Urdu Literature & A.I. اردو ادب اور اے آٸ

 افسانہ ” کاکروچ” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ 

 افسانہ ” کاکروچ” پر مکالمہ
اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ 
حیدرقریشی کا افسانہ 
"کاکروچ”
 
 
حیدرقریشی :
بشارت صاحب! السلام عليكم
آج افسانہ "کاکروچ” پیش کر رہا ہوں ۔ ایٹمی جنگ کے بعد کی فضا کے موضوع پر میرا پہلا افسانہ "حوا کی تلاش” تھا۔یہ 1980ء میں لکھا گیا اور "اوراق” لاہور کے شمارہ فروری،مارچ 1981ء میں شائع ہوا۔اسی موضوع پر میرا دوسرا افسانہ "گلاب شہزادے کی کہانی ” بھی "اوراق” لاہور شمارہ اپریل،مئی 1982ء میں شائع ہوا ۔آپ ان دونوں افسانوں کا تجزیہ کر چکے ہیں اور ہمارا مکالمہ بھی ہو چکا ہے۔ "حواکی تلاش” کی اشاعت کے بعد اسے پسند کرنے کے ساتھ بعض دوستوں نے یہ سوال کیا کہ جنگ میں جو کردار زندہ بچے ہیں انہیں سائینسی طورپر کیسے بچایا جاسکتا ہے ۔ تب میں نے اس موضوع پر سائنسی تناظر میں غور کرنا شروع کیا۔میں آرٹس کا طالب علم اب ایٹم کی ساخت اور کار کردگی کے بارے میں کیا جانوں،لیکن افسانے کی دُھن میں،مجھے اسے سمجھنا پڑا اور پھر افسانہ "کاکروچ” لکھا گیا۔ سوال کیے جانے کے بعد میں نے غوروفکر کرنا تو شروع کردیا لیکن افسانہ لکھنے میں جلدی نہیں کی۔ چنانچہ ماہنامہ "صریر” کراچی کے شمارہ فروری 1992ء میں "کاکروچ” شائع ہوئی ۔بس یہ زماني ترتیب ذہن میں رہے۔اس موضوع پر ہم ایک مجموعی گفتگو آخر میں جاکر کریں گے۔یہاں افسانے کو اس کی عمومی صورت میں دیکھ کر اظہارِ خیال فرمائیں ۔شکریہ ۔
…………………………….
ڈیجیٹل بشارت صاحب :

آپ کا یہ افسانہ پڑھ کر پہلی نظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ "کاکروچ” دراصل ایٹمی جنگ کا افسانہ نہیں، بلکہ انسانی مرکزیت (Anthropocentrism) کے انہدام کا افسانہ ہے۔ ایٹمی جنگ اس کا خارجی محرک ہے، جبکہ اس کی اصل معنوی منزل انسان کے اس غرور کو چیلنج کرنا ہے کہ وہ ارتقا کی آخری اور کامل ترین صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افسانہ اپنی آخری سطر پر پہنچ کر اچانک ایک ایسا فلسفیانہ خلا پیدا کرتا ہے جہاں قاری اپنی ذات کو نئے سرے سے دیکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

افسانے کی ساخت

افسانے کی سب سے نمایاں خوبی اس کی تہہ در تہہ ساخت ہے۔

ابتدا میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مصنف صرف دوستوں کی ایک نشست کا احوال بیان کر رہا ہے۔ پھر اسی نشست کے اندر ایک فرضی افسانہ شروع ہوتا ہے، اور قاری اس افسانے کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔ پھر اچانک ہم واپس نشست میں آ جاتے ہیں، جہاں سائنسی بحث شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد یہی بحث ایک نئے افسانے کو جنم دیتی ہے، اور آخر میں وہ نیا افسانہ بھی ایک فلسفیانہ سوال میں تحلیل ہو جاتا ہے۔

گویا یہاں چار سطحیں بیک وقت موجود ہیں:

  • دوستوں کی مجلس۔
  • مجلس میں سنایا جانے والا افسانہ۔
  • افسانے پر سائنسی مکالمہ۔
  • اور پھر اس مکالمے سے جنم لینے والا وجودی سوال۔

یہ تکنیک اردو افسانے میں بہت کم ملتی ہے۔ عموماً افسانہ ایک ہی بیانی سطح پر قائم رہتا ہے، لیکن یہاں ہر نئی سطح پچھلی سطح کے معنی بدل دیتی ہے۔

مکالمے کی فنی حیثیت

یہ افسانہ تقریباً مکمل طور پر مکالموں پر قائم ہے، مگر کہیں بھی خشک محسوس نہیں ہوتا۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ تینوں کردار الگ الگ ذہنی جہات کی نمائندگی کرتے ہیں۔

مسعود شاہ عام قاری کا نمائندہ ہے۔ وہ ہر سنجیدہ بات میں مزاح پیدا کرتا ہے، سوال اٹھاتا ہے اور فضا کو زمینی رکھتا ہے۔

نصیر حبیب عقل اور سائنس کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ تخیل کو رد نہیں کرتا بلکہ اسے سائنسی بنیاد فراہم کرنا چاہتا ہے۔ اس کا یہ جملہ افسانے کا ایک بنیادی نکتہ بن جاتا ہے:

"میرے نزدیک سائنس کی بنیاد بھی فکشن پر ہے۔ ہر نیا سائنسی انکشاف پہلے فکشن ہوتا ہے۔”

یہ جملہ پورے افسانے کے نظریاتی ڈھانچے کو سہارا دیتا ہے۔

اور پھر راوی تخیل کی نمائندگی کرتا ہے، مگر ایسا تخیل جو تنقید قبول کرتا ہے اور خود کو مسلسل بہتر بناتا ہے۔

یوں تینوں کردار مل کر دراصل تخیل، عقل اور عام شعور کا مکالمہ بن جاتے ہیں۔

سائنسی بحث

آپ نے ابتدا ہی میں وضاحت کر دی تھی کہ "حوا کی تلاش” کے بعد آپ نے اس موضوع پر سائنسی مطالعہ کیا تھا۔ اس کا اثر اس افسانے میں صاف نظر آتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس یہاں معلومات فراہم کرنے کے لیے نہیں آئی بلکہ فکشن کو قابلِ یقین بنانے کے لیے آئی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قاری یہ نہیں سوچتا کہ آیا یہ سائنسی طور پر مکمل درست ہے یا نہیں، بلکہ وہ اس سوال کی معنویت میں داخل ہو جاتا ہے۔

اچھا فکشن ہمیشہ سائنسی درستگی سے زیادہ داخلی صداقت کا پابند ہوتا ہے، اور "کاکروچ” اسی اصول پر قائم ہے۔

"کاکروچ” بطور علامت

یہاں کاکروچ محض ایک کیڑا نہیں۔

یہ بقا (Survival) کی علامت ہے۔

انسان نے خود کو اشرف المخلوقات سمجھا، مگر اگر دنیا میں آخر تک زندہ رہنے والی مخلوق انسان نہ ہو بلکہ کاکروچ ہو تو؟

یہ سوال پورے انسانی غرور کو الٹ دیتا ہے۔

مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ نے کاکروچ کو صرف زندہ نہیں رکھا بلکہ اسے مستقبل کا حکمران بنا دیا۔

یعنی تاریخ کا مرکز بدل گیا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں افسانہ سائنس فکشن سے آگے بڑھ کر تہذیبی تمثیل بن جاتا ہے۔

آخری جملہ

افسانے کی اصل طاقت اس کے آخری جملے میں ہے:

"ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ ہم آج کے انسان ہزاروں سال پہلے کے کسی زمانے کے کاکروچ ہوں۔”

یہ جملہ پورے افسانے کی سمت بدل دیتا ہے۔

اب سوال یہ نہیں رہتا کہ ایٹمی جنگ کے بعد کیا ہوگا۔

بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے کہ:

ارتقا کی ہر منزل خود کو آخری منزل کیوں سمجھتی ہے؟

اور کیا معلوم ہماری موجودہ انسانی صورت بھی کسی ایسے ارتقائی سلسلے کی صرف ایک عارضی کڑی ہو جسے ہم سمجھ ہی نہ سکے ہوں؟

یہاں افسانہ ڈارون، کائناتی ارتقا اور وجودی فلسفے کو ایک لمحے میں جوڑ دیتا ہے۔

زبان اور اسلوب

زبان حسبِ معمول نہایت سادہ، رواں اور غیر متکلف ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ اتنے بڑے فلسفیانہ سوالات کے باوجود کہیں خطابت پیدا نہیں ہوتی۔

بیانیہ پوری طرح مکالمے کے اندر رہتا ہے، اور قاری پر کوئی نتیجہ مسلط نہیں کرتا۔

یہی فنی ضبط افسانے کو مؤثر بناتا ہے۔

ایک معمولی سا سوال

اس افسانے میں اگر کوئی پہلو مزید گفتگو کا طالب ہے تو وہ یہی ہے کہ کاکروچ خود ایک علامت بن کر سامنے آتا ہے، مگر افسانہ اس نئی مخلوق کی تہذیب، شعور یا اخلاقیات کی طرف قدم نہیں بڑھاتا۔ یہ یقیناً افسانے کی کمزوری نہیں، کیونکہ اس کا اختتام ایک فکری دھماکے پر ہونا تھا، لیکن بطور قاری میرے ذہن میں یہ سوال باقی رہتا ہے کہ اگر واقعی کاکروچ نئی تہذیب قائم کرتے تو کیا وہ بھی بالآخر اسی مقام تک پہنچتے جہاں سے انسان نے اپنی تباہی کا آغاز کیا تھا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو افسانہ ارتقا کے ساتھ ساتھ تاریخ کے دائروی (Cyclical) تصور تک بھی پہنچ جاتا ہے۔

مجموعی تاثر

میرے نزدیک "کاکروچ” آپ کے ایٹمی جنگ سے متعلق افسانوں میں ایک نمایاں پیش رفت ہے۔ "حوا کی تلاش” میں سوال زیادہ تہذیبی اور انسانی تھا، "گلاب شہزادے کی کہانی” میں علامتی اور جمالیاتی جہت نمایاں ہوئی، جبکہ "کاکروچ” میں سائنسی تخیل، فلسفیانہ استفہام اور خود افسانے کی تخلیق کے عمل کو ایک ہی متن میں سمو دیا گیا ہے۔

یہ افسانہ اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ یہ اپنے زمانے (1992ء) میں اردو سائنس فکشن کے دائرے کو صرف سائنسی حیرت تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ اسے وجودی فکر اور تہذیبی خود احتسابی سے جوڑ دیتا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو اسے محض ایک دلچسپ خیال نہیں رہنے دیتا بلکہ ایک دیرپا فکری افسانہ بنا دیتا ہے۔

میں محسوس کرتا ہوں کہ جب ہم آخر میں آپ کے ان تینوں افسانوں—"حوا کی تلاش”، "گلاب شہزادے کی کہانی” اور "کاکروچ”—پر مجموعی گفتگو کریں گے تو واضح ہوگا کہ یہ تین الگ الگ کہانیاں نہیں بلکہ ایک ہی تخلیقی اور فکری سفر کے تین مراحل ہیں، جن میں ہر مرحلہ اپنے پیش رو سے آگے بڑھ کر ایک نئے سوال کو جنم دیتا ہے۔ یہی تسلسل اس سلسلے کو آپ کی افسانہ نگاری میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔

…………………………….

حیدرقریشی :

شکریہ بشارت صاحب  یہ تجزیہ بھی اچھا لگا۔۔۔۔ارتقاء والا آپ کا نکتہ بہت اہم ہے۔۔مزے کی بات یہ ہے کہ شعوری طورپر یہ پہلو میرے ذہن میں نہیں تھا۔ابھی تک نہیں تھا۔آپ نے نشاندہی کی تو سب کچھ روشن ہو گیا ۔یہ ہوتی ہے نقاد یا قاری کی حقیقی قرات۔۔۔۔۔ لیکن اب ہر قاری یا نقاد تو آپ جیسا ہونے سے رہا۔ایک بار پھر آپ کا شکریہ ۔

…………………………….

ڈیجیٹل بشارت صاحب :

آپ کا بے حد شکریہ، حیدر صاحب۔

یہ بات آپ کی علمی دیانت کی دلیل ہے کہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ "یہ تو پہلے سے میرے ذہن میں تھا”، بلکہ یہ کہا کہ "ابھی تک نہیں تھا، آپ نے نشاندہی کی تو سب کچھ روشن ہو گیا۔” یہی رویہ بڑے تخلیق کاروں کا ہوتا ہے۔ وہ اپنی تخلیق کو بند کمرہ نہیں سمجھتے بلکہ اس میں نئے دریچے کھلنے دیتے ہیں۔

ارتقا والا نکتہ دراصل خود آپ کے متن سے برآمد ہوا ہے۔ آخری جملہ:

"ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ ہم آج کے انسان ہزاروں سال پہلے کے کسی زمانے کے کاکروچ ہوں۔”

یہ جملہ صرف طنز یا حیرت پیدا نہیں کرتا، بلکہ انسانی وجود کو ایک ارتقائی تسلسل میں رکھ دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ نے ڈارون یا ارتقا کا نام لیے بغیر ایک ایسا سوال پیدا کر دیا ہے جو ارتقائی فلسفے، وجودیات اور کائناتی تاریخ تینوں سے جڑ جاتا ہے۔ یہی بڑی تخلیق کی پہچان ہے کہ وہ اپنے مصنف سے بھی زیادہ معنی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

میں آپ کی ایک اور خوبی کی طرف بھی اشارہ کرنا چاہوں گا۔ آپ کے ان تینوں افسانوں—"حوا کی تلاش”، "گلاب شہزادے کی کہانی” اور "کاکروچ”—میں ایک چیز مشترک ہے۔ آپ کا مقصد مستقبل کی پیش گوئی کرنا نہیں، بلکہ مستقبل کو ایک آئینے کے طور پر استعمال کرکے حال کے انسان کو دیکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان افسانوں کی معنویت وقت گزرنے کے باوجود کم نہیں ہوئی۔

اور آخر میں، آپ نے میرے بارے میں جو محبت بھرے الفاظ لکھے، وہ میرے لیے باعثِ عزت ہیں۔ میں انہیں اپنی ذات کا نہیں بلکہ متن اور قاری کے مکالمے کا احترام سمجھتا ہوں۔ میرا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ اچھی تخلیق اپنے مصنف سے زیادہ جانتی ہے۔ نقاد کا کام تخلیق پر اپنی دانش مسلط کرنا نہیں، بلکہ اس کے اندر پہلے سے موجود امکانات کو دریافت کرنا ہے۔ اگر کبھی ایسا ہو جائے کہ مصنف خود بھی اپنی تخلیق کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے لگے، تو میرے نزدیک تنقید کی یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

اب مجھے اس آخری مجموعی گفتگو کا انتظار رہے گا جس میں ہم آپ کے ایٹمی جنگ کے پس منظر میں لکھے گئے تینوں افسانوں کو ایک تخلیقی سلسلے کے طور پر دیکھیں گے۔ میرا خیال ہے کہ اس وقت یہ اور بھی واضح ہوگا کہ یہ تین الگ الگ کہانیاں نہیں، بلکہ ایک مسلسل فکری سفر کے تین سنگِ میل ہیں۔

…………………………….

Related posts

آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) اور اردو ادب کا میل۔ حیدر قریشی اور ڈیجیٹل بشارت صاحب

Paigam Madre Watan

افسانہ ” حوا کی تلاش” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ 

Paigam Madre Watan

افسانہ ” پتھر ہوتے وجود کا دکھ” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ 

Paigam Madre Watan