Blog

ڈاکٹر نوہیرا شیخ و ہیرا گروپ کے حقوق پر توجہ ضروری – ایجنسیوں کی کارروائیوں اور مبینہ عدم توازن پرسنگین سوالات

ڈاکٹر نوہیرا شیخ و ہیرا گروپ کے حقوق پر توجہ ضروری
ایجنسیوں کی کارروائیوں اور مبینہ عدم توازن پرسنگین سوالات

نئی دہلی / حیدرآباد (مطیع الرحمن عزیز) — ہیرا گروپ آف کمپنیز اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ سے متعلق جاری قانونی اور انتظامی کارروائیوں کے درمیان ایک بار پھر یہ سوال نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے کہ اس پورے معاملے میں کمپنی، اس کی انتظامیہ اور سرمایہ کاروں کے قانونی حقوق کو کس حد تک مناسب توجہ حاصل ہو رہی ہے۔ معاملے سے وابستہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ کارروائیوں، جائیدادوں کی رجسٹری، ضبطی اور نیلامی کے اقدامات پر جس تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے، اسی تناسب سے کمپنی کے مالیاتی ریکارڈ، سرمایہ کاروں کے دعووں، واجبات اور ادائیگی کے مکمل طریقہ کار کی وضاحت بھی سامنے آنی چاہیے۔ حامیوں کے مطابق اصل سوال صرف جائیدادوں کی نیلامی یا قانونی کارروائی کا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ اگر کمپنی کی املاک کو فروخت کر کے سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ مقصود ہے تو پہلے یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ کس سرمایہ کار کا کتنا دعویٰ ہے، کمپنی پر مجموعی واجبات کتنے ہیں، دستیاب اثاثوں کی اصل مالیت کیا ہے اور نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کس قانونی طریقہ کار کے تحت مستحقین تک پہنچائی جائیگی۔ ہیرا گروپ سے وابستہ حلقوں کی جانب سے مسلسل یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کارروائی اور تحقیقات کے مختلف مراحل کے ساتھ ساتھ ایک ایسا جامع اور شفاف نظام بھی سامنے آنا چاہیے جس سے تمام فریقین کو معلوم ہو سکے کہ معاملے کی موجودہ قانونی اور مالی حیثیت کیا ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر جائیدادوں کی نیلامی کا مقصد سرمایہ کاروں کے مالی حقوق کی تکمیل ہے تو اس سے قبل کمپنی کے اثاثوں، واجبات، سرمایہ کاروں کے دعووں اور متعلقہ ریکارڈ کی مکمل جانچ انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق محض جائیدادوں کی نیلامی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کے استعمال اور تقسیم کا ایک واضح، شفاف اور قابلِ نگرانی نظام قائم کیا جائے۔ یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر مختلف املاک کو نیلامی کیلئے پیش کیا جا رہا ہے تو ان کی حقیقی مارکیٹ ویلیو، ریزرو پرائس، فروخت کی شرائط اور نیلامی کے طریقہ کار کو بھی پوری شفافیت کے ساتھ سامنے لایا جانا چاہیے، تاکہ کسی فریق کو یہ اعتراض نہ رہے کہ قیمتی اثاثے کم قیمت پر فروخت کیے گئے۔
ہیرا گروپ کی سی ای او ڈاکٹر نوہیرا شیخ سے متعلق قانونی کارروائیاں بھی اس پورے معاملے کا اہم حصہ ہیں۔ کمپنی کے حامیوں کا موقف ہے کہ کسی بھی زیرِ سماعت معاملے میں تحقیقات اور قانونی کارروائی اپنی جگہ، لیکن ملزم یا متعلقہ فریق کو قانون کے مطابق اپنا موقف پیش کرنے، دستاویزات رکھنے اور اپنے حقوق کے تحفظ کا مکمل موقع ملنا بھی عدالتی عمل کا بنیادی تقاضا ہے۔ کمپنی کے وکلا کی جانب سے مختلف مواقع پر یہ مو ¿قف سامنے آنے کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے کہ جائیدادوں کے حوالے سے حتمی اقدامات سے قبل متعلقہ مالیاتی ریکارڈ اور سرمایہ کاروں کے دعووں کی مکمل جانچ کی جائے، تاکہ بعد میں کسی قسم کی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ ہیرا گروپ کے معاملے میں جائیدادوں کی نیلامی کا موضوع سب سے زیادہ حساس بن چکا ہے۔ کمپنی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی کمپنی کے بڑے پیمانے پر اثاثے فروخت کیے جائیں اور ان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا تعلق لاکھوں سرمایہ کاروں کے مالی مفادات سے ہو تو نیلامی کا عمل معمول کی کارروائی نہیں رہتا بلکہ اس کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جائیداد کی قیمت کا درست تعین، مناسب ریزرو پرائس، شفاف نیلامی اور فروخت کے بعد رقم کے استعمال کا واضح طریقہ کار اس عمل کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ اگر کسی اثاثے کی فروخت اس کی ممکنہ مارکیٹ ویلیو سے کم قیمت پر ہوتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر کمپنی کے مجموعی اثاثوں اور بالآخر سرمایہ کاروں کے ممکنہ مفادات پر پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنی کی جانب سے اس معاملے میں قیمتوں اور نیلامی کے طریقہ کار پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کو بھی قانونی اور انتظامی سطح پر مکمل وضاحت کے ساتھ دیکھے جانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
اس پورے معاملے کا سب سے اہم پہلو وہ سرمایہ کار ہیں جنہوں نے ہیرا گروپ کے پلیٹ فارم پر اپنی رقوم لگائیں۔ قانونی کارروائی کا حتمی مقصد اگر سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ ہے تو ہر قدم ایسا ہونا چاہیے جس سے ان کے حقوق محفوظ ہوں اور انہیں ان کی جائز رقم کی واپسی کے امکانات زیادہ سے زیادہ مضبوط ہوں۔سرمایہ کاروں کے حلقوں میں یہ سوال بھی موجود ہے کہ کمپنی کے اثاثوں اور واجبات کا جامع حساب کب سامنے آئے گا اور یہ کیسے طے کیا جائے گا کہ کس سرمایہ کار کو کتنی رقم ادا کی جانی ہے۔ اس سلسلے میں ایک مستند اور قابلِ تصدیق فہرست، دعووں کی جانچ اور ادائیگی کے واضح نظام کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ہیرا گروپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی کا مقصد کسی ادارے کو غیر ضروری طور پر کمزور کرنا نہیں بلکہ اگر کوئی مالی یا قانونی تنازع موجود ہے تو اسے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کرنا ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق کمپنی کے قابلِ قدر اثاثوں کی فروخت، کاروباری ڈھانچے پر اثرات اور انتظامی سرگرمیوں میں رکاوٹ کے نتیجے میں اگر کمپنی کی مجموعی مالی صلاحیت کمزور ہوتی ہے تو اس کا نقصان بالآخر ان ہی سرمایہ کاروں کو پہنچ سکتا ہے جن کے مفادات کے تحفظ کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔اس لیے ان کا مطالبہ ہے کہ ہر اقدام کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جائے اور ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے جس میں قانونی تقاضے، سرمایہ کاروں کے مفادات، کمپنی کے اثاثوں کی حقیقی قدر اور شفاف مالیاتی حساب سب کو یکساں اہمیت حاصل ہو۔

Related posts

 جامعہ اسلامیہ فیض عام، مئو ناتھ بھنجن میں عظیم الشان علمی و تربیتی نشست کا انعقاد، جید علمائے کرام کی شرکت

Paigam Madre Watan

Heera Group: An invitation to join a world free from the curse of usury

Paigam Madre Watan

“Harmonizing Labor Rights and Economic Growth: AIMEP’s Visionary Agenda”: Aalima Dr Nowhera Shaikh

Paigam Madre Watan