Delhi دہلی

اے آئی سمٹ میں بی جے پی حکومت ٹریفک کنٹرول میں ناکام، دہلی شدید جام سے پریشان: سوربھ بھاردواج

نئی دہلی، عام آدمی پارٹی نے دہلی میں جاری اے آئی سمٹ کے دوران لگنے والے شدید ٹریفک جام پر مرکزی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کے ٹریفک انتظامات پر سوال اٹھائے ہیں۔ پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے فیروز شاہ روڈ پر جام میں پھنسے ہوئے گاڑیوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت اے آئی سمٹ کے دوران ٹریفک کنٹرول میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث دہلی کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آخر ہم بیرونِ ملک سے آئے مہمانوں کو کیا دکھا رہے ہیں؟ کیا حکومت کے پاس ٹریفک مینجمنٹ کے حوالے سے بنیادی معلومات بھی موجود نہیں ہیں؟ گزشتہ تین دنوں سے سینٹرل دہلی، پرگتی میدان اور فیروز شاہ روڈ کے اطراف شدید ٹریفک جام کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ ٹریفک پولیس مرکزی حکومت کے ماتحت ہے، اس کے باوجود غیر ملکی مہمان گھنٹوں جام میں پھنسنے پر مجبور ہیں۔بدھ کے روز سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اے آئی سمٹ میں کیا ہو رہا ہے، یہ اپنی جگہ، لیکن سینٹرل دہلی میں گزشتہ تین دنوں سے افراتفری کا عالم ہے۔ کیب دستیاب نہیں ہو رہی ہے اور اگر ہو بھی جائے تو سینٹرل دہلی، پرگتی میدان اور فیروز شاہ روڈ کے اطراف ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک جام میں پھنسنا پڑ رہا ہے۔ دوپہر کا وقت عام طور پر مصروف نہیں ہوتا، مگر اب دوپہر میں بھی شدید ٹریفک جام دیکھنے کو مل رہا ہے۔سوربھ بھاردواج نے مرکزی بی جے پی حکومت کے انتظامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بیرون ملک سے بڑے بڑے افراد کو مدعو کیا ہے، لیکن وہ انہیں کیا دکھا رہی ہے؟ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) تو دور کی بات ہے، حکومت کے پاس بیسک انٹیلیجنس یعنی بنیادی سمجھ بوجھ بھی نہیں کہ وہ ٹریفک کو منظم کر سکے۔ یہ دہلی پولیس اور دہلی ٹریفک پولیس کا حال ہے، جو براہِ راست مرکزی حکومت کے ماتحت آتی ہیں۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہیں اور ٹریفک تقریباً جام ہو چکا ہے۔اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منگل کی شام میں نے شام چھ بجے دفتر سے کیب منگوانے کی کوشش کی، مگر سینٹرل دہلی سے مجھے سات بجے کے بعد کیب دستیاب ہو سکی، وہ بھی ترجیحی بنیاد پر بکنگ کے بعد۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک سے آنے والے مہمانوں کو بی جے پی حکومت آخر کیا تاثر دینا چاہتی ہے؟ فیروز شاہ روڈ، جہاں بڑے بڑے وزراء اور ارکانِ پارلیمنٹ رہتے ہیں، وہاں بھی صورتحال انتہائی خراب ہے۔انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں لوک سبھا رکن پربھاکر ریڈی اور راجیہ سبھا رکن اعلامارم کریم جیسے ارکانِ پارلیمنٹ کی رہائش گاہیں موجود ہیں، مگر وہاں بھی بدترین ٹریفک جام ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں وہاں سے لائیو ویڈیو کرنا چاہ رہا تھا، مگر شدید ٹریفک کی وجہ سے سگنل تک دستیاب نہیں ہو رہا تھا۔سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ صورتحال یہ ہے کہ گاڑیاں اور ان کے ٹائر تک حرکت نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے نیلی نمبر پلیٹ والی ایک گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی سفارت خانے کی گاڑی ہے جو جام میں پھنسی ہوئی ہے، جس سے دہلی کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ہم اے آئی سمٹ میں آنے والے غیر ملکی مہمانوں کو کیا دکھا رہے ہیں؟ مرکزی حکومت کو اس سمٹ کے اطراف ٹریفک مینجمنٹ کے لیے کم از کم بنیادی معلومات کی ضرورت ہے۔ بنیادی سمجھ بوجھ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ دہلی ٹریفک پولیس براہِ راست مرکزی حکومت کے ماتحت کام کرتی ہے۔

Related posts

اُردو کو بچانا تمام اہلِ وطن کی مشترکہ ذمہ داری ہے

Paigam Madre Watan

ہیرا گروپ کی جانچ کرنے والی ایجنسیوں پر دھاندلی کا شبہ

Paigam Madre Watan

جنگ بندی کا فیصلہ حکومت ہند کا لائق ستائش قدم:ڈاکٹر نوہیرا شیخ

Paigam Madre Watan

Leave a Comment