نئی دہلی : قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان اور شعبۂ فارسی (شبینہ)، ذاکر حسین دہلی کالج کے باہمی اشتراک سے چوتھا امیر حسن عابدی میموریل لیکچر/پینل ڈسکشن ذاکر حسین دہلی کالج کے سمینار ہال میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں فارسی زبان و ادب کے طلبہ، اساتذہ، ریسرچ اسکالرز کے علاوہ دیگر شعبہ جات کے اساتذہ و طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر علیم اشرف خان (صدر شعبۂ فارسی، دہلی یونیورسٹی) نے امیر حسن عابدی کی حیات و خدمات پر نہایت بصیرت افروز گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ امیر حسن عابدی جیسی نابغۂ روزگار شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ جس انداز سے کام کرتے تھے اور جس محنت و لگن سے تحقیقی خدمات انجام دیتے تھے، وہ واقعی قابلِ تقلید ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عابدی صاحب نے تحقیق کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن کے طور پر اختیار کیا اور اپنی زندگی علم کی تلاش اور اس کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔ ان کی علمی دیانت، تحقیقی بصیرت اور موضوع سے گہری وابستگی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ فارسی زبان و ادب کے ممتاز اسکالر اور سابق صدر شعبۂ فارسی، دہلی یونیورسٹی پروفیسر چندر شیکھر (آن لائن) نے کہا کہ امیر حسن عابدی نہایت بااخلاق اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے شاگردوں کی رہنمائی کرتے اور انھیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عابدی صاحب نے فارسی مخطوطات کے حوالے سے گراں قدر خدمات انجام دیں اور ہندوستان میں فارسی ادب کی تاریخ کو ازسرِنو زندہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عابدی صاحب کی علمی میراث آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے جس سے استفادہ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ پروفیسر وجیہ الدین علوی (آن لائن) نے کہا کہ عابدی صاحب کی خدمات بے حد گراں قدر ہیں۔ وہ بجا طور پر ایک چلتی پھرتی لائبریری تھے۔ وہ ہمیشہ مخطوطات کی تلاش میں رہتے اور اپنے شاگردوں کو بھی اس جانب راغب کرتے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عابدی صاحب نے تحقیق کے میدان میں جستجو، صبر اور استقامت کی جو مثال قائم کی، وہ کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان کی شخصیت علم دوستی اور تحقیقی انہماک کی روشن علامت تھی۔ پروفیسر عراق رضا زیدی (سابق صدر شعبۂ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے کہا کہ امیر حسن عابدی نے فارسی زبان و ادب کے حوالے سے اتنا وسیع کام کیا ہے کہ اسے الفاظ میں سمیٹنا مشکل ہے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی فارسی زبان کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ پروفیسر سید کلیم اصغر (صدر شعبۂ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے امیر حسن عابدی سے اپنی پہلی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نہایت خوشگوار اور متاثر کن تجربہ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ عابدی صاحب نے ہندوستان کے علاوہ ایران، افغانستان اور دنیا کی مختلف لائبریریوں کا سفر کیا اور نایاب مخطوطات کی تلاش میں ہمیشہ سرگرم رہے۔ وہ ہمیشہ نئے اور اچھوتے موضوعات کا انتخاب کرتے اور تحقیق میں جدت پیدا کرتے تھے۔ پروفیسر شمیم الحق صدیقی نے بھی عابدی صاحب کے ساتھ گزارے گئے لمحات کو یاد کرتے ہوئے ان کے کام کرنے کے جنون اور غیر معمولی محنت کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ عابدی صاحب کا اندازِ کار انتہائی منظم اور سنجیدہ تھا، ان کی علمی سنجیدگی اور مستقل مزاجی ہر محقق کے لیے قابلِ تقلید ہے۔ اس کے علاوہ پروفیسر جمیل الرحمٰن ، جناب سہیل عابدی، ڈاکٹر شعیب رضا وارثی، ڈاکٹر مہتاب جہاں، ڈاکٹر زین العبا اور ڈاکٹر عمران چودھری نے بھی امیر حسن عابدی کی حیات اور ادبی خدمات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر خورشید احمد نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی، جبکہ شکریے کی رسم ڈاکٹر ممتاز احمد نے ادا کی۔ اس موقعے پر پروفیسر محمود فیاض کی مرتبہ کتاب ‘امیر حسن عابدی خطبات’ کا اجرا بھی عمل میں آیا .مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امیر حسن عابدی کے علمی مشن کو آگے بڑھایا جائے گا اور فارسی زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

