مانو میں سیڈ، امریکہ کے جلسۂ تقسیم وظائف سے سید مظہرالدین حسینی ، پروفیسر اشتیاق احمد و دیگر کا خطاب
حیدرآباد، 17 جولائی (پریس نوٹ) طلبہ میں تعلیم کے شوق کے ساتھ ساتھ اکادمک ایمانداری اور ڈسپلن کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ ان کے لیے یونیورسٹی کے قوانین و ضوابط پر عمل کرنا لازمی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن شیخ الجامعہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کیا۔ وہ ڈین بہبودیِ طلبہ کی جانب سے سیڈ فاؤنڈیشن، امریکہ اور پبلک کیئر ٹرسٹ، حیدرآباد کی میرٹ کم مینس اسکالرشپ کی تقسیم کے سلسلے میں منعقدہ جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہم سبھی سیڈ امریکہ کے ذمہ داران خصوصاً سید مظہرالدین حسینی صاحب کے شکر گزار ہیں کہ وہ اسکالر شپ کے ذریعے اردو یونیورسٹی کے طلباءو طالبات کو تعاون فراہم کر رہے ہیں اور ہر سال اس کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تنظیم ہماری یونیورسٹی کے علاوہ دیگر ضرورت مندوں کی بھی مدد کرتی ہے۔ شیخ الجامعہ نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے میں داخلہ کے بعد طلبہ کو اختراعیت اور اپنی مہارت میں اضافہ کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے بغیر کامیابی مشکل ہے۔ انہوں نے طلباءو طالبات کو نفرت سے بچنے اور اتحاد و اتفاق پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کو ایک شعر میں نصیحت کی ۔
سینے میں رہنے والے نہ بدلیں گے اے حسن:: یوں تو بہت سے لوگوں کا چولا بدل گیا
اس موقع پر جناب سید مظہرالدین حسینی، ڈائرکٹر، سیڈ نے اپنی تنظیم کی کارگزاریوں کا تعارف کرایا اور بتایا کہ سیڈ یعنی سپورٹ فار ایجوکیشنل اینڈ اکانومک ڈیولپمنٹ ہندوستان میں تعلیمی وظائف کے علاوہ تربیتی مراکز و غریب اور مجبور خواتین کی مالی مدد شامل ہے۔ انھوں نے طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کے لیے کچھ اقدار پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ محنت، سچائی، ایمانداری، خلوص، انکسار اور ڈسپلن بہت ضروری ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ اچھے انسان بنیں۔ والدین کا احترام کریں اور ان کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کریں۔ طلبہ کے لیے تعلیم، اخلاق، کردار ہر میدان میں بہترین ہونا ضروری ہے۔ انھوں نے طلبہ کو ترغیب دی کہ آپ دوسروں کی مدد کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا۔ انھوں نے مستقبل کی منصوبہ بندی اور اس کے لیے ایمانداری کے ساتھ محنت اور مختلف زبانوں میں مہارت حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔
پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار نے اپنے خطاب میں اس اسکالر شپ کے آغاز کے سلسلے میں سابق ڈی ایس ڈبلیو پروفیسر سید علیم اشرف جائسی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ سیڈ جس طرح مانو کے طلبہ کی مالی مدد کر رہا ہے وہ قابل قدر ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ طلبہ کی تربیت اور ان کی صلاحیت سازی میں مانو کے کردار سے اس تنظیم کے اربابِ اختیار مطمئن ہیں۔ انھوں نے ڈین بہبودیِ طلبہ پروفیسر صدیقی محمد محمود کی ستائش کی جن کی قیادت میں مانو کے اساتذہ اور اسٹاف اس کی تمام فارمالٹیز پوری کر رہے ہیں۔ ابتداءمیں ڈین بہبودیِ طلبہ پروفیسر صدیقی محمد محمود نے خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام طلبہ میں صلاحیت ہوتی ہے، انھیں نکھارنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر سکیں۔ جناب عبدالمنان خان، ممبر بورڈ آف ڈائرکٹرز، سیڈ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سخت محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ ہمیں وقت کی ضرورت کے مطابق اپنے آپ کو اپڈیٹ کرتے رہنا اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے رہنا چاہیے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی سیکھنا نہ چھوڑیں۔ مہارت کے ساتھ اخلاق، ٹیم اسپرٹ بھی ضروری ہے۔
اس پروگرام میں جوائنٹ ڈین بہبودی طلبہ، مانو پروفیسر محمد عبدالسمیع صدیقی اور جناب قطب الدین سنجری کنٹری ہیڈ سیڈ فاؤنڈیشن بھی شہ نشین پر موجود تھے۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے اساتذہ اور دیگر اعلیٰ عہدیداران کے علاوہ ہیلپنگ ہینڈ کے ڈائرکٹر جناب محمد مجتبیٰ حسین، دیگر ذمہ داران اور بڑی تعداد میں طلبہ بھی موجود تھے۔
ناظم اجلاس ڈاکٹر جرار احمد، اسسٹنٹ ڈین بہبودی طلبہ نے پروگرام کے آغاز میں بتایا کہ اس برس 800 طلبہ کو اسکالر شپ دی جا رہی ہے۔ پہلی قسط کے طور پر سیڈ فاؤنڈیشن کی جانب سے 25 لاکھ روپے جاری کیے جا رہے ہیں۔

