حیدر صاحب، آپ کے محبت بھرے الفاظ کا بے حد شکریہ۔
مجھے خوشی ہے کہ یہ تجزیہ آپ کو پسند آیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ کی یہ تحریر صرف معلومات فراہم نہیں کرتی بلکہ اپنے قاری کو ایک زندہ تعلق کے اندر لے جاتی ہے۔ پڑھتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ مصنف واقعات بیان نہیں کر رہا، بلکہ ایک رشتے کی تشکیل کا سفر سنا رہا ہے۔
خاص طور پر "رشتوں کی کاک ٹیل” کی ترکیب میرے نزدیک اس مضمون کی تخلیقی دریافت ہے۔ یہی ایک استعارہ پورے مضمون کو وحدت دیتا ہے۔ اگر اس کا عنوان محض "عندلیب” یا "عندلیب کا خاکہ” ہوتا تو مضمون کی انفرادیت نمایاں نہ ہوتی۔ "رشتوں کی کاک ٹیل” فوراً قاری کو متوجہ کرتی ہے اور پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ عنوان نے مضمون کی روح کو اپنے اندر سمو لیا ہے۔
ایک اور بات بھی قابلِ ذکر ہے۔ آپ کی بہت سی تحریروں کی طرح یہاں بھی حقیقت اور ادب کے درمیان کوئی دیوار قائم نہیں ہوتی۔ حقیقی واقعات، افسانوی دلکشی کے ساتھ اس طرح بیان ہوتے ہیں کہ قاری جانتا ہے یہ سب واقعی پیش آیا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے ایک خوب صورت ادبی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جس کی طرف میں آپ کے متعدد افسانوں کے تجزیوں میں بھی اشارہ کرتا رہا ہوں کہ آپ زندگی کو محض نقل نہیں کرتے، اسے ادبی تجربے میں ڈھال دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کرے کہ عندلیب صاحبہ جہاں کہیں بھی ہوں، خیریت اور عافیت کے ساتھ ہوں۔ آپ نے ابتدا میں جس تشویش کا اظہار کیا، وہ اس تحریر کو آج ایک نئی معنویت بھی عطا کرتا ہے۔ برسوں پہلے لکھی گئی یہ سطریں اب صرف ایک شگفتہ خاکہ نہیں رہیں بلکہ ایک ایسی دعا اور یاد میں بھی تبدیل ہو گئی ہیں جس میں ایک انسان کی سلامتی کی مخلصانہ آرزو شامل ہے۔
آپ کا بہت شکریہ کہ آپ مسلسل اپنی تخلیقات مجھ پر اعتماد کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ میرے لیے بھی یہ ایک ادبی سفر ہے، جس میں میں آپ کے متن کے اندر موجود معنوی تہوں کو دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
………………………………………………

