نئی دہلی، جنوبی دہلی کے علاقہ جیت پور میں واقع مایہ ناز تعلیمی و تربیتی ادارہ اقرا انٹرنیشنل اسکول کے زیرِ اہتمام مسابقہ? تلاوتِ کلامِ پاک اور حفظِ دعیۂ ماثورہ نہایت کامیابی اور روحانی فضا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس بابرکت مسابقہ میں علاقہ جیت پور اور اس کے اطراف کی مساجد میں قائم صباحی و مسائی مکاتب، دیگر تعلیمی اداروں، اسلامی مدارس اور عصری اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے علاوہ مرد و خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور قرآنِ کریم سے اپنی والہانہ محبت اور قلبی وابستگی کا عملی ثبوت پیش کیا۔
پریس ریلیز کے مطابق یہ مسابقہ تین زمروں پر مشتمل تھا، جن میں فیصلہ کرنے کے فرائض معتبر حفاظِ کرام اور قرائِ عظام نے انجام دیے۔ پہلے زمرے میں عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ، دوسرے زمرے میں عربی مدارس کے طلبہ جبکہ تیسرے زمرے میں عام مرد و خواتین کے لیے مقابلہ منعقد کیا گیا۔
مسابقہ کے اختتامی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اقرا انٹرنیشنل اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد اظہر مدنی نے کہا کہ بلاشبہ قرآنِ کریم رشد و ہدایت کی وہ عظیم الشان اور ہمہ گیر کتاب ہے جو انسانیت کو صحیح راستہ دکھاتی ہے اور افراد و معاشروں کے درمیان باہمی الفت و محبت، اتحاد و یگانگت، رواداری اور امن و سلامتی کو فروغ دیتی ہے۔ قرآنِ کریم کی تعلیمات نہ صرف روحانی اصلاح کا ذریعہ ہیں بلکہ ایک صالح، پرامن اور باوقار معاشرے کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم اس کتابِ عظمت کو محض تلاوت تک محدود رکھنے کے بجائے اس کے احکام و ہدایات کو دل و جان سے قبول کر کے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنا لیں تو یقیناً ہم اپنی کھوئی ہوئی عظمت و وقار کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں اور دین و دنیا کے ہر میدان میں کامیابی، فلاح اور سربلندی کے منازل طے کر سکتے ہیں۔
مولانا محمد اظہر مدنی نے اقرا انٹرنیشنل اسکول کی دینی و تعلیمی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کا یہ امتیاز رہا ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً ایسے دینی، علمی اور اصلاحی پروگراموں کا انعقاد کرتا رہتا ہے جن کے ذریعے معاشرے میں دینِ اسلام سے مضبوط اور پائیدار رشتہ استوار کیا جا سکے، اور بالخصوص نونہالانِ قوم و ملت کے دلوں میں کتاب و سنت کی محبت، شعور اور عملی وابستگی پیدا کی جا سکے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر مولانا نے اس بابرکت مسابقہ میں شرکت کرنے والے تمام طلبہ و طالبات، مرد و خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں دلی مبارک باد پیش کی اور ان کے روشن مستقبل، اخلاقی بلندی، اور دین و دنیا میں ہمہ گیر کامیابی کے لیے خصوصی نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا۔
اس موقع پر مسابقہ کے کنوینر مولانا سعید الرحمن نورالعین سنابلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس مسابقہ کے انعقاد کا بنیادی مقصد نئی نسل کو قرآنِ مجید سے جوڑنا اور اس کے پیغام سے روشناس کرانا ہے، کیونکہ قرآنِ پاک ہی وہ کتابِ ہدایت ہے جس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہم حقیقی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مسابقہ میں شریک طلبہ و طالبات کی کارکردگی نہایت حوصلہ افزا اور قابلِ ستائش رہی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اس مسابقہ میں حصہ لینے والے طلبہ و طالبات کو جلسۂ سیرت النبی ﷺ کے موقع پر تشجیعی انعامات سے نوازا جائے گا۔ یہ عظیم الشان جلسہ اقرا انٹرنیشنل اسکول کے گراونڈ میں یکم فروری 2026ء بروز اتواربعد نماز مغرب منعقد ہوگا۔ اسی موقع پر معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم سے فارغ ہونے والے حفاظِ کرام کی دستار بندی اور باوقار تکریم بھی عمل میں لائی جائے گی۔اختتامی پروگرام میں جن معزز اور اہم شخصیات نے شرکت کی ان میں قاری عبدالرحمان ثاقبی، قاری محمد امروز صوفی، وسیم ریاضی، معروف سرجن ڈاکٹر اسعد، قاری عبدالواحد، مولانا سیف سراج فیضی اور دیگر علماء و قراء شامل تھے، جنہوں نے پروگرام کو اپنی موجودگی سے رونق بخشی۔

