Delhi دہلی

عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا یوم جمہوریہ پر خصوصی انٹرویو

خواتین کے حقوق، آئین کی اہمیت اور سماجی انصاف پر زور

نئی دہلی (خصوصی رپورٹ : مطیع الرحمن عزیز) – ہیرا گروپ آف کمپنیز کی سی ای او اور آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی (AIMEP) کی قومی صدر ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے یوم جمہوریہ کے موقع پر ایک خصوصی انٹرویو میں خواتین کے حقوق، بھارتی آئین کی اہمیت اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف جدوجہد پر کھل کر بات کی۔ یہ انٹرویو یوٹیوب چینل "مطیع الرحمن عزیز” پر اپ لوڈ کیا گیا ہے، جو 26 جنوری 2026 کو ریکارڈ کیا گیا تھا اور اب تک لاکھوںنا ظریں تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے اپنی ذاتی زندگی کی جدوجہد سے لے کر آئینی حقوق کی تشریح تک، متعدد موضوعات پر روشنی ڈالی اور نوجوانوں کو آئین کا مطالعہ کرنے کی تلقین کی۔
انٹرویو کا آغاز ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی بچپن کی یادوں سے ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ آندھرا پردیش کے چتور ضلع کے ایک گاوں میں پیدا ہوئیں اور تروپتی میں پلی بڑھیں۔ اس دور میں لڑکیوں کو خاندان کے لیے بوجھ سمجھا جاتا تھا۔ "لڑکیاں 12-13 سال کی عمر میں شادی کر دی جاتی تھیں، جبکہ لڑکوں کو تعلیم اور ترجیح دی جاتی تھی،” ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے کہا کہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں اور کمیونٹی میں لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کا ذکر کیا، جیسے جہیز کی وجہ سے شادیوں کا مسئلہ اور لڑکیوں کو کمتر سمجھنا۔ اس ناانصافی نے انہیں کم عمری میں ہی لڑکیوں کے حقوق کے لیے لڑنے کی ترغیب دی۔ خفیہ طور پر لڑکوں کو پڑھائے جانے والے اسباق سیکھ کر انہوں نے جنسی مساوات پر سوال اٹھائے۔ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے بتایا کہ 16 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے انہوں نے قرآن پاک اور بھارتی آئین سے استدلال کرنا شروع کر دیا۔ "آئین سب کو برابر حقوق دیتا ہے، پھر لڑکیوں کو کیوں محروم رکھا جاتا ہے؟” انہوں نے پوچھا۔ خاص طور پر مسلم کمیونٹی میں لڑکیوں کی تعلیم اور بااختیار بنانے کے خلاف مزاحمت کا سامنا کرتے ہوئے، انہوں نے گاوں گاوں جا کر آگاہی مہم چلائی۔ والدین اور بزرگوں کو آئینی حقوق کی وضاحت کی، جیسے شادی میں رضامندی، تعلیم، روزگار اور سیاست میں شرکت کا حق۔ متعدد ریاستوں کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے اسکول، کالج قائم کیے اور اپنے کاروبار "ہیرا گولڈ” میں 95 فیصد خواتین کو ملازمتیں دیں۔ "سماج نے خواتین پر ‘حد’ لگا دی ہے، لیکن میں نے اسے توڑا،” انہوں نے فخر سے کہا۔ یوم جمہوریہ (26 جنوری) کے موقع پر ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے آئین کی اہمیت پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ آزادی کے بعد 1947 سے 1950 تک ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اور ایک کمیٹی نے آئین تیار کیا، جس میں ہندو اور مسلم دونوں شامل تھے۔
آئین کی برتری کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حکومت، سیاستدانوں اور ایجنسیوں سے بالاتر ہے۔ کلیدی آرٹیکلز کی تشریح کی، جیسے آرٹیکل 14 (مساوات)، آرٹیکل 21 (زندگی اور آزادی کا حق)، آرٹیکل 19 (آزادی کا حق)، اور آرٹیکل 32 (عدالتی چارہ جوئی کا حق)۔ "آئین میں عدالتی جائزہ، بنیادی حقوق اور امتیازی سلوک سے تحفظ ہے،” انہوں نے واضح کیا۔ شہریوں کو بااختیار بنانے کے لیے ان آرٹیکلز کا علم ضروری ہے۔ انٹرویو میں انصاف کے نظام پر بھی تفصیلی بات ہوئی۔ ڈاکٹر شیخ نے عدالتوں کی درجہ بندی بیان کی: سیشن کورٹ، ہائی کورٹ (آرٹیکل 226) اور سپریم کورٹ (آرٹیکل 132)۔ "ٹریل میں ثبوت ضروری ہے، بغیر ثبوت سزا نہیں دی جا سکتی،” انہوں نے کہا۔ پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن (PIL) کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ عوامی نقصان کے لیے یہ استعمال کیا جا سکتا ہے، اور غلطیوں پر معاوضہ مل سکتا ہے۔ میڈیا ٹرائل سے تحفظ، گرفتاری کے قوانین (وارنٹ کے بغیر صرف ہنگامی صورتوں میں)، حراست میں حقوق (خواتین کے لیے دو خاتون افسران، بنیادی سہولیات) اور انسانی حقوق کمیشن (NHRC) کی اہمیت پر زور دیا۔ "ناانصافی کے خلاف عدالت یا کمیشن جا سکتے ہیں،” انہوں نے مشورہ دیا۔ خواتین کی بااختیاری پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے کہا کہ گاوں میں 50 فیصد لڑکیاں اور خواتین اب بھی اپنے حقوق سے ناواقف ہیں اور ہراسانی کا شکار ہیں۔ "نوجوان آئین پڑھیں اور اس پر عمل کریں تاکہ محفوظ اور انصاف پسند معاشرہ بنے۔” انہوں نے محبت، مساوات اور انسانیت پھیلانے کی اپیل کی، کیونکہ بھارت متنوع مذاہب کا گلدستہ ہے جو ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔ جمہوریت کی حفاظت کے لیے شہریوں کی کارروائی ضروری ہے، کرپشن کو مسترد کریں اور CBI، ACB جیسی ایجنسیوں کا استعمال کریں۔ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے اپنی ذاتی جدوجہد کا ذکر کیا کہ دباو کا سامنا کیا لیکن آئین سے طاقت ملی۔ AIMEP کی قومی صدر کے طور پر، جس کے 25 لاکھ ممبران ہیں، انہوں نے خواتین کی سیاست میں شرکت (33 فیصد ریزرویشن) اور کاروبار میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کی۔ "جھوٹ سے بچیں، سچ کے ساتھ لڑیں،” انہوں نے نصیحت کی۔ عدلیہ کے مستقبل پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مزید ججز، تیز ٹرائل اور نوجوانوں کی دلچسپی سے بہتری آئے گی۔یہ انٹرویو آئینی خواندگی کو بااختیاری، انصاف اور قومی طاقت کی کلید کے طور پر پیش کرتا ہے، خاص طور پر خواتین کے حقوق اور مساوات پر توجہ کے ساتھ۔ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی یہ گفتگو جمہوریہ دن کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور سماجی تبدیلی کی ترغیب دیتی ہے۔

Related posts

IGNOU Launches Channel-Based Counselling in Manipuri   

Paigam Madre Watan

عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی کامیابی پر مخالفین کی گھناونی سازشیں

Paigam Madre Watan

हीरा ग्रुप के निवेशकों के विरोध के बाद ईडी की कार्रवाई पर ब्रेक, स्पष्ट निर्देश लेने सुप्रीम कोर्ट पहुँचे

Paigam Madre Watan

Leave a Comment