ووٹ چوری و ڈکیتی: مودی کے گیانیش اور اویسی—دو لعل
تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز
ووٹ چوری کا معاملہ پہلی بار 2019 لوک سبھا الیکشن الیکشن کے بعد منظر عام پر آیا، لوگوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں چھیڑ چھاڑ کر کے الیکشن جیتتی ہے، اس کے بعد وقت وقت پر ریاستی الیکشن میں یہ بات اجاگر ہوتی رہی، 2025 میں راہل گاندھی نے لامحدود ثبوتوں کے ساتھ اس معاملے کو اٹھایا، لیکن راہل گاندھی جیسے قد آور اپوزیشن لیڈر کے ہزاروں ثبوت دینے کے باوجود انتظامیہ اور بھارت میں فوت ہوچکی قانون انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگا، بہار ودھان سبھا الیکشن آیا، جہاں پر عوامی رائے سے مختلف رزلٹ آیا، ساتھ ہی ساتھ اپنے لعل اویسی کے 5 ایم ایل اے جتا کر مودی جی نے اپنی مددگار پارٹی ایم آئی ایم کی عزت بچائی، آسام الیکشن آیا وہاں بھی بی جے پی نے غیر یقینی جیت درج کی، ایک بار پھر بنگال الیکشن میں عوامی رائے سے پرے جاکر بی جے پی نے حکومت بنالی، اور اپنے مددگار اور ہزار کروڑ کے دلال بابری مسجد بنانے کے فتنہ باز کو دو سیٹوں کی امیدواری پر دونوں جگہ جیت دلادی، لوگوں نے ہمایوں کبیر کی جیت پر اس رائے کا اظہا کیا کہ جس ہمایوں کبیر کو اپنے گھر کا ووٹ ملنے والا نہیں تھا اسے مودی جی نے یوگیش کمار کی مدد سے دونوں جگہوں پر جیت دلائی۔
یہ بات آج منظر عام پر آ چکی ہے، مگر 2014 اور 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں حیدر آباد سے بوتھ کیپچرنگ اور غنڈہ گردی کے الزامات سامنے آئے تھے، اور امجداللہ خان سمیت کئی لوگوں نے الزام لگایا کہ حیدر آباد ممبرپارلیمنٹ اسداویسی کی سیٹ پر ووٹ کی ڈکیتی ہوئی ہے، لیکن انتظامیہ کے کانوں پر جوں اس وقت بھی نہیں رینگا، 2019 میں شام تک حیدرآباد کے ووٹ فیصدی کچھ اور اعلان ہوئے، رات گزری اور صبح کو کچھ دیگر ووٹ فیصد کا اعلان کیا گیا۔ رات بھر حیدرآبادی میڈیا بتا رہی تھی موجودہ اعلان شدہ ووٹ فیصد میں اویسی ہارے ہوئے ہیں، لیکن صبح کو اعلان ہوئے الیکشن کمیشن کے ووٹ فیصد میں اضافہ سے اویسی کی سیٹ پختہ ہوگئی۔
اویسی کی پارلیمنٹ سیٹ مشکوک تھی، اور آئندہ بھی رہے گی، چند بولنے اور لکھنے والوں نے یہاں تک کہا کہ ووٹ چوری اور بوتھ کیپچرنگ کا خفیہ راز مودی جی کو اسدالدین اویسی نے سکھایا ہے، گزشتہ کل کے اخبار انڈین ایکسپریس کے پہلے صفحہ پر الیکشن کمیشن کی بدانتظاری کی شائع چار خبروں نے مودی اور الیکشن کمیشن کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ لہذا کل ملا کر مودی جی کی فتحیابی کے دو ہی لعل ٹھہرے ہیں، ایک ووٹ چوری کرواتا ہے یعنی گیانیش کمار اور دوسرا ملک بھر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار بنواتا اویسی ہے، اگر بات کی جائے خود مودی کے وارانسی ممبرپارلیمنٹ سیٹ کی، تو مودی جی کاﺅنٹنگ کے درمیان بری حالت سے جوجھ رہے تھے، لیکن کاﺅنٹنگ رفتار سست کراکے ، دیگر تمام حربے کے بعد خبر آئی کی نریندر دامودر داس مودی فتحایب ہو گئے۔
ووٹ چوری اور ڈکیتی میں اسداویسی کی شراکت مکمل طریقے سے سمجھی جا سکتی ہے، اپنی رائے کی پختگی کے لئے واصل اعظمی کی فیس بک سے پوسٹ اپنے موجودہ مضمون میں ہو بہو پیش کر رہا ہوں، واصل اعظم کی بات صد فیصد درست اور قابل غور ہے۔ واصل اعظمی لکھتے ہیں کہ ”ووٹ چوری کے معاملے پر ساری اپوزیشن پارٹیاں متفق تھیں کہ گیانیش کمار کی قیادت میں پورے صوبے کے نتیجے کو عوامی رائے کے برخلاف بدل دیا جا رہا ہے۔ اور ووٹ چوری کی جا رہی ہے۔ اسی طرح ایس آئی آر کے معاملے پر تمام اپوزیشن پارٹیوں کا ماننا تھا کہ الیکشن کمیشن والے جان بوجھ کر لوگوں کا نام کاٹ رہے ہیں۔ ووٹ چوری اور نام کاٹنے کے خلاف ساری پارٹیاں روڈ سے لے کر کورٹ تک لڑائی لڑ رہی تھیں، حکومتی اتحاد میں شامل پارٹیوں کے علاوہ ایک اور پارٹی ہے جو ووٹ چوری کے خلاف کبھی کچھ نہیں بولتی تھی، اور ناہی نام کاٹے جانے پر احتجاج کرتی تھی، اس پارٹی کا نام مجلس اتحاد المسلمین اور اس کے مکھیا کا نام اسداالدین اویسی ہے۔
جب اپوزیشن پارٹیاں ووٹ چوری کے خلاف بیان دے رہی تھیں، تب اویسی اس وقت اپوزیشن پارٹیوں کے خلاف بیان بازی کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ووٹ چوری ہوئی ہی نہیں، آج جب الیکشن کمیشن چیف کے دو نائبین نے ہی پورے گھوٹالے کا خلاصہ کر دیا ہے تو اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اویسی بھاجپا کا بچاؤ کس طرح کرتا ہے، مجھے پوری امید ہے کہ اس معاملے پر بھی اویسی ضرور بھاجپا کا ساتھ دے گا، کانگریس سپا اور دیگر پارٹیوں کے خلاف ہی اپنا منھ کھولے گا کیونکہ اویسی میں بھاجپا کے خلاف لڑنے کی ہمت تو ہے ہی نہیں۔
واصل اعظمی کی مندرجہ بالا باتیں اور نکات مجھے یہ یاد دلا رہے ہیں کہ یہی اویسی جب ایس آئی آر شروع ہو رہا تھا تو ایم آئی ایم مکھیا نے اس پر کچھ کہنے والوں کو ’بکواس‘ کرنے والا بتایا تھا، اور یہ بات بھی سچ ہے کہ چراغ لے کر تلاش کریں تو اویسی کا کوئی بیان جو ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن یا گیانیش کمار پر انگشت نمائی کرتا ہو دنیا کا کوئی شخص نہیں لا سکتا۔ حالانکہ ایس آئی آر میں اویسی کے فرضی ووٹوں کی کٹوتی لاکھوں کی تعداد میں ہوئی ہے، لیکن چونکہ اویسی کو صد فیصد یہ یقین ہے کہ ایک بھی ووٹ نا بچے، پھر بھی اسکے مہربان نریندر مودی جس طرح سے حیدر آباد میں اسے پہلے جتاتے آئے ہیں، بہار میں پانچ سیٹیں جتائے ہیں اور بنگال میں دلال منافق ہمایوں کبیر کو جتایا ہے تو فکر کیا کیا بات ہے، ہم تو جیت ہی جائیں گے، جب مودی جی اور گیانیش کمار مہربان تو کیا کریں گے اپوزیشن کے لیڈر اور راہل گاندھی و دیگر ملک کے باشندگان۔سیا ں بنے کوتوال تو ڈر کس بات کی؟
بھارت میں انتخابی عمل کی شفافیت ایک مرتبہ پھر قومی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ 23 ستمبر 2026 کو دی انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ دس ماہ کے دوران الیکشن کمیشن کے بعض فیصلوں اور اقدامات پر کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کیے۔ اعتراضات کا تعلق ووٹر فہرست میں نام شامل کرنے، نام حذف کرنے، فارم-6 میں تبدیلی، انتخابی ڈیٹا تک رسائی اور ایس آئی آر کے طریقۂ کار سے تھا۔ رپورٹ کے مطابق دونوں کمشنروں نے بعض اقدامات کو ”غیر مجاز“ اور ”غیر قانونی“ قرار دیتے ہوئے انتخابی فہرست کے ڈیٹا کو مرکزی سطح پر رکھنے اور ریاستی سطح کے انتخابی افسران کی رسائی محدود ہونے پر بھی سوال اٹھائے۔ گوا میں 97 ایسے ووٹروں کا معاملہ بھی سامنے آیا جنہیں مقامی انتخابی افسران نے دستاویزات کی بنیاد پر اہل قرار دیا، لیکن سافٹ ویئر میں ان کے فیصلے درج نہ ہوسکے۔ البتہ ان اعتراضات کو براہِ راست ”ووٹ چوری ثابت ہونے“ کے مترادف قرار دینا ابھی درست نہیں ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے جواب میں کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے فیصلے مکمل کمیشن کے متفقہ فیصلے تھے۔
اس معاملے میں اسدالدین اویسی کا موقف بھی قابلِ ذکر ہے۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق اویسی نے 2025 میں بہار کے ایس آئی آر کے خلاف الیکشن کمیشن سے ملاقات کی، تحریری اعتراضات پیش کیے اور خدشہ ظاہر کیا کہ عجلت میں ہونے والی نظرثانی سے حقیقی ووٹر متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ اویسی نے ایس آئی آر کے خلاف کبھی آواز نہیں اٹھائی، دستیاب ریکارڈ سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ 2025 کے بہار اسمبلی انتخابات میں ایم آئی ایم نے پانچ نشستیں جیتیں، جبکہ انتخابی نتائج میں ان کامیابیوں کو براہِ راست بی جے پی یا کسی سرکاری مدد کا نتیجہ قرار دینے والا کوئی ثابت شدہ ثبوت سامنے نہیں آیا مگر گواہی اور ثبوت اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔لہٰذا اصل سوال کسی ایک جماعت یا رہنما کی حمایت یا مخالفت سے زیادہ بڑا ہے: ووٹروں کے نام، انتخابی ڈیٹا اور ایس آئی آر کے پورے عمل میں شفافیت، جواب دہی اور عوامی اعتماد کیسے یقینی بنایا جائے؟


