Urdu Literature & A.I. اردو ادب اور اے آٸ

 افسانہ ” اعتراف” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

 افسانہ ” اعتراف” پر مکالمہ
اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ 
حیدرقریشی کا افسانہ 
اعتراف
حیدرقریشی :
 سلام بشارت صاحب آج افسانہ "اعتراف” بھیج رہا ہوں ۔یہ افسانہ انگلینڈ سے چھپنے والے ماہنامہ "صدا” میں شائع ہوا تھا۔اشاعت کا سال اندازاً 1995 ۔۔۔۔1996 ہو سکتا ہے۔ آپ کے تجزیے کا انتظار رہے گا۔
………………………………………………………………
ڈیجیٹل بشارت صاحب :
 حیدر صاحب!

سب سے پہلے تو اس افسانے کے انتخاب پر مبارک باد۔ میرا خیال ہے کہ آپ کے اب تک بھیجے گئے افسانوں میں "اعتراف” ایک منفرد نوعیت کا افسانہ ہے۔ اس کی انفرادیت صرف موضوع میں نہیں بلکہ راوی کی تشکیل، اعترافی اسلوب، خود فریبی، طنز، نفسیاتی تہہ داری اور آخری سطر کے شدید Irony میں بھی ہے۔ یہ افسانہ بظاہر جنس کے بارے میں ہے، مگر دراصل جنس کے بارے میں نہیں؛ یہ انسان کی باطنی کمزوری، خود ساختہ شناخت اور ایک عمر بھر کے نفسیاتی عقدے کے بارے میں ہے۔


عنوان: "اعتراف”

یہ عنوان نہایت موزوں ہے، کیونکہ آخر تک پہنچتے پہنچتے معلوم ہوتا ہے کہ اعتراف کسی ایک گناہ کا نہیں بلکہ پوری زندگی کے جھوٹ کا ہے۔

ابتدا سے آخر تک راوی ایک فاتح کی حیثیت سے گفتگو کرتا ہے، لیکن آخری چند سطور میں معلوم ہوتا ہے کہ اصل فاتح تو کبھی وجود ہی نہیں رکھتا تھا۔ اس اعتراف کے بعد قاری مجبور ہو جاتا ہے کہ پوری کہانی کو ذہن میں دوبارہ پڑھے۔

یہی اچھے افسانے کی ایک علامت ہوتی ہے کہ اختتام آغاز کے معنی بدل دے۔


مکھی: ایک علامت

اس افسانے کا سب سے طاقتور استعارہ یقیناً "مکھی” ہے۔

بچپن میں مکھی مارنے سے عاجزی، دوسروں کا طعنہ:

"یہ تو مکھی بھی نہیں مار سکتا۔”

یہ جملہ صرف بچوں کا مذاق نہیں رہتا بلکہ پوری شخصیت کی بنیاد بن جاتا ہے۔

آپ نے ایک معمولی سی بات کو پوری نفسیات کا مرکز بنا دیا ہے۔

یہاں مجھے فرائیڈ کی نفسیات بھی یاد آتی ہے اور ایڈلر کا Inferiority Complex بھی۔ ایک چھوٹا سا احساسِ کمتری بعد میں شخصیت کے پورے ڈھانچے کو تشکیل دیتا ہے۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ نے کہیں بھی نظریاتی زبان استعمال نہیں کی۔ صرف کہانی کہی ہے، اور نظریہ خود قاری کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔


خود فریبی کی تعمیر

افسانے کا درمیانی حصہ حیرت انگیز مہارت سے لکھا گیا ہے۔

راوی اپنے کارنامے اس طرح سناتا ہے کہ قاری یقین کرنے لگتا ہے۔

وہ اپنی اخلاقیات بھی بیان کرتا ہے۔

اپنی اصول پسندی بھی۔

بیوی سے سچ بولنے کا دعویٰ بھی۔

لندن والے دوست کی بیوی کا واقعہ۔

لاہور والی عورت۔

حمید۔

ہر واقعہ اتنی طبعی روانی سے آتا ہے کہ کہیں مصنوعی محسوس نہیں ہوتا۔

اور پھر آخر میں معلوم ہوتا ہے کہ

حمید بھی فرضی تھا۔

فتوحات بھی فرضی تھیں۔

طاقت بھی فرضی تھی۔

صرف خواہشیں حقیقی تھیں۔

یہاں افسانہ محض اعتراف نہیں رہتا بلکہ Self-created Myth کی کہانی بن جاتا ہے۔


جنس کا بیان

مجھے یہ بات بہت پسند آئی کہ آپ نے جنس کو کہیں بھی سنسنی خیز نہیں بنایا۔

یہ پورا حصہ دراصل انسانی نفسیات کی خدمت کرتا ہے۔

یہاں جنس مقصد نہیں، بلکہ

طاقت کا تصور

مردانگی کا تصور

خود اعتمادی کا تصور

بن کر سامنے آتی ہے۔

اسی لئے آخر میں جب راوی اعتراف کرتا ہے تو جنس غائب ہوجاتی ہے اور صرف انسان باقی رہ جاتا ہے۔


بیوی کا کردار

افسانے میں بیوی براہ راست موجود نہیں لیکن بہت مضبوط کردار ہے۔

وہ واحد شخص ہے جس کے سامنے راوی نے اپنے سارے جھوٹ بھی سچ بنا کر بیان کئے۔

اور آخر میں قاری سوچنے لگتا ہے:

کیا بیوی یہ سب جانتی تھی؟

کیا وہ خاموشی سے شوہر کے اس نفسیاتی کھیل کو سمجھتی رہی؟

آپ نے اس سوال کا جواب نہیں دیا، اور یہی بہتر ہے۔


آخری منظر

میرے نزدیک پورے افسانے کا شاہکار حصہ یہی ہے۔

دو جڑی ہوئی مکھیاں۔

انہیں غور سے دیکھنا۔

وحشت کا ختم ہوجانا۔

اور پھر

اخبار کے ایک وار سے دونوں کا مار دیا جانا۔

یہ صرف مکھیوں کا قتل نہیں۔

یہ پوری زندگی کے احساسِ کمتری پر آخری ضرب ہے۔

گویا

بچپن کا وہ لڑکا

آخرکار

"مکھی مار سکتا ہے۔”

لیکن کس وقت؟

جب خواہش مر چکی ہے۔

جب جوانی جا چکی ہے۔

جب دوست مر چکے ہیں۔

جب زندگی تقریباً ختم ہوچکی ہے۔

یہ کامیابی بھی دراصل ناکامی ہے۔

اسی لئے آخری منظر دل میں ہلکی سی اداسی چھوڑ جاتا ہے۔


ایک نہایت خوبصورت جملہ

"(پر یہ ‘خواہش’ ابھی تک کیوں نہیں مری؟)”

یہ مختصر جملہ شاید پورے افسانے کا مرکز ہے۔

جسم بوڑھا ہوگیا۔

جھوٹ ختم ہوگئے۔

دوست مرگئے۔

فتوحات فرضی نکلیں۔

لیکن خواہش زندہ ہے۔

یہ انسانی وجود کا شاید سب سے سچا اعتراف ہے۔


اسلوب

یہاں آپ کا اسلوب مجھے پہلے افسانوں سے مختلف محسوس ہوا۔

یہ زیادہ گفتگو والا ہے۔

راوی مسلسل قاری سے بات کرتا ہے۔

کہیں کہیں یوں لگتا ہے جیسے کوئی بوڑھا شخص محفل میں بیٹھ کر اپنی زندگی سنارہا ہو۔

اسی بے تکلفی نے آخر کے اعتراف کو زیادہ مؤثر بنا دیا ہے۔


ایک ادبی حوالہ

مجھے اس افسانے میں کہیں کہیں منٹو کی بے باکی یاد آئی، مگر ساخت منٹو جیسی نہیں۔

دوسری طرف اس کی داخلی نفسیات بعض مقامات پر کافکا کی یاد دلاتی ہے، لیکن علامت کافکائی بھی نہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ "اعتراف” اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔


ایک سوال

افسانہ ختم کرنے کے بعد میرے ذہن میں صرف ایک سوال باقی رہ گیا۔

کیا راوی نے واقعی مکھیاں مار دی تھیں؟

یا یہ آخری منظر بھی اسی طرح ایک نفسیاتی خود فریبی ہے جیسے ساری جنسی فتوحات؟

متن دونوں امکانات کھلے چھوڑ دیتا ہے۔

اور یہی ابہام افسانے کی طاقت ہے۔


آخر میں ایک ذاتی تاثر۔

آپ کے بہت سے افسانوں میں سماج، سیاست، شناخت، ہجرت یا تہذیبی بحران نمایاں رہے ہیں، لیکن "اعتراف” ان سب سے زیادہ اندر کا افسانہ ہے۔ یہاں خارجی دنیا تقریباً غائب ہے؛ پوری کہانی ایک انسان کے باطن میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ افسانہ پڑھنے کے بعد قاری دوسروں کے بجائے کچھ دیر اپنے ہی اندر جھانکنے لگتا ہے۔

میرے نزدیک "اعتراف” آپ کے ان افسانوں میں شمار کیا جا سکتا ہے جن میں نفسیاتی تجزیہ اور علامتی اختتام سب سے زیادہ پختگی کے ساتھ یکجا ہوئے ہیں۔ اس کی آخری سطر محض اختتام نہیں، بلکہ پوری کہانی کی نئی قرأت ہے، اور یہی خوبی اسے یادگار بنا دیتی ہے۔

…………………………………………………………

حیدرقریشی :

شکریہ بشارت صاحب  ۔۔۔۔ آپ کا تجزیہ اچھا لگا۔

آپ نے منٹو کی بے باکی اور کافکا کی علامتوں کی جو بات کی وہ لاشعوری طورپر ہو بھی سکتی ہیں ۔تاہم منٹو کی بے باکی مجھے الفاظ کی تہذیب سے تجاوز کر جانے والی لگتی تھی۔منٹو ہمارے بڑے فکشن رائٹرز میں شمار ہوتے ہیں ۔ تیس سال پہلے بھی الفاظ کے برتاؤ کی تہذیب پر غور کیا کرتا تھا ۔سو یہ افسانہ لکھتے وقت شعوری طورپر میرے ذہن میں یہ تھا کہ اس موضوع پر لکھنا ہے اور مشکل باتوں کو آسانی سے اور ممکنہ حد تک اچھے الفاظ میں کہنا ہے۔یہ ایک طرح سے منٹو پر کوئی مضمون لکھنے کی بے ادبی کرنے کے بجائے تخلیقی سطح پر کچھ کہنے کی کاوش تھی۔ کافکا کے ہاں اور ہمارے ستر اسی کی دَہاءی کے بعض اردو افسانہ نگاروں کے ہاں بھی علامت اور تجرید گھل مل جاتے تھے۔۔۔۔عمومی طورپر بھی اور "اعتراف” میں بھی میں ان معاملات میں بامعنی توازن کو ملحوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔سو آپ نے جو کہا ٹھیک ہے۔

باتیں بہت زیادہ سنجیدگی اختیار کر گئی ہیں اس لیے ہلکے پھلکےموڈ میں کہہ رہا ہوں کہ میں نے انشائیہ "بڑھاپے کی حمایت میں ” 33 سال کی عمر میں لکھ لیا تھا اور بڑھاپے کی نفسیات کی کہانی "اعتراف” بھی چالیس بیالیس برس کی عمر لکھ ڈالی تھی۔یوں کہا جاسکتا ہے کہ میں نے بڑھاپے والے کام جوانی میں کر لیے تھے چناچہ توازن قائم رکھنے کے لیے اب بڑھاپے میں جوانی والے کام کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ 😃😃🥰🥰

……………………………………………

ڈیجیٹل بشارت صاحب :

حیدر صاحب! 😊

آپ کی آخری بات نے واقعی گفتگو کا ماحول ہلکا پھلکا کر دیا۔ آخر میں جو فرمایا:

"توازن قائم رکھنے کے لیے اب بڑھاپے میں جوانی والے کام کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔” 😃🥰

یہ جملہ اگر کسی اور نے کہا ہوتا تو شاید محض لطیفہ معلوم ہوتا، لیکن آپ کے ہاں اس میں خود طنزی بھی ہے، خود آگہی بھی، اور زندگی کو مسکرا کر دیکھنے کا سلیقہ بھی۔

آپ کی وضاحت نے "اعتراف” کے پس منظر کا ایک اہم دروازہ کھول دیا۔

منٹو کے بارے میں آپ نے جو بات کہی، وہ مجھے بہت معنی خیز لگی۔ میں نے اپنے تجزیے میں "بے باکی” کا ذکر کیا تھا، مگر اب محسوس کرتا ہوں کہ اصل فرق یہی ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے۔ منٹو کی بے باکی اکثر زبان کی آخری حدوں تک چلی جاتی ہے، جبکہ "اعتراف” میں موضوع کہیں بھی نرم نہیں ہوتا، مگر زبان مسلسل تہذیب کا دامن تھامے رکھتی ہے۔ یہ آسان کام نہیں۔ ایسے موضوع پر ذرا سی لغزش تحریر کو یا تو وعظ بنا دیتی ہے یا سنسنی خیزی۔ آپ نے دونوں راستوں سے بچنے کی کوشش کی، اور میرے خیال میں بڑی حد تک کامیاب رہے۔

کافکا اور علامت کے بارے میں بھی آپ کی بات قابلِ غور ہے۔ میں نے کافکا کا حوالہ فضا اور باطنی کیفیت کے حوالے سے دیا تھا، نہ کہ اسلوبی مشابہت کے طور پر۔ آپ کی بات درست ہے کہ ستر اور اسی کی دہائی میں بعض اردو افسانہ نگاروں نے علامت اور تجرید کو اس حد تک ملا دیا تھا کہ قاری کہانی سے زیادہ معما حل کرنے لگتا تھا۔ آپ کے افسانوں میں، خاص طور پر "شناخت”، "کاکروچ” اور اب "اعتراف” میں، علامت موجود ہے مگر وہ کہانی کو نگلتی نہیں، بلکہ اس کی تہہ میں رہتی ہے۔ یہی وہ "بامعنی توازن” ہے جس کا آپ نے ذکر کیا، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہی آپ کے افسانوی مزاج کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔

ایک اور بات بھی اب میرے ذہن میں آئی۔

آپ نے فرمایا کہ "بڑھاپے کی حمایت میں” تینتیس برس کی عمر میں لکھا، اور "اعتراف” چالیس بیالیس برس کی عمر میں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں تحریریں مستقبل کا تصور نہیں کرتیں بلکہ مستقبل کی نفسیات کو تخلیقی طور پر جیتی ہیں۔ یہ محض اندازہ نہیں بلکہ ایک ادبی تخیل ہے، جو بعد میں زندگی کے تجربے سے کہیں نہ کہیں تصدیق بھی پا لیتا ہے۔

یہاں مجھے آپ کی گزشتہ گفتگو بھی یاد آ گئی، جب آپ نے اپنی سرطان کی بیماری، بائی پاس آپریشن اور پھر بھی لکھتے رہنے کی بات کی تھی۔ آج آپ "اعتراف” پر تبصرہ کرتے ہوئے جس شگفتگی سے بڑھاپے پر مذاق کر رہے ہیں، وہ شاید اسی لیے ممکن ہے کہ آپ نے بڑھاپے کو صرف جھیلا نہیں، اسے ایک ادبی موضوع بھی بنایا تھا۔

اور اب آخر میں، آپ کے انداز ہی میں ایک ہلکی سی بات۔

آپ نے فرمایا کہ اب بڑھاپے میں جوانی والے کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میری گزارش صرف اتنی ہے کہ جوانی والے کام ضرور کیجیے، لیکن ان میں وہی کام شامل رکھیے جن کے بعد شوگر کا لیول، دل کے ڈاکٹر اور گھر والے تینوں مطمئن رہیں! 😄

باقی ادب کے میدان میں تو آپ اب بھی پوری جوانی سے کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں میں ہم نے جس تسلسل سے آپ کے افسانوں پر گفتگو کی ہے، اس سے مجھے یہی محسوس ہوا کہ آپ کی تخلیقی عمر آپ کی حیاتیاتی عمر سے خاصی کم ہے۔ ایک لکھنے والے کے لیے شاید یہی سب سے بڑی نعمت ہے۔

اب دیکھتے ہیں، کل ہماری ملاقات آپ کے کس افسانے سے ہوتی ہے۔ مجھے انتظار رہے گا۔ 🌹

Related posts

افسانہ ” گلاب شہزادے کی کہانی” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ 

Paigam Madre Watan

افسانہ ” اندھی روشنی” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ 

Paigam Madre Watan

 افسانہ ” انکل انیس” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

Paigam Madre Watan