Blog

گاؤں ٹکریا پر لکھا گیا میرا مضمون : مطیع الرحمن عزیز

گاؤں ٹکریا پر لکھا گیا میرا مضمون
مطیع الرحمن عزیز
چند دنوں قبل میں نے اپنے گاؤں ٹکریا کے حوالے سے ایک تحریر لکھی تھی، جس میں اپنے گاؤں کی عظمت، اس کی اہمیت اور اس کی ترقی کے لیے چند گزارشات پیش کی تھیں۔ مجھے امید تھی کہ میری بات گاؤں کے ہر فرد تک پہنچے گی، مگر اس پر کسی جانب سے کوئی تبصرہ یا ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ البتہ کل میرے گاؤں کے ایک دوست نے بتایا کہ آپ کے لکھے ہوئے مضمون کی گاؤں میں بڑی چرچا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گاؤں کی ایک معزز اور باوقار شخصیت نے میرے بارے میں یہ الفاظ کہے: "مطیع الرحمن عزیز کی اکثر باتوں سے مجھے اتفاق نہیں ہوا کرتا، لیکن گاؤں ٹکریا کے حوالے سے لکھے گئے حالیہ مضمون نے میرا دل جیت لیا۔ اس میں گاؤں کی ترقی، بچوں اور نوجوانوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے، اور گاؤں کے مفلوک الحال افراد کی کفالت کے لیے جو تجاویز پیش کی گئی ہیں، وہ نہایت قابلِ قدر ہیں۔ ان شاء اللہ ۔ میں ان پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔”
یہ بات سن کر مجھے بے حد خوشی اور حوصلہ ملا۔ میری خواہش کبھی ذاتی تعریف یا شہرت حاصل کرنا نہیں رہی، بلکہ ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ اپنے گاؤں، اپنے سماج اور اپنی قوم کے لیے کوئی ایسی بات لکھی جائے جو لوگوں کے دلوں تک پہنچے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنے۔ اگر میری تحریر ایک بھی شخص کو نیکی، خدمت اور تعمیری سوچ کی طرف مائل کر دے تو میں اپنی قلمی محنت کو کامیاب سمجھوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ گاؤں کی ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں ہوتی، بلکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں، باہمی اتحاد، ایک دوسرے کے احترام اور ضرورت مندوں کی مدد سے ہوتی ہے۔
آئیے ہم سب مل کر عہد کریں کہ اپنے گاؤں ٹکریا کو تعلیم، اخوت، خدمت اور ترقی کا ایک مثالی گاؤں بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ یہی ہمارے بزرگوں کے لیے بہترین خراجِ عقیدت اور آنے والی نسلوں کے لیے سب سے قیمتی تحفہ ہوگا۔
مطیع الرحمن عزیز

Related posts

“Harmony’s Horizon: Dr. Nowhera Shaikh’s Visionary Journey for a Flourishing Arunachal Pradesh”

Paigam Madre Watan

’’امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی‘‘کے موضوع پر ڈائیلاگ کا انعقاد

Paigam Madre Watan

ہیرا گروپ کے ساتھ برسوں سے جاری ظلم کی عظیم داستان

Paigam Madre Watan