مفتی یحییٰ معین
بہت سے خاندانی کاروبار محبت، اعتماد اور قربانی کے جذبے سے شروع ہوتے ہیں، مگر جب اسی اعتماد کو حساب، تحریر اور اصولوں کا بدل سمجھ لیا جاتا ہے تو یہی کاروبار آگے چل کر بدگمانی، حق تلفی، مقدمہ بازی اور قطع رحمی کا سبب بن جاتے ہیں۔ خاندانی کاروبار کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ اس میں کتنا سرمایہ ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس میں حقوق کتنے واضح، حسابات کتنے شفاف اور فیصلے کتنے عادلانہ ہیں۔
دورحاضر کے معاشی منظرنامے میں جہاں مشترکہ خاندانی کاروبار معاشی استحکام، باہمی تعاون، سماجی تحفظ اور خاندانی یکجہتی کا ایک مؤثر ذریعہ تصور کیے جاتے ہیں، وہیں یہ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہی کاروبار اکثر خاندانوں کے شیرازے بکھرنے، دیرینہ محبتوں کے ختم ہونے اور شدید ترین خاندانی، شرعی اور قانونی نزاعات کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس کی سب سے بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشروں میں کاروباری دنیا کے مسلمہ اصولوں، واضح ضوابط اور تحریری معاہدات کے بجائے خاندانی روایات، جذباتی وابستگیوں اور شخصی ترجیحات کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ’ہمارے خاندان میں ہمیشہ سے یہی طریقہ رائج رہا ہے‘ ،’وہ بڑا بھائی ہے، اس کا ہر حال میں خیال رکھنا چاہیے‘،’وہ گھر میں سب سے چھوٹا ہے، اس کی ضروریات زیادہ ہیں، اس لیے اسے زیادہ حصہ دیا جائے‘، یا ’اس کے بچے زیادہ ہیں، لہٰذا اس کے اخراجات بھی زیادہ ہونے چاہئیں‘۔ حالانکہ نہ شرعی مسائل محض خاندانی روایات سے حل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی قانونی اور مالی تنازعات صرف جذبات کی بنیاد پر سلجھائے جا سکتے ہیں۔
شریعتِ اسلامیہ اور جدید تجارتی نظام دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ کاروبار کے آغاز ہی میں ملکیت (Ownership)، نفع کی تقسیم (Profit Sharing)، اختیارات، ذمہ داریوں اور مالی حقوق کی واضح اور تحریری تعیین ضروری ہے۔
یہ دراصل مالی شعور (Financial Literacy) کا بنیادی تقاضا ہے کہ کاروبار کرنے والا شخص صرف خرید و فروخت، نفع اور نقصان کو نہ سمجھے، بلکہ ملکیت، ذمہ داری، سرمایہ، محنت، تنخواہ، نفع، نقصان، قرض، ہبہ، وراثت اور زکوٰۃ کے باہمی فرق کو بھی سمجھتا ہو۔ جب یہ فرق واضح نہیں ہوتا تو بظاہر کامیاب کاروبار بھی اندر سے کمزور رہتا ہے، اور معمولی اختلاف بڑے شرعی، مالی اور خاندانی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے خاندانی کاروباروں میں اکثر کوئی باقاعدہ تنظیمی ڈھانچہ (Formal Structure) موجود نہیں ہوتا، نہ قانونی دستاویزات تیار کی جاتی ہیں اور نہ ہی تحریری معاہدے وجود میں آتے ہیں، بلکہ پورا نظام محض زبانی وعدوں، خاندانی تعلقات اور باہمی اعتماد پر قائم ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہر شخص اپنی الگ تعبیر پیش کرتا ہے، گواہی، ثبوت اور حسابات میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے اور وہ محبتیں جو کبھی کاروبار کی بنیاد تھیں، رفتہ رفتہ شدید عداوت، حسد اور مستقل نفرتوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح خاندانی کاروبار میں شریک افراد کا نقطۂ نظر بھی اکثر واضح نہیں ہوتا۔ یہ طے نہیں کیا جاتا کہ کاروبار مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا ہے یا مستقبل میں تقسیم کرنا ہے، شراکت داری برقرار رکھنی ہے یا ختم کرنی ہے، نفع کس تناسب سے تقسیم ہوگا، نقصان کس اصول کے تحت برداشت کیا جائے گا، کاروبار عملی طور پر کون چلائے گا، آئندہ سرمایہ کاری کون کرے گا اور ہر شریک کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کیا ہوگی۔ یہ مسئلہ اس وقت مزید بحران کا شکار ہو جاتا ہے جب ایک ہی خاندان کے تحت متعدد کاروبار بیک وقت چل رہے ہوں، مثلاً کپڑے کا کاروبار، کاسمیٹکس (آرائشی سامان) کا کاروبار، ایکسپورٹ (برآمدات) کا کاروبار، گودام، اسٹاک (موجودہ مال)، مشینری اور تجارتی جائیدادیں سب ایک ہی انتظامی نظام کے تحت موجود ہوں، مگر ان کے حقوق، ذمہ داریوں اور ملکیت کا کوئی واضح اور تحریری ریکارڈ نہ ہو۔ یہی اصول صرف روایتی دکانوں، گوداموں اور تجارتی جائیدادوں تک محدود نہیں، بلکہ آج کے فاؤنڈرز، اسٹارٹ اپس، آن لائن بزنسز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سروس بیسڈ کمپنیوں پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے۔ اگر کسی نئے کاروبار میں founder equity، sweat equity، سرمایہ کاری کا حصہ، عملی ذمہ داری، decision rights، salary، profit share اور exit کا طریقہ شروع ہی میں واضح نہ کیا جائے تو وہی اختلافات پیدا ہوتے ہیں جو روایتی خاندانی کاروباروں کو کمزور کرتے رہے ہیں۔
خاندانی کاروبار میں ایک اور بڑی خرابی یہ در آئی ہے کہ معاملات کو تحریری شکل نہ دیاجاتا ہے۔ اگرچہ فقہائے اسلام نے بعض معاملات میں عرف اور دستور کو معتبر قرار دیا ہے، لیکن قرآن کریم کی آیتِ مداینت اس بات کی واضح تعلیم دیتی ہے کہ مالی معاملات کو تحریری شکل دینا زیادہ محفوظ، عادلانہ اور قابلِ اعتماد طریقہ ہے۔ جدید کاروباری دنیا بھی دستاویزات کی تیاری (Documentation) کو قانونی اور مالی تحفظ کی بنیادی شرط قرار دیتی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں محض خاندانی محبت اور باہمی تعلقات کی بنیاد پر بڑے بڑے کاروبار شروع کر دیے جاتے ہیں، جبکہ یہ بنیادی امور سرے سے طے ہی نہیں کیے جاتے کہ سرمایہ کس نے کتنا لگایا، کس کا کتنا حصہ ہے، کون عملی طور پر کام کرے گا، کام کرنے والے کو کس بنیاد پر تنخواہ یا معاوضہ ملے گا، نفع کی تقسیم کا اصول کیا ہوگا اور نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔
اس لیے کسی بھی خاندانی یا مشترکہ کاروبار کے آغاز میں کم از کم چند سوالات صاف طور پر لکھ لیے جانے چاہئیں: سرمایہ کس نے کتنا لگایا اور آئیندہ کون لگائے گا؟ کاروبار میں کس کی ملکیت کتنی ہے؟ کون روزانہ کام کرے گا اور کام کی نوعیت کیا ہوگی؟ کام کرنے والے کو تنخواہ ملے گی یا نفع میں اضافی حصہ؟ کاروباری نقصان کس اصول کے تحت برداشت کیا جائے گا؟ اور اگر کوئی شریک بعد میں الگ ہونا چاہے تو اس کا حصہ کس طریقے سے ادا کیا جائے گا؟ یہ سوالات شروع میں معمولی محسوس ہوتے ہیں، مگر بعد میں یہی سوالات خاندانوں کو بچاتے بھی ہیں اور برباد بھی کرتے ہیں۔
یہی غفلت بعد میں جھگڑوں کی ایسی مضبوط بنیاد بن جاتی ہے کہ سگے بھائی اور قریبی رشتہ دار ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنا تک گوارا نہیں کرتے۔ اس کے ساتھ ہی کاروبار کو مناسب قانونی شکل (Legal Structure) نہ دینا بھی ایک سنگین غلطی ہے۔ بہت سے خاندانی کاروبار انفرادی ملکیت (Proprietorship)، شراکت داری (Partnership)، محدود ذمہ داری شراکت داری (Limited Liability Partnership) یا نجی محدود کمپنی (Private Limited Company) جیسے مناسب قانونی ڈھانچوں کے تحت رجسٹر نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے ٹیکس، ملکیت، عدالتی ثبوت، انتقالِ ملکیت اور وراثت سے متعلق پیچیدہ مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح خاندانی کاروبار میں سب سے زیادہ تباہ کن عمل کاروباری اور گھریلو معاملات کا باہم گڈمڈ ہونا ہے، جہاں گھر کے روزمرہ اخراجات، بچوں کی تعلیم، بیٹیوں کی شادی، علاج معالجہ، اسپتال ومطب کے اخراجات اور ذاتی ضروریات سب کاروبار ہی سے پوری کی جاتی ہیں۔ یہ مسئلہ اس وقت انتہائی خطرناک صورت اختیار کر لیتا ہے جب والد کے انتقال کے بعد وراثت کی تقسیم کا مرحلہ آتا ہے اور بعض افراد یہ دعویٰ کرنے لگتے ہیں کہ فلاں بیٹی کی شادی پر اتنی رقم خرچ ہوئی تھی یا فلاں بیٹے کی بیرونِ ملک تعلیم پر اتنی رقم خرچ ہوئی تھی، لہٰذا وہ رقم اس کے وراثتی حصے میں شمار کی جائے۔ حالانکہ شرعی اصول یہ ہے کہ اگر والد نے اپنی زندگی میں کسی خرچ کو واضح طور پر وراثت کے حصے سے منسلک نہ کیا ہو تو اسے ہبہ (تحفہ) اور عطیہ تصور کیا جائے گا، نہ کہ وراثت میں پیشگی حصہ۔ بدقسمتی سے اسی غیر واضح نظام کی وجہ سے عموماً بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ شدید ناانصافی کی جاتی ہے، حالانکہ ان کی شادیوں پر ہونے والے اخراجات کا بڑا حصہ درحقیقت خاندان کی سماجی حیثیت، نمود و نمائش اور روایتی رسومات پر خرچ ہوتا ہے، نہ کہ ان کی ذاتی ملکیت میں اضافہ کرنے پر۔
خاندانی کاروبار کی پوشیدہ تباہی کی دیگر بڑی وجوہات میں کاروبار کی مالیت کا تعین (Valuation) نہ کرنا، سالانہ مالی گوشوارہ (Balance Sheet) تیار نہ کرنا، زکوٰۃ کے حسابات کو نظر انداز کرنا اور کاروبار سے علیحدگی کے طریقۂ کار (Exit Mechanism) کا نہ ہونا شامل ہیں۔ اکثر خاندانی کاروباروں میں نہ اسٹاک کی صحیح قیمت معلوم ہوتی ہے، نہ گوداموں، مشینری، برآمدی سامان اور قابلِ وصول رقوم (Receivables) کی مکمل مالیت کا تعین کیا جاتا ہے اور نہ ہی سالانہ بنیاد پر مالی حسابات مرتب کیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً کسی شریک کو معلوم نہیں ہوتا کہ کاروبار کی حقیقی قیمت کیا ہے اور اس میں اس کا حصہ کتنا بنتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کاروبار میں موجودہ اسٹاک، قابلِ وصول رقوم، نقدی، مشینری اور تجارتی اثاثوں کی مجموعی مالیت معلوم ہی نہ ہو، اور اس کے مقابلے میں کاروباری قرض، ادھار اور واجبات کا حساب بھی واضح نہ ہو، تو یہ کیسے معلوم ہوگا کہ کاروبار واقعی نفع میں ہے یا صرف ظاہری طور پر چل رہا ہے؟ اسی طرح کسی شریک کے حصہ، زکوٰۃ، علیحدگی یا وراثت کا صحیح فیصلہ بھی اسی وقت ممکن ہے جب کاروبار کی حقیقی مالیت باقاعدہ طور پر متعین کی جائے۔ اس کا ایک سنگین شرعی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ زکوٰۃ کی درست ادائیگی نہیں ہو پاتی، کیونکہ زکوٰۃ کی فرضیت اور ادائیگی کے لیے مال کی صحیح مالیت اور حساب کا معلوم ہونا بنیادی شرط ہے۔ اسی طرح خاندانی کاروباروں میں عموماً کاروبار سے علیحدگی کا کوئی منصفانہ نظام موجود نہیں ہوتا، حالانکہ دنیا بھر کے جدید تجارتی اداروں میں داخلے (Entry) اور علیحدگی (Exit) دونوں کے لیے واضح اور تحریری اصول مقرر ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر کوئی شریک دس یا پندرہ سال بعد کاروبار سے الگ ہونا چاہے تو اکثر اسے یا تو روک دیا جاتا ہے یا پھر اس کے جائز حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے سے ایک ایسا ایگزٹ میکانزم (Exit Mechanism) طے کیا جائے جس میں نہ کاروبار کو نقصان ہو، نہ الگ ہونے والے شریک کے حقوق ضائع ہوں اور نہ باقی شرکاء کے مفادات متاثر ہوں۔ اسی طرح جانشینی کی منصوبہ بندی (Succession Planning) کا فقدان خاندانی کاروباروں کے زوال کا ایک اہم سبب ہے۔ جب کاروبار دو یا تین نسلوں تک پہنچ جاتا ہے اور مالکان کی تعداد درجنوں تک بڑھ جاتی ہے تو یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ آئندہ کاروبار کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہوگی، انتظامی سربراہ (Managing Director) کون ہوگا، بزرگ کب انتظامی ذمہ داریوں سے الگ ہوں گے اور نئی نسل کو کس مرحلے پر ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ اگر ان سوالات کے واضح جوابات اور تحریری اصول موجود نہ ہوں تو نئی اور پرانی نسل کے درمیان شدید تصادم پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا خاندانی کاروبار کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ایسا انتظامی نظام قائم کیا جائے جس میں نئی نسل کی توانائی، تعلیم اور جدید مہارتوں سے فائدہ اٹھایا جائے، جبکہ بزرگوں کے تجربے، حکمت اور بصیرت کو بھی مناسب مقام دیا جائے، تاکہ کاروبار وقتی جذبات، شخصی خواہشات اور خاندانی تنازعات کی نذر ہونے کے بجائے ترقی، استحکام اور پائیداری کی راہ پر گامزن رہے۔ ہر خاندانی کاروبار کرنے والے کو سنجیدگی سے اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ اگر آج کسی بڑے شریک یا خاندان کے سربراہ کا انتقال ہو جائے تو کیا کاروبار کی ملکیت، اسٹاک، قرض، نفع، ذمہ داریوں، وارثوں کے حقوق اور کام کرنے والوں کے معاوضے کا واضح ریکارڈ موجود ہے؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو کاروبار بظاہر کتنا ہی کامیاب ہو، اس کے اندر ایک خاموش خطرہ موجود ہے۔
ان شاء اللہ آئندہ قسط میں خاندانی کاروبار کے انتظامی بحران، نئی نسل کی شمولیت، شرعی اصولوں، عملی حل اور خاندانی معیشت کے تحفظ کے مؤثر طریقوں پر تفصیل فراہم کی جائے گی۔
(مضمون نگار جید عالمِ دین، ممتاز شریعہ اسکالر، صاحبِ بصیرت تجزیہ نگار، فائنانس ایکسپرٹ اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر بمبئی کے ڈائریکٹر ہیں)

