Blog

ہیرا گروپ کے ساتھ برسوں سے جاری ظلم کی عظیم داستان

14 سال پولس،9سال ای ڈی، 9سال سی آئی ڈی، 9سال ایس ایف آئی او ، 5ریاستوں کی 15ای او ڈبلیو جانچ، پر کوئی رپورٹ نہیں
ملک بھر کی مشترکہ ایجنسیوں کی کارروائیاں، ہنوز ثبوت ندارد

حیدرآباد/نئی دہلی، (رپورٹ : مطیع الرحمن عزیز) ہیرا گروپ آف کمپنیز اور سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے ساتھ قانونی کارروائی کے نام پر لگ بھگ پندرہ سال سے جاری نا انصافی اور ظلم کی عظیم داستان سننے اور جاننے والوں کے لئے عجوبہ محسوس ہو گا، مگر ہمارے ملک میں نچلی عدالتوں سے لے کر اونچی عدالتوں تک یہی نا انصافی اور ظلم کی داستان لگ بھگ پندرہ سالوں سے جاری ہے، تفصیل کے طور پر دیکھیں تو معلو ہو گا کہ حیدر آباد سے ممبر پارلیمنٹ اسد اویسی کے ایف آئی آر سے شروع ہوئی یہ نا انصافی اور عدالتوں کے ظلم کی داستان بغیر رکے اور بغیر رکے چلی آ رہی ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے ایک قول کے مطابق قانون وہ مکڑی کا جالا ہے جس میں مضبوط و توانا جانور توڑ پھوڑ کر نکل جاتے ہیں، مگر کمزور اور ناتواں جاندار اس میں پھنس کر ہلاک ہوتے رہتے ہیں۔ ایجنسیوں کی تفتیش کی بات کریں تو معلوم ہو گا کہ چودہ سال تک پولس جانچ ہوئی مگر ابھی تک فائنل رپورٹ پیش نہیں کی گئی، 9سال تک انفارسمنٹ ڈائرکٹوریٹ جانچ چلی مگر فائنل رپورٹ اب تک پیش نہیں کی گئی، سی آئی ڈی 9 سال جانچ چلی مگر فائنل رپورٹ اب تک پیش نہیں کی گئی، پانچ ریاستوں کی 15 ای او ڈبلیو (ایکونومک آفنس ونگ) کی جانچ چلی اور سب کے سب غیر فعال یعنی ڈی ایکٹیویٹ ہو گئیں۔ اسی طرح کی ہراسانی کے مختلف طریقے اختیار کئے گئے، جس میں سے 42 اعلیٰ آفیسرس کے ذریعہ 28 گرفتاریاں لی گئیں، 235 دن پولس تحویل میں رکھا گیا، اور ڈھائی سال جوڈیشیل کسٹیڈی لی گئی۔ ان سارے مظالم کے درمیان عوامی سطح پر جو اثرہوئے اس میں ہیرا گروپ کے تمام بزنس کو نیست و نابود کر دیا گیا، ہیرا گروپ کے مختلف دفاتر میں کام کرنے والے ہزاروں افراد بے روزگار ہو گئے، ہیرا گروپ میں سرمایہ کاری کر کے 25 سال تک روزگار پانے والے لاکھوں افراد متاثر ہو گئے۔ قانونی طور پر ہیرا گروپ پر جو چارجز لگائے گئے ان میں آئی پی سی 406/409، آئی پی سی 420/506 نیز آئی پی سی 120بی شامل ہیں مگر آج کی تاریخ تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ غیرقانونی طور پر جائیدادوں کو سیز کیا گیا، بینک اکاﺅنٹ کو فریز کیا گیا، فرضی تہمت اور بہتان تراشیاں اور غلط الزامات عائد کئے گئے۔
تفصیل کے مطابق ہیرا گروپ آف کمپنیز اور اس کی سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے ساتھ قانونی کارروائی کے نام پر لگ بھگ پندرہ سال سے جاری ناانصافی اور ظلم کی یہ داستان سننے والوں کے لیے عجوبہ اور حیرت کا باعث بنتی ہے۔ ہمارے ملک میں نچلی عدالتوں سے لے کر اعلیٰ عدالتوں تک یہ ناانصافی اور ظلم کی داستان مسلسل جاری ہے۔ یہ کہاوت بالکل سچ ثابت ہو رہی ہے کہ "قانون وہ مکڑی کا جالا ہے جس میں مضبوط اور توانا جانور توڑ پھوڑ کر نکل جاتے ہیں، مگر کمزور اور ناتواں جاندار اس میں پھنس کر ہلاک ہوتے رہتے ہیں”۔ یہ ناانصافی حیدرآباد سے ممبر پارلیمنٹ اسد اویسی کی درج کرائی گئی ایف آئی آر سے شروع ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک یہ سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے چلا آ رہا ہے۔ایجنسیوں کی طویل جانچ اور نتیجہ صفرہے، ہیرا گروپ کے خلاف مختلف ایجنسیوں نے برسوں تک تفتیش کی، مگر آج تک کوئی حتمی رپورٹ پیش نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی ٹھوس ثبوت سامنے آیا، پولیس جانچ: 14 سال سے جاری ، ابھی تک فائنل رپورٹ پیش نہیں ہوئی۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) 9 سال سے جانچ جاری، فائنل رپورٹ صفر۔ سی آئی ڈی: 9 سال کی تفتیش، اب تک کوئی حتمی رپورٹ نہیں۔ایس ایف آئی او (SFIO): 9 سال سے تحقیقات، نتیجہ اب تک صفر۔ پانچ ریاستوں کی 15 ای او ڈبلیو (Economic Offences Wing): تمام کی تمام جانچیں غیر فعال (ڈی ایکٹیویٹ) ہو چکی ہیں۔ملک بھر کی مشترکہ ایجنسیوں نے مل کر کارروائیاں کیں، مگر اب تک ثبوت ندارد۔ ہراسانی کے مختلف طریقے (Harassment Tactics) جانچ کے نام پر ہیرا گروپ اور اس کی قیادت کے ساتھ ہراسانی کے متعدد طریقے اختیار کیے گئے: 42 اعلیٰ افسران کے ذریعے 28 گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔235 دن پولس تحویل (Police Custody) میں رکھا گیا۔ڈھائی سال جوڈیشیل کسٹیڈی (Judicial Custody) میں رکھا گیا۔اس کے علاوہ غیر قانونی طور پر جائیدادوں کو سیز کیا گیا، بینک اکاونٹس فریز کر دیے گئے، فرضی تہمتیں لگائی گئیں، بہتان تراشے گئے اور غلط الزامات عائد کیے گئے۔ ہیرا گروپ پر عائد کیے گئے قانونی چارجز یہ ہیں:آئی پی سی 406/409 (فساد امانت)آئی پی سی 420/506 (دھوکہ دہی اور دھمکی)آئی پی سی 120 بی (سازش)مگر آج کی تاریخ تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ ہیرا گروپ کا پورا بزنس نیست و نابود کر دیا گیا۔مختلف دفاتر میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین بے روزگار ہو گئے۔25 سال سے ہیرا گروپ میں سرمایہ کاری کرنے والے لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔یہ صرف ایک کمپنی یا ایک شخص کے ساتھ نہیں، بلکہ لاکھوں عام سرمایہ کاروں اور ہزاروں خاندانوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلا جا رہا ظلم ہے۔ پندرہ سال سے جاری یہ تفتیشی مہم جوئی اب تک صرف دباو، گرفتاریوں اور جائیدادوں کی ضبطی تک محدود رہی ہے، جبکہ کوئی ٹھوس ثبوت یا حتمی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ کیا یہ انصاف ہے یا صرف ایک طاقتور "مکڑی کے جالے” کا کھیل؟ہیرا گروپ اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے ساتھ جاری یہ ظلم کی داستان ابھی تک جاری ہے اور عدالتیں اسے روکنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔

Related posts

 ای ڈی اور اس کے حمایتی محکمہ جات ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی منظم تباہی کے مرکزی کردار

Paigam Madre Watan

فلم "فرے” کا "گھر پہ پارٹی” ٹریک آپ کی پارٹی میں مزید جوش و خروش پیدا کرے گا

Paigam Madre Watan

’’امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی‘‘کے موضوع پر ڈائیلاگ کا انعقاد

Paigam Madre Watan