Blog

لکھنؤ نے پیارا انسان اور اردو نے اپنا مخلص خادم کھو دیا: پرویز ملک زادہ

لکھنؤ نے پیارا انسان اور اردو نے اپنا مخلص خادم کھو دیا: پرویز ملک زادہ
امریکن انسٹی ٹیوٹ آف انڈین اسٹڈیز میں آفتاب اثر ٹانڈوی کو کیا گیا یاد
لکھنؤ9؍اگست،آفتاب اثر ٹانڈوی کا انتقال صرف ایک شاعر کا انتقال نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بے حد محبت کرنے والے ایسے شخص کا انتقال ہے جو دوسروں کی ادبی محفلوں کے لیے بھی دن رات ایک کر دیتا تھا۔ پورے شہر میں دوسروں کی ادبی محفلوں کے لیے گردش کرکے کارڈ بانٹنا، پھر ان محفلوں کے بینر لگانا، ادبی جلسوں کے دوران لوگوں کو چائے اور ناشتہ پیش کرنا—یہ سب ذمہ داریاں بھی وہی اٹھاتے تھے۔ اسی لیے میں اور کچھ دوسرے لوگ انہیں ’’خادمِ اردو‘‘ کہتے تھے، جو بالکل درست تھا۔ شہرِ لکھنؤ نے ایک بہت پیارا انسان کھو دیا، جو ہر شخص کے سکھ دکھ میں شریک رہتا تھا۔ اللہ پاک آفتاب اثر ٹانڈوی کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار پرویز ملک زادہ نے امریکن انسٹی ٹیوٹ آف انڈین اسٹڈیز میں آفتاب اثر ٹاندوی کی یاد میں منعقد ایک تعزیتی جلسے کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
امریکن انسٹی ٹیوٹ آف انڈین اسٹڈیذ کے ہیڈ ڈاکٹر احتشام احمد خان نے تعزیتی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے شہر نگاراں کی مشہور و معروف ادبی و سماجی شخصیت آفتاب اثر ٹانڈوی اگر صرف شاعر ہوتے تو شاید کچھ خاص قابل ذکر نہ ہوتے، اور گراں قدر ادیب و ناقد ہوتے تب بھی اتنے اہم نہ ہوتے جتنا اہم ان کی شخصیت کو عوامی خدمات، فلاحی و رفاہی کاموں کی خوش دلی سے انجام دہی نے بنادیا، ہم نے بارہا دیکھا کہ وہ اردو کے پروگرام خصوصاً نعتیہ مشاعروں میں عبادت سمجھ کر اپنی خدمات انجام دیتے تھے۔
سینئر صحافی ضیاء اللہ صدیقی نے اپنے تعزیتی کلمات میں کہا کہ ان کے اخلاص و ایثار اور بزموں میں ان کی سرگرمیاں ہم نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ وہ صرف عمدہ شاعر ہی نہیں بلکہ لکھنوی تہذیب کے علمبردار، اور ادب کو عبادت والے شخص تھے۔
اس موقع پر انٹگرل یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر سید محمد صبیح ندوی، تنظیم محبان اردو کے صدر ڈاکٹر ارشاد احمد خان بیاروی، جدید اردو ادب فاؤنڈیشن کے سیکریٹری ڈاکٹر شجاع الحق، ڈاکٹر سید انوار صفی، ڈاکٹر ناظر حسین، ڈاکٹر اعجاز احمد، مولانا عبدالکریم ندوی، یونس سلیم وغیرہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم آفتاب اثر ٹانڈوی نازک سے نازک گھڑی میں تعلق کی ڈور کو ٹوٹنے نہیں دیتے تھے، وہ ہر حال میں صابرو شاکر رہتے، اردو زبان وادب تئیں ان کی بے لوث خدمات کو فراموش نہ کیا جاسکے گا، ان کے جیسی منکسرالمزاجی اب ہم  لوگ دیکھنے کو ترس جائیں گے۔

Related posts

"حیدرقریشی کا تعارف ” پر محترمہ نجیدہ نظربائیوا کی بہترین کوشش : کتاب دستیاب ہوئی : مطیع الرحمن عزیز

Paigam Madre Watan

ڈاکٹر نوہیرا شیخ و ہیرا گروپ کے حقوق پر توجہ ضروری – ایجنسیوں کی کارروائیوں اور مبینہ عدم توازن پرسنگین سوالات

Paigam Madre Watan

“Harmony’s Horizon: Dr. Nowhera Shaikh’s Visionary Journey for a Flourishing Arunachal Pradesh”

Paigam Madre Watan