Blog

اردو یونیورسٹی اردو زبان و تہذیب كا گہوارہ۔ پروفیسر محمد زاہدالحق – ثقافتی سرگرمی مرکز، اردو یونیورسٹی میں تخلیق کار سے ملاقات پروگرام

اردو یونیورسٹی اردو زبان و تہذیب كا گہوارہ۔ پروفیسر محمد زاہدالحق
ثقافتی سرگرمی مرکز، اردو یونیورسٹی میں تخلیق کار سے ملاقات پروگرام

حیدرآباد۔”اردو یونیورسٹی اردو زبان و تہذیب كاگہوارہ ہے۔ مجھے یہاں آكر ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ یہاں كے ارباب اختیار، اساتذہ ،  طلبہ  اور دیگر ذمہ داران نے اپنی محنت اور لگن كے ذریعے اس جامعہ كو تیز رفتار ترقی عطا كی ہے۔ یہاں كے فارغین اپنی لیاقت ، ڈسپلن اور تہذیب و شائستگی  كی بنا پر علمی حلقوں میں منفرد شناخت كے حامل ہیں۔”ان خیالات کا اظہار پروفیسر محمد زاہد الحق ،ڈائرکٹر خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری نے ثقافتی سرگرمی مرکز، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی جانب سے منعقدہ تخلیق کار سے ملاقات پروگرام میں کیا۔ انھوں نے خدا بخش لائبریری كی تاریخ اور اس كے علمی ذخیرے كی اہمیت و افادیت سے بھی واقف كرایا۔ انھوں نے بتایا كہ اس كتب خانے میں  چار ایسے مخطوطات ہیں جن كو قومی اہمیت  كا حامل مخطوطہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ مخطوطے ہیں : تاریخ خاندان تیموریہ(جسے اكبر نے لكھوایا تھا اور اس كے پہلے صفحے پر شاہ جہاں كا دستخط موجود ہے)، دیوان حافظ  (اس كے مختلف اشعار سے فال نكالنے كے بعد  ہمایوں اور جہاں گیر نے حاشیہ لكھا ہے۔ شاہ جہاں نے اس كی تصدیق كی ہے۔)، كتاب الحشائش(یہ علم حیات پر مبنی ہے)اور كتاب التصریف(ابوالقاسم زہراوی كی تصنیف جو سرجری پر مبنی ہے۔یہ 1190عیسوی كا مخطوطہ ہے۔)
اس موقع پر صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے پروفیسر صدیقی محمد محمود، ڈین بہبودی طلبہ نے کہا کہ پروفیسر زاہدالحق ایك ایسے استاد ہیں جو اپنے طلبہ كی تعلیم كے ساتھ ساتھ ان كی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ كمرہ جماعت كے علاوہ سیمنار ،وركشاپ وغیرہ میں شركت او مقالہ لكھنے سے لے كر ان كی پیش كش تك كے گر سكھاتے ہیں۔ انھوں اپنی میراث كو اپنی حد تك نہیں ركھا ہے بلكہ اسے نئی نسل تك منتقل كرنے میں مصروف ہیں۔ وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں كو بھی بہ خوبی نبھاتے ہیں۔
پروفیسر سید علیم اشرف جائسی پروفیسر ایمریٹس مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اور سابق ڈین بہبودی طلبہ نے اپنے خصوصی خطاب میں پروفیسر محمد زاہد الحق کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لیے بے حد خوشی كی بات ہے كہ اورینٹل اسٹڈیز كے حوالے سے پوری دنیا میں شہرت ركھنے والی  مایہ ناز خدا بخش لائبریری جو میرا پسندیدہ ادارہ ہے ، میں میرے عزیز پروفیسر  زاہدالحق كا بہ حیثیت ڈائركٹر تقرر ہوا ہے۔ مجھے كامل یقین ہے كہ ان كی قیادت میں اس ادارے كو نئی بلندیاں حاصل ہوں گی۔

پروگرام کے آغاز میں یونیورسٹی کلچرل کوآرڈنیٹر اور صدر ڈراما کلب ڈاکٹر معراج احمد نے ثقافتی سرگرمی مرکز کی کارگزاریوں کا مختصر تعارف پیش کیا۔ یونیورسٹی لٹریری کلب کے صدر اور جوائنٹ ڈین بہبودی طلبہ پروفیسر فیروز عالم نے خیر مقدمی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر زاہد الحق کی گوناگوں خوبیوں اور علمی و انتظامی فتوحات پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر محمد امتیاز عالم مینٹور یونیورسٹی لٹریری کلب نے مہمان کا جامع تعارف پیش کیا۔ ڈاکٹر طلحہ فرحان مینٹور یونیورسٹی لٹریری کلب نے جلسے کی نظامت کی جبکہ ثانیہ خاتون سیکرٹری لٹریری کلب کے اظہار تشکر پر جلسے کا اختتام عمل میں آیا۔ اس موقع پر اساتذہ اور طلبہ کی کثیر تعداد موجود تھی۔

Related posts

ارضِ فلسطین اور مسلمانوں کے لیے اس کی اہمیت

Paigam Madre Watan

"حیدرقریشی کا تعارف ” پر محترمہ نجیدہ نظربائیوا کی بہترین کوشش : کتاب دستیاب ہوئی : مطیع الرحمن عزیز

Paigam Madre Watan

ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ کہتے ہیں

Paigam Madre Watan