑھااور لکھا وہ سب اس لائق نہیں ہے کہ اس کو مستند سمجھ لیاگیا۔ یہ سمینار اسی لےے منعقد ہوتے ہیں تاکہ مفید اور غیر مفید کو الگ کیا جاسکے۔ اس اجلاس میں جناب مقصود دانش نے ’پریم چند بیانیہ کے چند پہلو‘، ڈاکٹر فوزان احمد نے ’عربی میں پریم چند شناسی‘ ، محترمہ نازرین انصاری نے ’منشی پریم چند ذہن زمانہ اور آرٹ‘، جناب شاہد جمال نے ’پریم چند کا تصور انقلاب‘ کے موضوعات پر مقالات پیش کےے۔ اس جلسے کی نظامت ڈاکٹر شاداب شمیم نے کی۔ دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر مظہرمہدی نے کی۔ صدارتی تقریر میں انہوں نے کہاتکرار اپنی شرائط کے ساتط بری شے نہیں ہے۔اگر ایک سائنس داں ایک دریافت کرتاہے اور دوسرا سائنس داں بھی تجربے کے بعد اسی نتیجے پر پہنچاتو یہ تکرار نہیں ہے۔ تکرار اس وقت ہوتی ہے جب تجربے کے بغیرکہی بات کو دہرادیا جائے اس جلسے میں پروفیسرمحمد کاظم نے اردو ڈرامے کافن اور پریم چند کے ڈرامے اور تراجم، ڈاکٹر محمد مشتاق تجاروی نے’پریم چند اور جامعہ ملیہ اسلامیہ‘، ڈاکٹر پربھارت رنجن نے ’پریم چند کا کسان آج کے سندربھ میں‘ اور ڈاکٹر فیض اللہ خان نے ’فرنچ زبان میں پریم چند شناسی‘ کے موضوع پر مقالات پیش کےے۔ اس جلسے کی نظامت ڈاکٹر عبدالرزاق زیادی نے کی۔ تیسرے جلسے کی صدارت پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین اور ڈاکٹر محیا عبدرالرحمان نے کی۔ پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کہا۔ غیر ملکی لوگ جب پریم چند کو پڑھتے ہیں تو ان کے سامنے صرف زبان رکاوٹ نہیں ہوتی بلکہ تہذیب کافرق زیادہ بڑی رکاوٹ ہے۔ وہ لوگ اصل متن کے ساتھ تہذیب کا بھی مطالعہ کرتے ہیں۔ اسی طرح پریم چند کامطالعہ کتنا اہم ہوجاتاہے وہ بہت خاص چیز ہے۔ اس جلسے میں پروفیسر صغیر افراہیم نے ’پریم چند تنقید 1975سے 2025تک‘، جناب امیر مہدی نے ’منشی پریم چند ذہن زمانہ اور آرٹ، ڈاکٹر جتندر سری واستو نے ’رام ولاس پریم چند کے آلوچک‘ اور ڈاکٹر یورواصباحت نے ’نرملاکے کردار پر تبصرہ‘ کے عنوان سے مقالات پیش کےے۔ اس جلسے کی نظامت ڈاکٹر ندیم احمد نے کی۔ اختتامی جلسے کی صدارت جناب امیر مہدی نے کی اور جناب عبدالرحمن، ڈاکٹر خالد علوی، پروفیسر انورپاشا، ڈاکٹر جتندر سری واستو اور پروفیسر سرورالدی نے اظہار خیال کیا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے تمام مقالہ نگاروں ،صدور، ناظم اجلاس اور شرکا کاشکریہ ادا کیا۔ اختتامی اجلاس کے بعد جناب عباس حیدر نقوی کی ہدایت میںاے ایم کاردار کا تحریر کردہ ڈرامہ ’غالب کی واپسی‘ پیش کیاگیا۔
تصویر میں دائیں سے: ڈاکٹر جتندر سری واستو، ڈاکٹر ندیم احمد، جناب امیر مہدی، ڈاکٹر محیا عبدالرحمن، پروفیسر خواجہ محمد اکرام، پروفیسر صغیر افراہیم اور ڈاکٹر یورواصباحت۔

Related posts

تمام ممبران اسمبلی سے امید ، سدن میں دہلی والوں کی توقعات پر پورا اترے گی اور اپنی ذمہ داری پوری کرے گی: آتشی

Paigam Madre Watan

میر صادق و میر جعفر کے ہاتھوں حیدر آباد کے مسلمانوں کے مددگار چار مینار کو آپریٹیوبینک کی بربادی

Paigam Madre Watan

ذات پات کے ظلم سے تنگ آکر دلت آئی پی ایس افسر نے خودکشی کرلی، مجرموں کو سخت سزا ملنی چاہیے: کیجریوال

Paigam Madre Watan

Leave a Comment