National قومی خبریں

مسلم انسٹی ٹیوٹ ، کولکاتا کے حاجی محسن ہال کامیاب ’قومی مشاعرہ‘ کا انعقاد

مسلم انسٹی ٹیوٹ ، کولکاتا کے حاجی محسن ہال کامیاب ’قومی مشاعرہ‘ کا انعقاد
کولکاتا(پریس ریلیز):
گڈ ہیومن فاؤنڈیشن (کولکاتا)  کے زیر اہتمام ساہتہ اکیڈمی، دہلی، حکومت ہند کے اشتراک سے ” اردو دوہے کی عصری معنویت ” کے موضوع پر ایک روزہ قومی سمپوزیم گزشتہ روز 10 اکتوبر 2026ء ، بروز ہفتہ کو کولکاتا کے تاریخی ہال حاجی محسن ہال، دی مسلم انسٹی ٹیوٹ میں کامیابی سے ہم کنار ہونے کے ٹھیک بعد ہی ایک شاندار ‘قومی مشاعرہ’ کا انعقاد بھی کیا گیا۔ سہ پہر  4:00 بجے شروع ہونے والی اس شعری محفل میں کولکاتا اور ملک کے دیگر شہروں (دہلی، ہریانہ اور کشمیر) سے آئے شعرا  نیز ادب دوستوں نے خاصی تعداد میں شرکت کی۔ مشاعرے کی صدارت معروف شاعر آتشؔ رضا نے کی جب کہ  نظامت کے فرائض جواں سال شاعر و ادیب علی شاہدؔ دلکش نے بخوبی انجام دیئے۔ اس قومی مشاعرے میں ارباب علم و سخن کی ادیر تک موجودگی نے اسے مخصوص بنائے رکھا ۔ تمامی شعراء نے اپنے بہترین کلام سے سامعین کو مسحور کر دیا۔ مشاعرے میں پڑھے گئے(جن شعروں پر پر داد و تحسین کی بارش ہوئیں) منتخب اشعار مع شعراء کے نام درج ذیل ہیں:
ہر ایک طرف الاؤ ہے
کیا نفس پر دباؤ ہے
(طیب ؔنعمانی)
رفتار آنسوؤں کی دعاؤں سے تیز ہے
تُو داستانِ ظلم کبھی چشم ِ تر میں رکھ
(ایاز احمد خان ایازؔ)
جس کو چاہا تھا ملا ہی نہیں
دل حد سے آگے گیا ہی نہیں
(امتیاز ؔگورکھپوری)
کبھی کبھی تو تری یاد بھی آتی نہیں
کبھی کبھی تو مِرا دم نکلنے لگتا ہے
ڈاکٹر جتندر پروازؔ (دہلی)
خلوصِ نَو بھی مِلا ہے عذاب اوڑھے
دِکھائی دیتا ہے سایہ گلاب اوڑھے
(علی شاہدؔ دلکش)
موت کے خوف سے ہر آنکھ ہے پتھرائی ہوئی
منصف ِ شہر کی قاتل سے شناسائی ہوئی
(ڈاکٹر خورشیدؔ اقبال)
اس سہولت پہ چلے جاؤ فرشتوں سے ملو
اتنا آسان یہ انسان تو ہونے سے رہا
(ڈاکٹر معیدؔ رشیدی)
ایسا نہ ہو بلندؔ کہ ہو جائے حادثہ
خواہش کی ریل روکیے زنجیر کھینچئے
(بلندؔ اقبال)
ساری دنیا سے جدا ، تُو بھی نہیں ، میں بھی نہیں
دونوں انسان ، خدا تُو بھی نہیں ، میں بھی نہیں
(ایم نصر اللہ نصر)
اس دور میں کسی کو کسی سے گلہ نہیں
ایسا تو آدمی مجھے اب تک مِلا نہیں
نفرت کی دھوپ کیا میری دیوار پہ پڑی
آنگن میں کوئی پھول بھی میرے کھلا نہیں
(آتش رضا سیخ پوری)
بشمول خوشتر ملکہ(دہلی) تمامی شعرا نے اپنی شعری صلاحیتوں، برجستگی اور دلنشیں انداز کا مظاہرہ کرتے ہوئے محفل کا سماں باندھے رکھا، جسے سامعین نے بے حد سراہا۔ کنوینر و کوآرڈینیٹر امتیاز گورکھپوری مع پوری ٹیم قابل تحسین و ستائش ہیں کہ شرکاء و شعرا کو آخر آخر تک پروگرام سے جوڑے رکھا۔

Related posts

हीरा ग्रुप की संपत्तियों पर मामिला करने वालों को चेतावनी

Paigam Madre Watan

ائمہ مساجد، انتظامی کمیٹی، اسکول و کالج انتظامیہ سے مولانا محمد نوح کی اپیل

Paigam Madre Watan

چنار بک فیسٹیول کے چھٹے دن ‘کشمیر کی ادبی جمالیاتی وراثت:روایت، جدت اور اثرات’ کے موضوع پر مذاکرہ اور شام صوفیانہ کاانعقاد

Paigam Madre Watan