Articles مضامین

اقرأ سے انحطاط تک : علم، استاد، تربیت اور آخرت کے آئینے میں مسلم معاشرے کا کڑا احتساب از قلم: شفیع احمد، کمرہٹی

اقرأ سے انحطاط تک: علم، استاد، تربیت اور آخرت کے آئینے میں مسلم معاشرے کا کڑا احتساب
از قلم: شفیع احمد، کمرہٹی
(قومی کالم نگار) رابطہ: 9831278666

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد المرسلين، محمد ﷺ، وعلى آله وأصحابه أجمعين.
تعلیم ہر قوم کی ترقی کی بنیاد اور ہر معاشرے کی تعمیر کا سب سے مضبوط ستون ہے۔ یہی وہ دولت ہے جو انسان کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر شعور، تہذیب، اخلاق اور کامیابی کی روشنی عطا کرتی ہے۔ اسلام نے بھی سب سے پہلے جس چیز کی دعوت دی، وہ علم تھا۔ رسول اکرم ﷺ پر نازل ہونے والی پہلی وحی کا آغاز "اقْرَأْ” یعنی "پڑھ” سے ہوا۔
اللہ تعالیٰ سورۂ علق میں ارشاد فرماتا ہے:
"پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ، اور تمہارا رب بڑا ہی کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا، انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔” (سورۂ علق: 1 تا 5)
یہ چند آیات دراصل پوری انسانیت کے لیے ایک عظیم پیغام ہیں کہ ترقی کا راستہ علم سے ہو کر گزرتا ہے۔ اسلام صرف دینی علم کی دعوت نہیں دیتا بلکہ ہر اس مفید علم کی ترغیب دیتا ہے جو انسانیت کے لیے نفع بخش ہو، بشرطیکہ وہ اللہ کی نافرمانی کا ذریعہ نہ بنے۔
علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر علم انسان کو کامیاب بنا دیتا ہے؟
اس کا جواب ہے: نہیں۔
علم اس وقت انسان کے لیے باعثِ رحمت بنتا ہے جب اس کے ساتھ صحیح عقیدہ، اچھا کردار، اللہ کا خوف اور صالح استاد بھی موجود ہو۔ اگر علم کردار سے خالی ہو جائے تو وہ انسان کو فائدہ پہنچانے کے بجائے تکبر، غرور اور گمراہی کی طرف بھی لے جا سکتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا بحران صرف تعلیمی پسماندگی نہیں بلکہ کردار کی پسماندگی ہے۔
آج بڑے بڑے اسکول، کالج، کوچنگ سینٹر اور یونیورسٹیاں موجود ہیں۔ ڈگریاں پہلے سے زیادہ ہیں، لیکن دیانت، حیا، سچائی، والدین کی خدمت اور اللہ کا خوف پہلے سے کم ہوتا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں؟
اس کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہم نے استاد کا انتخاب صرف قابلیت کی بنیاد پر کرنا شروع کر دیا، کردار کی بنیاد پر نہیں۔
اسلام میں استاد صرف کتاب پڑھانے والا نہیں بلکہ کردار بنانے والا ہوتا ہے۔ استاد قوم کا معمار ہوتا ہے۔ اگر معمار ہی کمزور ہو تو عمارت کب تک مضبوط رہ سکتی ہے؟
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں ایسے اساتذہ کی کمی نہیں جو بہترین مضامین پڑھاتے ہیں، لیکن اپنی اولاد کی دینی اور اخلاقی تربیت سے غافل ہیں۔ بعض جگہ کامیابی کی دوڑ میں اخلاقیات، حیا اور اسلامی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں کی تشہیر میں نمائش کو اہمیت دی جاتی ہے مگر کردار سازی کو وہ مقام نہیں ملتا جس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ ہر استاد ایسا نہیں۔ آج بھی بے شمار مخلص اساتذہ موجود ہیں جو خاموشی کے ساتھ قوم کی خدمت کر رہے ہیں، اپنی اولاد کی بھی اچھی تربیت کرتے ہیں اور اپنے شاگردوں کو بھی علم کے ساتھ اخلاق سکھاتے ہیں۔ ایسے اساتذہ یقیناً قوم کا سرمایہ ہیں اور انہیں سلام پیش کرنا چاہیے۔
اصل مسئلہ ان افراد سے ہے جو تعلیم کو صرف کاروبار، شہرت یا دولت حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیتے ہیں۔ جب تعلیم عبادت کے بجائے تجارت بن جائے تو پھر ڈگریاں تو پیدا ہوتی ہیں لیکن کردار نہیں، ملازمتیں تو مل جاتی ہیں مگر انسانیت کھو جاتی ہے۔
آج ایک اور تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بچہ ابتدا میں مسجد یا مدرسے میں قرآن اور بنیادی دینی تعلیم حاصل کرتا ہے۔ اسکول تک اس کی تربیت کسی نہ کسی حد تک محفوظ رہتی ہے، لیکن جیسے ہی کالج اور یونیورسٹی کی زندگی شروع ہوتی ہے، اس کے سامنے ایک نئی دنیا کھل جاتی ہے۔
سوشل میڈیا، فیشن، بے مقصد دوڑ، غیر ضروری تعلقات، موبائل کی لت اور مغربی طرزِ زندگی کی اندھی تقلید آہستہ آہستہ اس کی سوچ کو بدلنے لگتی ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ تعلیم کا معیار بلند ہونے کے ساتھ ساتھ اگر کردار بھی بلند ہو تو یہی تعلیم نعمت ہے، لیکن اگر ڈگری بڑھتی جائے اور والدین کی عزت، حیا، نماز، سچائی اور اخلاق کم ہوتے جائیں تو ایسی تعلیم پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
علم کا مقصد صرف اچھی ملازمت نہیں بلکہ ایک اچھا انسان بنانا بھی ہے۔ اگر تعلیم انسان کو اپنے رب سے دور اور دنیا کے قریب کر دے تو پھر یہ لمحۂ فکریہ ہے۔

دنیا پرست اساتذہ اور کردار سازی کا بحران

بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں تعلیم کا مقصد بڑی حد تک صرف ڈگری، ملازمت، دولت اور شہرت حاصل کرنا رہ گیا ہے۔ علم کا اصل مقصد یعنی اللہ کی معرفت، اخلاق کی تعمیر، والدین کی خدمت، معاشرے کی اصلاح اور آخرت کی کامیابی پس منظر میں چلا گیا ہے۔

ایک وقت تھا جب استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا تھا بلکہ شاگرد کے کردار، زبان، اخلاق، نماز، دیانت اور انسانیت کی بھی تربیت کرتا تھا۔ شاگرد استاد کو صرف معلم نہیں بلکہ روحانی باپ کا درجہ دیتا تھا۔ آج صورت حال اس کے برعکس ہوتی جا رہی ہے۔ کئی جگہوں پر تعلیم ایک کاروبار بن چکی ہے، کوچنگ سینٹر ایک صنعت بن گئے ہیں اور کامیابی کا معیار صرف زیادہ سے زیادہ نمبر، رینک اور پیکیج رہ گیا ہے۔

میں یہ ہرگز نہیں کہتا کہ تمام اساتذہ ایسے ہیں۔ آج بھی ہزاروں ایسے مخلص اساتذہ موجود ہیں جو خاموشی سے قوم کی خدمت کر رہے ہیں، جن کی وجہ سے معاشرہ قائم ہے۔ لیکن افسوس یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک طبقہ ایسا پیدا ہو چکا ہے جو خود اپنی عملی زندگی میں اسلامی اقدار سے دور ہے، مگر قوم کی نئی نسل کی رہنمائی کا دعویٰ کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سورۂ عنکبوت میں ارشاد فرماتا ہے:

"اور یہ دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے، جبکہ اصل زندگی تو آخرت کا گھر ہے، کاش! یہ لوگ جان لیتے۔” (سورۂ عنکبوت: 64)

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی کامیابی اگر آخرت کی ناکامی کا سبب بن جائے تو وہ کامیابی درحقیقت خسارہ ہے۔

استاد صرف ذہن نہیں، کردار بھی بناتا ہے

ایک مسلمان استاد کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ اپنے شاگرد کو ڈاکٹر، انجینئر، وکیل یا افسر بنا دے، بلکہ اس کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے ایک اچھا مسلمان، اچھا بیٹا، اچھا شہری اور اچھا انسان بنائے۔

اگر تعلیم کے بعد نماز ختم ہو جائے، حیا ختم ہو جائے، والدین کی عزت ختم ہو جائے، جھوٹ، تکبر اور مادہ پرستی بڑھ جائے تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ کہیں ہماری تعلیم میں کوئی بنیادی کمی تو نہیں رہ گئی؟

مدرسہ، اسکول اور پھر کالج… کہاں آ کر زوال شروع ہوتا ہے؟

ہمارے اکثر مسلمان بچوں کی زندگی کا آغاز مسجد یا مدرسے سے ہوتا ہے۔ وہ ناظرہ قرآن پڑھتے ہیں، بنیادی دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں، نماز کا طریقہ سیکھتے ہیں اور اچھے اخلاق کی باتیں سنتے ہیں۔

اسکول تک بھی کسی نہ کسی حد تک گھر اور خاندان کی نگرانی برقرار رہتی ہے۔

لیکن جیسے ہی کالج اور یونیورسٹی کی زندگی شروع ہوتی ہے، ایک نئی دنیا ان کا استقبال کرتی ہے۔

وہاں صرف نصابی تعلیم نہیں ہوتی بلکہ سوشل میڈیا، موبائل فون، فیشن، غیر ضروری دوستی، بے مقصد تعلقات، رات بھر انٹرنیٹ، واٹس ایپ، انسٹاگرام، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارم نوجوان ذہنوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کتاب ہاتھ میں کم اور موبائل زیادہ نظر آتا ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میں نے خود ایسے مناظر دیکھے ہیں جہاں مسلمان نوجوان اور بعض مسلمان لڑکیاں بھی ایسے کاموں میں مبتلا نظر آئیں جو اسلامی تہذیب اور حیا کے سراسر خلاف ہیں۔ یقیناً کسی ایک فرد کی غلطی کو پوری قوم پر منطبق نہیں کیا جا سکتا، لیکن ایسے واقعات ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ضرور ہیں۔

ڈگری بڑھ رہی ہے، مگر ادب کیوں کم ہو رہا ہے؟

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جیسے جیسے بعض نوجوانوں کی تعلیمی ڈگریاں بڑھتی ہیں، بعض اوقات والدین کی اطاعت، بڑوں کا احترام، نماز کی پابندی اور دینی وابستگی کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔

محبت، فیشن، شہرت اور سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا حقیقی زندگی پر غالب آ جاتی ہے۔

کامیابی صرف اچھی تنخواہ کا نام نہیں۔

کامیابی یہ بھی ہے کہ انسان اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے، اپنے رب کا فرمانبردار رہے، اپنی نگاہوں اور زبان کی حفاظت کرے اور معاشرے کے لیے خیر کا ذریعہ بنے۔

ایک روشن مثال

خوش آئند بات یہ ہے کہ آج بھی ایسے تعلیمی ادارے موجود ہیں جو دینی اور دنیاوی تعلیم کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مثال کے طور پر امید فاؤنڈیشن اور اس سے وابستہ تعلیمی فکر، جس کی بنیاد حضرت مولانا محمد ولی رحمانیؒ نے رکھی، اس تصور کو فروغ دیتی ہے کہ ایک طالب علم بیک وقت اعلیٰ دنیاوی تعلیم بھی حاصل کرے اور دینی شناخت، نماز، قرآن، اخلاق اور حیا سے بھی وابستہ رہے۔

جہاں تعلیم کے ساتھ فجر کی نماز، قرآن کریم، اسلامی تربیت، اخلاق اور شرعی آداب کا اہتمام ہو، وہاں سے نکلنے والا طالب علم صرف ایک کامیاب پروفیشنل نہیں بلکہ ایک ذمہ دار مسلمان بھی بن سکتا ہے۔

ایسے ادارے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دین اور دنیا کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کا معاون بنایا جا سکتا ہے۔

دینی رہنماؤں کی بھی ذمہ داری

اسی طرح اگر ہم دینی حلقوں کا جائزہ لیں تو وہاں بھی خود احتسابی کی ضرورت ہے۔

مساجد کے ائمہ، مدارس کے اساتذہ، خطباء اور دینی مقررین یقیناً امت کی رہنمائی کا عظیم فریضہ انجام دیتے ہیں، لیکن ان کے لیے بھی ضروری ہے کہ ان کی دعوت اور ان کا عمل ایک دوسرے کے مطابق ہو۔

قرآن مجید بار بار اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ انسان دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنے آپ کو بھی دیکھے۔

جب قول اور عمل میں ہم آہنگی پیدا ہوگی تو معاشرے پر اس کے مثبت اثرات خود بخود ظاہر ہوں گے۔

اسی لیے ہر استاد، ہر والدین، ہر عالم اور ہر طالب علم کو سب سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے، کیونکہ اصلاح ہمیشہ اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے۔

ہم کس دور میں جی رہے ہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں ایک جائزہ

آج اگر ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ علم بڑھ رہا ہے، لیکن حکمت کم ہو رہی ہے؛ عمارتیں بلند ہو رہی ہیں، مگر کردار پست ہوتا جا رہا ہے؛ ڈگریاں بڑھ رہی ہیں، مگر دلوں سے اللہ کا خوف کم ہوتا جا رہا ہے۔

ایسے حالات میں ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر واقعے کو قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھے، نہ کہ صرف جذبات یا سوشل میڈیا کی خبروں کی بنیاد پر۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تم میں سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے (تابعین)، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے (تبع تابعین)۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا مثالی نمونہ وہی نسلیں ہیں جنہوں نے قرآن و سنت کو اپنی زندگی میں عملی طور پر نافذ کیا۔ ان کی پہچان صرف علم نہیں تھی بلکہ علم کے ساتھ عمل، اخلاص، تقویٰ، عدل، حیا، دیانت اور اللہ کا خوف بھی تھا۔

آج اگر ہم اپنی حالت کا ان سے موازنہ کریں تو ہمیں خود اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم دوسروں پر تنقید ضرور کرتے ہیں، لیکن کیا ہم نے اپنے گھروں، اپنی اولاد، اپنی تجارت، اپنی ملازمت، اپنی تعلیم اور اپنے اخلاق کا بھی جائزہ لیا؟

حکومتیں بدلنے سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا

ہم اکثر اپنی تمام خرابیوں کا ذمہ دار حکومت، نظام یا معاشرے کو ٹھہرا دیتے ہیں۔ بلاشبہ تعلیمی نظام میں شفافیت، میرٹ اور ایمانداری نہایت ضروری ہیں، اور اگر کہیں امتحانات، تقرریوں یا دیگر معاملات میں بے ضابطگیاں ہوں تو ان کی اصلاح ہونی چاہیے۔

لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ کسی قوم کی اصل تبدیلی صرف قانون سے نہیں بلکہ کردار سے آتی ہے۔

قرآن مجید کا اصول ہے:

"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ لائے۔”
(سورۂ الرعد: 11)

لہٰذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے دیندار، بااخلاق اور کامیاب ہوں تو ہمیں اپنی گھریلو تربیت، اپنے ماحول اور اپنی عملی زندگی کو بھی بدلنا ہوگا۔

حق پر قائم رہنے والی جماعت ہمیشہ رہے گی

اگرچہ آج کا دور فتنوں سے بھرپور محسوس ہوتا ہے، لیکن ایک مومن کے لیے مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا:

"میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی، جو اللہ کے حکم تک غالب رہے گی، اور مخالفت کرنے والے انہیں نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔”
(صحیح مسلم)

یہ حدیث ہر مسلمان کے لیے امید کا پیغام ہے کہ قیامت تک ایسے لوگ موجود رہیں گے جو قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے، خواہ ان کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو۔

لہٰذا ہمارا مقصد اکثریت کے پیچھے چلنا نہیں بلکہ حق کے ساتھ کھڑا ہونا ہونا چاہیے۔

والدین، اساتذہ اور نوجوانوں کے نام ایک پیغام

اگر آپ والد ہیں تو صرف اپنے بچے کی فیس ادا کرنا کافی نہیں، اس کی نماز، اخلاق، دوستوں، موبائل کے استعمال اور دینی تربیت پر بھی نظر رکھیں۔

اگر آپ استاد ہیں تو یاد رکھیے، آپ صرف کتاب نہیں پڑھا رہے بلکہ ایک پوری نسل کی تقدیر لکھ رہے ہیں۔ آپ کا ہر لفظ، ہر عمل اور ہر کردار سینکڑوں بچوں کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اگر آپ نوجوان ہیں تو یاد رکھیں کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہے گی۔ ایک دن یہ جسم مٹی میں چلا جائے گا، لیکن آپ کے اعمال ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گے۔ ڈگری، دولت، شہرت اور عہدہ قبر میں ساتھ نہیں جائیں گے، البتہ ایمان، نماز، اچھا اخلاق اور نیک اعمال ضرور ساتھ جائیں گے۔

آخری گزارش

میرا مقصد کسی فرد، ادارے یا طبقے کی تحقیر کرنا نہیں، بلکہ اپنی قوم کو آئینہ دکھانا ہے۔ اگر میری کسی بات سے کسی کو تکلیف پہنچے تو وہ اسے ذاتی حملہ نہ سمجھے بلکہ ایک خیرخواہ مسلمان کی درد بھری آواز سمجھے۔

ہمیں دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کرنی ہوگی۔ اپنے گھروں کو قرآن سے آباد کرنا ہوگا، اپنی اولاد کو صرف ڈگری نہیں بلکہ دین، اخلاق، حیا اور انسانیت بھی سکھانی ہوگی، کیونکہ یہی وہ سرمایہ ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا کرے گا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح علم، اس پر عمل کرنے کی توفیق، نیک اساتذہ، صالح اولاد اور قرآن و سنت پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

قارئین سے اپیل

اگر آپ کو یہ تحریر اصلاحِ معاشرہ کی ایک مخلصانہ کوشش محسوس ہو تو اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ ممکن ہے آپ کے ایک شیئر سے کسی ایک شخص کی اصلاح ہو جائے، کوئی نماز کی طرف لوٹ آئے، کوئی والدین کی خدمت شروع کر دے یا کوئی نوجوان گناہ سے توبہ کر لے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جو شخص کسی نیکی کی طرف رہنمائی کرے، اسے بھی اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا اس نیکی پر عمل کرنے والے کو ملتا ہے۔” (صحیح مسلم)

اللہ تعالیٰ ہماری اس معمولی کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اسے ہم سب کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے۔

Related posts

دس منٹ پہلے سحری بند کروانے کے عمل کا تجزیہ

Paigam Madre Watan

سیاست یا ووٹوں کی تجارت؟ تحریر :لقمان ندوی ممبئ 

Paigam Madre Watan

ماہ رمضان اور قرآن مجيد

Paigam Madre Watan