نئی دہلی، عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے ایپسٹین معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے کئی سوالات کے جواب طلب کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے پارلیمنٹ میں ایپسٹین کا معاملہ اٹھایا تو آپ ناراض ہو گئے۔ اس لیے میرے چند سوال ہیں۔ ڈیجیٹل انڈیا لانے سے آٹھ ماہ پہلے ہردیپ سنگھ پوری ایپسٹین سے اس منصوبے پر کیسے گفتگو کر رہے تھے؟ کیا آپ نے انہیں اس کی اطلاع دی تھی؟ کیا یہ ملک کے ساتھ دھوکہ نہیں ہے؟ ہردیپ پوری نے کہا کہ ان کی ایپسٹین سے صرف چار بار ملاقات ہوئی، جبکہ حقیقت میں 14 ملاقاتیں ہوئیں۔ آخر انہوں نے جھوٹ کیوں بولا؟ کیا آپ اور اسرائیل کے وزیر اعظم کی ملاقات میں ایپسٹین کا کوئی کردار تھا؟ ملک ان سوالوں کا جواب چاہتا ہے۔سنجے سنگھ نے کہا کہ جب میں نے پارلیمنٹ میں ایپسٹین فائل کا معاملہ اٹھایا تو بی جے پی کے اراکینِ پارلیمنٹ شدید برہم ہو گئے اور شور شرابہ کرنے لگے۔ اس کے بعد وزیر اعظم آئے اور عام آدمی پارٹی اور اروند کیجریوال پر حملہ کیا۔ میرے خلاف بھی کئی تبصرے کیے گئے۔ آخر ایپسٹین فائل کا نام لیتے ہی بی جے پی لیڈر اتنے گھبرا کیوں جاتے ہیں؟ اس فائل میں ایسا کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی شدید دباؤ میں نظر آتے ہیں؟ کیا اسی دباؤ میں ایک ایسی تجارتی ڈیل کی گئی جو بھارت کے کروڑوں عوام کے مفادات کے خلاف ہے؟ وزیر اعظم آخر اس فائل میں کیا چھپانا چاہتے ہیں؟ سنجے سنگھ نے کہا کہ مرکزی وزیر ہردیپ پوری نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ان کی ایپسٹین سے تین سے چار بار ملاقات ہوئی ہے، لیکن اب جو انکشافات سامنے آئے ہیں ان کے مطابق یہ تعداد 14 ہے۔ انہوں نے اس وقت بھی ملاقات کی جب وہ کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں تھے، یعنی حکومتِ ہند کے کسی منصب پر نہ ہوتے ہوئے بھی انہوں نے یہ ملاقاتیں کیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ ڈیجیٹل انڈیا بھارت میں آٹھ ماہ بعد نافذ ہوتا ہے، لیکن اس کی معلومات ہردیپ پوری کو پہلے ہی حاصل ہو جاتی ہیں، جبکہ وہ اس وقت نہ وزیر تھے اور نہ کسی سرکاری منصب پر۔ اگر حکومت آٹھ ماہ بعد یہ منصوبہ لانے والی تھی تو اس کی پیشگی اطلاع کیسے دی گئی؟ کیا یہ ملک کی خودمختاری کے ساتھ کھلواڑ نہیں؟ کیا یہ ملک سے غداری نہیں؟ ایک ایسی سرکاری اسکیم جسے وزیر اعظم نریندر مودی آٹھ ماہ بعد پیش کرنے والے تھے، اس کی تفصیلات ہردیپ پوری کو پہلے سے کیسے معلوم ہوئیں؟ اور وہ ایپسٹین جیسے کمسن بچوں کے جنسی استحصال کے مجرم سے اس پر گفتگو کیوں کر رہے تھے؟ سنجے سنگھ نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم نریندر مودی اور ہردیپ پوری نے ملک کے ساتھ دھوکہ نہیں کیا؟ اگر کوئی منصوبہ کابینہ میں منظور ہونا ہو، اس پر بجٹ پیش ہونا ہو یا بل لایا جانا ہو، تو اس کی معلومات کسی غیر ملکی خطرناک مجرم کو پہلے دے دینا کیا ملک سے غداری نہیں ہے؟ کیا وزیر اعظم کو اس پر جواب نہیں دینا چاہیے؟ اور ہردیپ پوری، جنہوں نے ملاقاتوں کی تعداد کے بارے میں غلط بیانی کی، کیا ان کا استعفیٰ نہیں ہونا چاہیے؟انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ جو تجارتی معاہدہ ہوا وہ کس دباؤ میں ہوا؟ اڈانی پر بدعنوانی کے الزامات ہیں اور انہیں امریکہ سے سمن ملا ہے۔ ہردیپ پوری کا نام مسلسل ایپسٹین فائل میں آ رہا ہے۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم اور اسرائیل کے وزیر اعظم کی ملاقات میں بھی ایپسٹین کا کردار تھا۔ انیل امبانی کا نام بھی سامنے آیا ہے۔سنجے سنگھ نے کہا کہ ان تمام سوالات پر ملک میں اتنی خاموشی کیوں ہے؟ عوام کو بار بار یہ سوال اٹھانے ہوں گے، کیونکہ یہ باتیں لوگوں تک پہنچنے نہیں دی جائیں گی۔ اس معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور ہردیپ پوری سے سخت سوال پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔آخر میں سنجے سنگھ نے سب سے اپیل کی کہ اس سوال کو ہر شہری تک پہنچایا جائے۔ ملک کے ساتھ مبینہ دھوکہ اور بے وفائی کی حقیقت عوام تک پہنچائی جائے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ لکھیں، ویڈیوز بنائیں اور حکومت سے اپنے سوالات پوچھیں، تاکہ ہر شخص تک یہ بات پہنچے کہ ایپسٹین فائل کی وجہ سے بھارت کے وزیر اعظم پر دباؤ ہے اور ملک کے تجارتی اور زرعی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

