Blog

عاصم وقار کے رازدار تھیلے میں اویسی کا ہیرا گروپ کیخلاف سازش ہے؟

عاصم وقار کے رازدار تھیلے میں اویسی کا ہیرا گروپ کیخلاف سازش ہے؟

تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز

سید عاصم وقار نے ایم آئی ایم کو الوداع کہتے ہوئے کانگریس کا دامن تھام لیا، اور اویسی پر پوچھے جانے والے سوالوں کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے پاس اویسی کیخلاف رازداریوں سے بھرا ہوا جھولا ہے، جس میں اویسی کی بدعنوانیوں کے اتنے سارے راز ہیں جس سے ایم آئی ایم کی بنیاد ہلائی جا سکتی ہے، لیکن ان رازوں کو عاصم وقار تب کھولیں گے جب ان پر حملے کئے جائیں گے، ابھی تک اویسی اینڈ کمپنی کی جانب سے کسی طرح کا حملہ نہیں کیا گیا ہے، اویسی کو اس بات کا ڈر ہے کہ ان کی پارٹی کا سب سے بڑا ترجمان پارٹی کے تعلق سے بہت کچھ جانتا ہے، وہ نہ صرف ان کی پارٹی کو بلکہ انہیں بھی ہلا کر رکھ دے گا۔ اویسی زبانی طور پر بڑبولے تو ہیں ہی اور ان کی مغز میں اتنی قوت برداشت بھی نہیں ہے کہ وہ کسی کے اتنے بڑے طماچے کو اتنی آسانی سے برداشت کرلیں، مہاراشٹر ودھان سبھا الیکشن میں ممبرا سے ایم آئی ایم کے امیدوار نے جب اچانک پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے وقت اپنی امیدواری واپس لے لی تھی، اس وقت اویسی نے تلخ لہجہ اختیار کرتے ہوئے اس مکرے ہوئے امیدوار کی موت کے وقت کتے کے فرشتے کے ذریعہ اس کی روح قبض کرنے تک کی بات کہہ ڈالی تھی، جس کا جواب اویسی مخالفین نے یہ دیا تھا کہ جب اویسی کی موت ہوگی تو کون سا فرشتہ ان کی روح قبض کرے گا، کیونکہ اویسی کے دامن میں بہت ساری ناانصافیاں اور سازش و مسلم امہ کے خلاف کئے جانے والے غلط اقدام شامل ہیں۔
جناب عاصم وقار صاحب سے یہ سوال جائز بنتا ہے کہ ان کے سابق مکھیا یعنی اسد اویسی کا ہیرا گروپ کو ڈوبونے اور اس کے سازش کے تعلق سے آپ کے رازدار تھیلے میں کوئی راز ہے کہ نہیں۔ جنہوں نے ہیرا گروپ آف کمپنیز پر 2012 میں ایف آئی آر کیا، اور اپنے ہی ایف آئی آر میں شکست فاش سے دو چار ہوئے، جس کے عوض اویسی کو سو کروڑ روپیہ ہتک عزت کا سامنا آج تک ہے، 2016 میں اویسی صاحب جب ہیرا گروپ سے شکست فاش سے دو چار ہوئے تو انہوں نے ایک نئی پلاننگ کے ساتھ اپنے سازشی جال پھینکے، ہیرا گروپ میں کچھ فرضی سرمایہ کاروں کو داخل کیا، اور ایک بانگ لگانے والا ہرکارہ متعین کردیا، اویسی صاحب نے اپنے آقاﺅں کے ذریعہ ہیرا گروپ کے اکاﺅنٹ اور دفتروں پر تالہ لگاتے ہوئے ہیرا گروپ سی ای او ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو گرفتار کرادیا، اور بانگ لگانے والے شخص سے یہ اعلان کرا دیا کہ کمپنی ڈوب گئی، سب نکل کر ایف آئی آر کرو، اور کمپنی کیخلاف زیادہ سے زیادہ ایف آئی آر ہو اس کیلئے مفت قانونی مدد اور سفر کے اخراجات بھی برداشت کرائے۔ منادی کرایا گیا کہ اب کمپنی اُبر کر کھڑی ہونے والی نہیں ہے، اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو ایک جگہ سے رہائی ہوگی تو دوسری جگہ قید کرا دیا جائیگا، دوسری جگہ سے رہائی ملے گی تیسری جگہ گرفتار کرا دیا جائیگا۔ کمپنی کی جائیدادوں پر ایجنسی کے اٹیچمنٹ نافذ کرا دئے گئے۔
عاصم وقار صاحب آپ کے رازدار تھیلے میں یہ بات ہے یا نہیں، کہ ہیرا گروپ کے پاس سارے وسائل ہونے کے باوجود آج تک کمپنی سی ای او گرفتار ہے، اور گرفتاری کے دوران حیدرآبادی زمین مافیا ہیرا گروپ کی جائیدادوں پر قبضے کئے جا رہے ہیں اور یہ سب زمین مافیا آپ کے سابق مکھیا کے قریبی لوگ ہیں۔ ہیرا گروپ کی زمینوں کو سستی قیمتوں پر نیلام کرایا جا رہا ہے۔ جب کہ ابھی تک عدالتوں سے کمپنی کیخلاف کوئی ایسا ثبوت مہیا نہیں ہو سکا ہے جس کے عوض کمپنی پر اتنی بڑی کارروائی ہو۔ واضح رہے کہ اسد اویسی کی جانب سے یہ ساری کارروائیاں اس لئے ہو رہی ہیں کیونکہ ہیرا گروپ نے اویسی صاحب کے شرائط پر رضامندی کا اظہار نہیں کیا۔ اویسی صاحب کی تین بڑے مطالبات ہیرا گروپ سے رہے ہیں جس میں اول یہ کہ اویسی صاحب کی بینک کے سودی کاروبار میں ہیرا گروپ کی وجہ سے سود شرح میں نقصان ہو رہا ہے لہذا یہ کمپنی اور اس کا صدر دفتر کسی دوسرے شہر منتقل کر دیا جائے۔ دوسرا مطالبہ تھا کہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ حیدر آباد کے سماجی خدمت سے سبکدوش ہو جائیں۔ تیسرا مطالبہ تھا کہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے حیدرآبادی نواحی خطہ میں جو میڈیکل کالج تعمیر کیا ہے اسے چلانے سے باز آ جائیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر واقعی ایسے اہم راز موجود ہیں تو کیا ان میں ہیرا گروپ آف کمپنیز کے خلاف ماضی میں ہونے والی کارروائیوں، شکایات، مقدمات اور مبینہ سیاسی دباو ¿ سے متعلق کوئی معلومات بھی شامل ہیں؟ یہ سوال محض سیاسی تجسس نہیں، بلکہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ہیرا گروپ کا معاملہ برسوں سے قانونی، انتظامی اور سیاسی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ہیرا گروپ کے خلاف کارروائیوں کی تاریخ، اس سے وابستہ مقدمات، مختلف سرکاری اداروں کی تحقیقات، جائیدادوں کی ضبطی و نیلامی اور کمپنی کی سربراہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے خلاف قانونی کارروائیوں نے ایک طویل اور پیچیدہ معاملہ پیدا کر دیا ہے۔ اس پورے پس منظر میں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ اگر عاصم وقار واقعی اپنی سابق جماعت کے اندرونی معاملات سے اتنی گہری واقفیت رکھتے ہیں، تو کیا وہ یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ ہیرا گروپ کے خلاف ابتدائی سیاسی شکایات اور بعد کی کارروائیوں کے درمیان اصل تعلق کیا تھا؟ کیا یہ محض قانونی اور انتظامی کارروائی تھی؟ یا اس کے پیچھے سیاسی اختلافات بھی کارفرما تھے؟ اگر سیاسی اختلافات موجود تھے تو ان کی نوعیت کیا تھی؟ اور سب سے اہم سوال: کیا عاصم وقار کے پاس اس حوالے سے کوئی ایسی دستاویزی یا قابلِ تصدیق معلومات موجود ہیں جو عوام کے سامنے آج تک نہیں آسکیں؟
ہیرا گروپ کے معاملے میں 2012 کے دوران درج ہونے والی ایف آئی آر اور اس کے بعد پیدا ہونے والے قانونی تنازع کا ذکر بارہا مختلف حلقوں میں کیا جاتا رہا ہے۔ اگر اس معاملے میں کسی سیاسی شخصیت یا تنظیم کا کردار ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو اس کی جانچ کے لیے ایف آئی آر، عدالتی احکامات اور سرکاری ریکارڈ کا مطالعہ ضروری ہے۔ یہاں ایک اور سوال سامنے آتا ہے: اگر کسی فریق نے قانونی کارروائی شروع کی تھی، تو اس کارروائی کا نتیجہ کیا نکلا؟ اگر مقدمہ عدالت میں اپنے دعووں کو ثابت کرنے میں ناکام رہا، تو اس کے بعد پیدا ہونے والے سوالات کا جواب بھی عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ اسی طرح اگر عدالت نے کسی مرحلے پر کسی الزام کو تسلیم کیا یا کسی کارروائی کی توثیق کی تو اس کا حوالہ بھی واضح طور پر دیا جانا چاہیے۔ صحافت کا تقاضا یہی ہے کہ دعویٰ اور ثبوت کو الگ الگ رکھا جائے۔ 2016 کے بعد حالات نے کیوں کروٹ لی؟ ہیرا گروپ کے معاملے میں 2016 کے بعد ہونے والی پیش رفت بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کمپنی کے خلاف مختلف شکایات، تحقیقات، اکاو ¿نٹس اور دفاتر سے متعلق کارروائیاں، کمپنی کی سربراہ کی گرفتاری اور بعد ازاں جائیدادوں سے متعلق سرکاری اقدامات ایک طویل سلسلے کا حصہ ہیں۔
اگر سیاسی تنازع کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو اس کا ثبوت کہاں ہے؟ اگر کوئی سیاسی دباو نہیں تھا تو پھر ان دعووں کی حقیقت کیا ہے؟ اور اگر کسی سیاسی شخصیت یا گروہ پر سازش کا الزام لگایا جاتا ہے تو اس کے لیے قابلِ قبول دستاویزات، سرکاری ریکارڈ یا عدالتی مشاہدات کہاں ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جنہیں نعروں سے نہیں بلکہ شواہد سے حل کیا جانا چاہیے۔عاصم وقار نے اگر واقعی اپنی سابق جماعت کے اندرونی معاملات سے متعلق اہم معلومات ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو ان کے لیے سب سے بہتر راستہ یہی ہوگا کہ وہ جذباتی بیانات کے بجائے دستاویزات کے ساتھ حقائق سامنے رکھیں۔ خصوصاً اگر ان کے پاس ہیرا گروپ کے معاملے سے متعلق کوئی ایسی معلومات ہیں جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ کسی سیاسی شخصیت، جماعت یا اس کے وابستگان نے قانونی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، تو ایسی معلومات کو عوام کے سامنے لانا ایک اہم سیاسی اور صحافتی پیش رفت ہوگی۔ لیکن اگر ان کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں تو محض ”رازوں کے تھیلے“ کا ذکر سیاسی سنسنی تو پیدا کر سکتا ہے، مگر حقیقت سامنے نہیں لا سکتا۔ ہیرا گروپ کی جائیدادوں سے متعلق کارروائیوں نے ایک اور اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ اگر کسی کمپنی کی جائیدادیں سرکاری کارروائی کے تحت فروخت یا نیلام کی جا رہی ہیں تو عوام کا یہ جاننا حق ہے کہ: جائیدادوں کی حقیقی مارکیٹ ویلیو کیسے طے ہوئی؟ ریزرو پرائس کس بنیاد پر مقرر کی گئی؟ نیلامی کا طریقہ کار کیا تھا؟ کتنے دعویدار یا خریدار موجود تھے؟ نیلامی میں شفافیت کے کیا معیارات اختیار کیے گئے؟ حاصل ہونے والی رقم کہاں جائے گی؟ سرمایہ کاروں یا دعویداروں کے حقوق کا تعین کس بنیاد پر ہوگا؟ یہ سوالات کسی ایک فرد کے حق یا مخالفت میں نہیں بلکہ شفافیت اور انصاف کے اصول کے تحت اٹھائے جانے چاہئیں۔ کیا اویسی اور ہیرا گروپ کے درمیان سیاسی اختلاف تھا؟ ہیرا گروپ کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی بعض حلقوں کی جانب سے سامنے آتا رہا ہے کہ اس کے اور اسد الدین اویسی کے درمیان سیاسی یا دیگر نوعیت کے اختلافات تھے۔ تاہم کسی بھی دعوے کو حقیقت قرار دینے سے پہلے اس کے قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہیں۔

Related posts

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کااعلیٰ سطحی راحتی وفدصوبائی جمعیت اہل حدیث آسام کے ساتھ آسام کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں

Paigam Madre Watan

आयुर्वेद पर बढ़ा भरोसा : छह माह में रिकार्ड 50 हजार मरीज पहुंचे

Paigam Madre Watan

Attention Needed on Rights of Dr. Nowhera Sheikh and Heera Group – Serious Questions on Agencies’ Actions and Alleged Imbalance

Paigam Madre Watan