International بین الاقوامی خبریں

 ڈاکٹر سیدمستفیض الرحمن کی جواں سال دختر کے سانحہ ارتحال پر گہرے رنج و غم کا اظہار

 ڈاکٹر سیدمستفیض الرحمن کی جواں سال دختر کے سانحہ ارتحال پر گہرے رنج و غم کا اظہار
علی گڑھ میں زیرِ تعلیم مرحومہ کے اچانک انتقال سے خاندان، اعزہ و اقارب اور متعلقین سوگوار

7 اکتوبر، بیگوسرائے (پریس ریلیز):
معروف شخصیت ڈاکٹر سیدمستفیض الرحمن کی جواں سال اور سب سے چھوٹی صاحبزادی کے اچانک انتقال کی المناک خبر سے پورا خاندان گہرے صدمے اور غم و اندوہ میں ڈوب گیا ہے۔ مرحومہ کے انتقال سے آبائی وطن لکھمنیا ں سمیت رشتہ داروں، احباب اور متعلقین میں بھی سوگ کی فضا قائم ہے۔ ایک ہونہار، تعلیم یافتہ اور روشن مستقبل رکھنے والی بیٹی کا اس طرح اچانک دنیا سے رخصت ہوجانا اہلِ خانہ کے لیے ایک نہایت صبر آزما سانحہ ہے۔مرحومہ علی گڑھ میں بی یو ایم ایس (B.U.M.S.) دوسرے سال کی طالبہ تھیں۔ چند روز قبل انہیں ٹائیفائڈ کی شکایت ہوئی۔ علاج و معالجہ کے بعد طبیعت میں قدرے بہتری آئی، لیکن اس کے بعد انہیں یرقان (Jaundice) کی شکایت لاحق ہوگئی۔ طبیعت مسلسل بگڑنے پر بہتر اور اعلیٰ طبی علاج کی غرض سے انہیں پہلے دہلی کے الشفاء ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا،وہاں بھی طبیعت میں سدھار نہیں ہونے پر دہلی ہی میں لیبر کے علاج کے لیے مشہور ہاسپٹل آئی ایل بی ایس میں ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں زیر علاج رہیں، جہاں ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود ان کی حالت سنبھل نہ سکی اور بالآخر وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔
مرحومہ کی وفات کی خبر اہلِ خانہ پر بجلی بن کر گری۔ جس گھر میں ان کے روشن مستقبل کے خواب سجائے جا رہے تھے، وہاں اچانک ماتم اور آہ و فغاں کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ خصوصاً والدین کے لیے ایک جواں سال اور ہونہار بیٹی کی جدائی کا یہ صدمہ انتہائی کرب ناک اور ناقابلِ تلافی ہے۔مرحومہ کا جسدِ خاکی دہلی سے ان کے آبائی وطن لکھمنیاں لایا گیا، جہاں دیر رات ان کی تجہیز و تکفین کے بعد نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ان کی آخری رسومات میں اہلِ خانہ، اعزہ و اقارب اور بڑی تعداد میں متعلقین نے شرکت کی۔مرحومہ کے انتقال کی خبر سے لکھمنیا ں اور گرد و نواح کے علاوہ دور دراز علاقوں میں بھی گہرے رنج و افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ ہر طرف مرحومہ کی مغفرت، بلندی درجات اور پسماندگان کے لیے صبر و سکون کی دعائیں کی جا رہی ہیں۔
ڈاکٹر سیدمستفیض الرحمن کے قریبی اور مسلم یوتھ موومنٹ آف بہار کے جنرل سکریٹری سید ارشاد انور نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مرحومہ ڈاکٹر صاحب کی سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں اور انہیں اپنے والد سے بے حد محبت و شفقت حاصل تھی۔ ڈاکٹر صاحب اپنی اس ہونہار بیٹی کو اپنی طبی خدمت کے میدان میں مستقبل کی جانشین کے طور پر دیکھتے تھے اور ان کے روشن مستقبل سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ مگر مشیتِ ایزدی کے سامنے کسی کی تدبیر کارگر نہیں ہوتی؛ جو تقدیر میں لکھا تھا وہ ہو کر رہا۔سید ارشاد انور نے کہا کہ اس اچانک سانحے نے اہلِ خانہ کو شدید صدمے سے دوچار کیا ہے۔ ایک باصلاحیت اور جواں سال بیٹی کا یوں اچانک دنیا سے رخصت ہوجانا یقیناً ایسا غم ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر  سیدمستفیض الرحمن اور ان کے تمام اہلِ خانہ، اعزہ و اقارب سے تعزیتِ مسنونہ کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کی۔انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ربِ کریم مرحومہ کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی تمام لغزشوں سے درگزر فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور غم زدہ والدین و اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل، حوصلہ اور اس عظیم صدمے کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Related posts

نیپال صوبائی تبلیغی اجتماع پر حکومتی پابندی کے تناظر میں جمعیت علماء روتہٹ نیپال کی خصوصی میٹنگ 13/جنوری کو منعقد ہوگی!

Paigam Madre Watan

 امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی شیخ عبدالرحمن السدیس سے ملاقات – مدینہ منورہ میں عالمی کانفرنس میں شرکت، ”فکری انحراف کے سدباب“ پر علمی و تحقیقی مقالہ پیش

Paigam Madre Watan

حیدرقریشی کا تعارف” پر محترمہ نجیدہ نظربائیوا کی بہترین کوشش‘‘

Paigam Madre Watan