Articles مضامین

ایم آئی ایم : جائیدادوں میں بے تحاشہ اضافہ؟ سوال پر بوکھلائے اویسی : تحریر …. مطیع الرحمن عزیز

ایم آئی ایم : جائیدادوں میں بے تحاشہ اضافہ؟ سوال پر بوکھلائے اویسی

تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز

یوں تو اسٹیجوں سے مشتعل تقریروں کے درمیان ایم آئی ایم مکھیا اسدالدین اویسی اپنی لمبی زبان باہر نکالتے ہوئے کہتے ہیں کہ میری زبان میں لگام نہیں ہے، مجھ سے کوئی بحث کر لے، میدان چھوڑ کر بھاگ جائے گا،لفافوں پر زندگی گزارنے والوں کو گھروں سے نکلنا دوبھر کردوں گا، وغیرہ۔ لیکن حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے ایک پریس کانفرنس کی ویڈیو میں صحافی نے جب یہ سوال پوچھا کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے نمائندوں اور کارکنوں کی جائیدادوں میں بے تحاشہ اضافے کا راز کیا ہے؟ تو اسد اویسی بوکھلائے ہوئے دیکھے گئے اور اگل بغل جھانکتے ہوئے بڑی کراہت آمیز شکل بنا کر بولتے ہیں کہ ”ہماری جائیداد میں اضافہ ہو رہا ہے تو تمہاری کیوں جل رہی ہے“۔ صحافی نے اویسی کے بغل میں بیٹھے ہوئے سابق بائکلہ ایم ایل اے وارث پٹھان کا نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ جو بغل میں بیٹھے ہوئے وارث پٹھان ہیں ان کی بھی جائیدادوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ جس پر خود کو سنبھالتے ہوئے اویسی نے بڑا بے معنی جواب دیا کہ پانچ سال پہلے زمینوں کی جو قیمت تھی، اب اس کی قیمت میں اضافہ ہو چکا ہے، جس کے جواب میں صحافی نے کہا کہ بیشک مہنگائی بڑھ گئی ہے، لیکن تین جائیداد کی تعداد تیس تک پہنچ گئی اس کا سبب کیا ہے۔
بیشک اویسی صحافی کے سوال کے جواب میں بوکھلا گئے، مگر بات ریکارڈ ہوچکی کہ اویسی میں سچے اور آزاد صحافیوں کے سوالوں کے جواب دینے کی نا ہمت ہے اور نا ان کے پاس الفاظ ہیں، کیونکہ سوالوں کے اطمینان بخش جواب وہ دیتے ہیں جو پاک دامن ہوتے ہیں، اویسی اپنے اجداد کے وقت سے ہی صاف پاک نہیں ہیں، ان کے اجداد یعنی اویسی کے دادا عبدلواحد اویسی کے تعلق سے آتا ہے کہ تلاش معاش کیلئے وہ بہت ہلکے کاروبار کرتے تھے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ رکشہ چلایاکرتے تھے، اویسی کے والد سلطان صلاح الدین اویسی کے تعلق سے آتا ہے انہوں نے حیدر آباد کی ایک بیوہ کے گھر میں کرایہ داری اختیار کی، بعد میں اسی بیوہ کے کرایہ والے مکان پر قبضہ کرلیا، جو عدالت کی مداخلت سے خالی کرایا گیا، اسی طرح سے اسدالدین اویسی کے والد سلطان صلاح الدین اویسی کے تعلق سے آتاہے کہ انہوں نے 2007 میں ہائی کورٹ کے مطابق ایک نامزد لینڈ گرابر ثابت ہوئے ہیں، انہوں نے افطار پارٹی کے نام پر ڈیفنس اراضی پر قبضہ کرلیا تھا۔
اسد اویسی اور ان کی پارٹی ایم آئی ایم کے لوگوں کی جائیدادوں میں اضافہ پر بات چلے گی تو یہ حقیقت پر بھی منظر عام پر آئے گی کہ اویسی نے 3000 کروڑ روپئے کی وقف جائیدادوں پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے، اور اگر دیکھنے اور سننے والی بات کہی جائے تو آج حیدرآباد یعنی کہ اویسی کے اپنے شہر اور ممبر پارلیمنٹ علاقہ میں ناجائز زمین قبضہ ملک میں سب سے زیادہ ہے، ہیرا گروپ آف کمپنیز اور اس کی سی ای او ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا دعوی ہے کہ حیدر آبادی زمین مافیا جن میں بیشتر کا تعلق اسد اویسی اور ایم آئی ایم سے ہے انہوں نے ان کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اور جن لوگوں نے قبضہ کیا ہے ان تمام کے گھروں پر ایم آئی ایم اور اسد اویسی کے بڑے بڑے پوسٹر اور بینر چسپاں ہیں۔ ایم آئی ایم لیڈر شہباز احمد خان نے حیدر آباد کے ہی ایک ٹریول ایجنٹ کی قاضی نجم الدین کی جائیداد قبضہ کیلئے اس کا قتل کرا دیا۔
آج کی موجودہ رپورٹ کے تعلق سے کہا جائے تو پتہ چلے گا کہ ایم آئی ایم سے حال ہی میں منتقل ہو کر موجودہ کانگریس لیڈر اور سابق AIMIM ترجمان سید عاصم وقار نے اسدالدین اویسی پر بڑا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی پارٹی کے اشتہاری فنڈ میں اسدالدین اویسی کا بھی 20 فیصد حصہ ہے۔ حالانکہ عوام بھی یہی الزام لگاتی ہے کہ اسٹنگ آپریشن میں صرف بنگال میں ووٹ پولورائزیشن کیلئے ہمایوں کبیر کو ہزار کروڑ روپئے دیئے گئے اور یہ شخص یعنی اسد اویسی جو ملک بھر میں جہاں جہاں بی جے پی کو کمزوری لاحق ہوتی ہے یا مسلم و اقلیتی ووٹ فیصلہ کن ہوتے ہیں وہاں بھیجا جاتا ہے، اب یہ بات واضح ہونا باقی ہے کہ اس کام کے بدلے اویسی کو کتنا رقم میسر ہوتی ہے، حالانکہ سابق وزیر اعلیٰ دہلی نے پریس کانفرنس میں یتن اوجھا امت شاہ کے قریبی شخص کے تعلق سے دعوی کیا کہ اکبر اویسی اور امت شاہ کے درمیان گجرات میں تین بجے رات کو میٹنگ ہوئی اور معاہدہ یہ طے پایا کہ جو نفرتی اسکرپٹ لکھ کر اویسی برادران کو بھیجا جائے گا اسی کا اپنی تقریروں میں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں گے، اور ہر اس جگہ ایم آئی ایم امیدوار کھڑا کرے گی جہاں اقلیتوں اور خصوصا مسلم ووٹ فیصلہ کن ہوتے ہیں، اب یہ سمجھنے والی بات ہے کہ اتنا بڑا معاہدہ فضول اور یوں ہی نہیں ہوا ہوگا۔
سیاسی میدان میں بلند آہنگ تقریروں، جارحانہ لب و لہجے اور اپنے مخالفین کو للکارنے کے لیے مشہور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اسدالدین اویسی اکثر اپنے خطابات میں یہ تاثر دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ کسی بھی سوال کا سامنا کرنے اور کسی بھی مخالف سے بحث کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ وہ متعدد مواقع پر اپنی بے باکی اور برجستگی کو اپنی سیاسی شناخت کا حصہ بناتے رہے ہیں۔ لیکن سیاست دان کی اصل آزمائش جلسے کا اسٹیج نہیں بلکہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک آزاد صحافی بغیر کسی پیشگی اسکرپٹ کے ایسا سوال پوچھ دے جس کا جواب محض سیاسی تقریر سے نہیں بلکہ اعداد و شمار، دستاویزات اور شفاف وضاحت سے دینا پڑے۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک پریس کانفرنس کی ویڈیو اسی نوعیت کے ایک سوال کی وجہ سے موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ ویڈیو میں ایک صحافی نے اویسی سے ان کے اور مجلس سے وابستہ بعض سیاسی نمائندوں کی جائیدادوں میں مبینہ غیر معمولی اضافے کے بارے میں سوال کیا۔ سوال کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ اگر کسی شخص کے اثاثوں یا جائیدادوں میں چند برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے تو اس اضافے کی اصل وجہ کیا ہے؟ صحافی کے سوال پر اویسی کا جواب دفاعی انداز لیے ہوئے محسوس ہوا۔ انہوں نے جواباً سوال کیا کہ اگر ہماری جائیداد میں اضافہ ہو رہا ہے تو تمہیں کیوں تکلیف ہو رہی ہے؟ بعد ازاں صحافی نے ان کے ساتھ بیٹھے سابق بائیکلہ رکن اسمبلی وارث پٹھان کی طرف بھی اشارہ کیا اور ان کی جائیدادوں میں مبینہ اضافے کے بارے میں سوال اٹھایا۔ اویسی نے وضاحت دیتے ہوئے بنیادی طور پر زمینوں کی قیمتوں میں گزشتہ برسوں کے دوران ہونے والے اضافے کی طرف اشارہ کیا۔ بلاشبہ یہ ایک معاشی حقیقت ہے کہ شہری علاقوں، خصوصاً بڑے شہروں میں زمین اور جائیداد کی قیمتوں میں وقت کے ساتھ نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن صحافی نے اسی مقام پر ایک اہم اور بنیادی سوال اٹھا دیا: اگر صرف قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تو جائیدادوں کی تعداد میں مبینہ اضافہ کیسے سمجھایا جائے؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب محض سیاسی طنز، غصے یا جوابی سوال سے نہیں بلکہ مکمل اثاثہ تفصیلات، خرید و فروخت کے ریکارڈ، رجسٹری دستاویزات اور قانونی ذرائع آمدن کے ذریعے دیا جا سکتا ہے۔
کسی بھی عوامی نمائندے کی جائیداد یا اثاثوں میں اضافہ بذاتِ خود جرم نہیں۔ ایک کامیاب کاروباری شخص، سیاست دان یا پیشہ ور کی دولت قانونی آمدنی، وراثت، سرمایہ کاری، کاروبار یا جائیداد کی مارکیٹ ویلیو بڑھنے کی وجہ سے بڑھ سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اضافہ کہاں سے آیا، کب آیا، کس ذریعے سے آیا اور کیا اس کی مکمل قانونی وضاحت موجود ہے؟ یہ اصول اسدالدین اویسی پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے جس طرح ملک کے ہر دوسرے عوامی نمائندے پر۔ اگر کوئی صحافی اثاثوں کے بارے میں سوال کرتا ہے تو اسے دشمنی یا ذاتی حملہ قرار دینے کے بجائے دستاویزی جواب دینا زیادہ مؤثر سیاسی حکمت عملی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ عوامی زندگی میں شفافیت صرف الزام لگانے والے کو خاموش نہیں کرتی بلکہ خود سیاست دان کی ساکھ بھی مضبوط کرتی ہے۔
اویسی خاندان کی سیاسی تاریخ طویل ہے اور حیدرآباد کی سیاست میں اس خاندان کا اثر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ تاہم سوشل میڈیا اور سیاسی مباحث میں اس خاندان کی معاشی تاریخ کے بارے میں کئی دعوے اور الزامات بھی گردش کرتے رہے ہیں۔ حیدرآباد میں وقف املاک کا معاملہ ایک حساس اور وسیع تر مسئلہ ہے۔ وقف کی زمینوں پر قبضے، غیر قانونی منتقلی، ریکارڈ میں بے ضابطگی اور سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات مختلف ادوار میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اویسی اور ایم آئی ایم کے سیاسی مخالفین کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا جاتا رہا ہے کہ مجلس کے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے بعض وقف یا سرکاری اراضی کے معاملات میں ان کے قریبی حلقوں کو فائدہ پہنچا۔ بعض سیاسی بیانات میں تو اس معاملے کو اربوں روپے کی جائیدادوں سے جوڑا جاتا ہے۔ حیدرآباد میں زمینوں کے تنازعات کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ شہر کی تیز رفتار توسیع، زمین کی بڑھتی قیمتوں اور سرکاری و وقف املاک کی بڑی مالیت نے لینڈ مافیا، غیر قانونی قبضوں اور جائیداد کے تنازعات کو ایک سنگین سماجی مسئلہ بنا دیا ہے۔ ہیرا گروپ اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ سے متعلق معاملات میں بھی حیدرآباد کی بعض جائیدادوں اور مبینہ قبضوں کے حوالے سے سنگین دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعووں میں بعض افراد اور سیاسی حلقوں پر اثر و رسوخ کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ کانگریس، سماج وادی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنماؤں کی طرف سے یہ الزام کئی بار عائد کیا گیا ہے۔ دوسری طرف اویسی اور ان کی جماعت ہمیشہ یہ موقف اختیار کرتی رہی ہے کہ وہ اپنے سیاسی اور آئینی حق کے تحت انتخابات لڑتے ہیں اور مسلمانوں کو محض کسی دوسری پارٹی کے ووٹ بینک کے طور پر دیکھنے کے خلاف ہیں۔ اسی تناظر میں سابق ایم آئی ایم ترجمان اور بعد میں کانگریس سے وابستہ سید عاصم وقار کی جانب سے اسدالدین اویسی کے خلاف متعدد سیاسی الزامات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں بی جے پی سے مبینہ قربت اور سیاسی فائدے کے لیے ووٹ تقسیم کرنے جیسے دعوے شامل ہیں۔

Related posts

अल्लाह और उसके रसूल का दुश्मन मुसलमानों का हमदर्द कैसे

Paigam Madre Watan

लक्षद्वीप की प्रधानमंत्री की तस्वीरों ने यूं ही नहीं मचाई हलचल

Paigam Madre Watan

نور عید الفطر

Paigam Madre Watan