چنار بک فیسٹیول کے چھٹے دن ‘کشمیر کی ادبی جمالیاتی وراثت:روایت، جدت اور اثرات’ کے موضوع پر مذاکرہ اور شام صوفیانہ کاانعقاد
سری نگر/نئی دہلی : آج چنار بک فیسٹیول کے چھٹے دن آتھر کارنر میں’کشمیر کی ادبی جمالیاتی وراثت:روایت، جدت اور اثرات’ کے عنوان سے ایک علمی و ادبی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں پروفیسر روپ کرشن بھٹ (سابق پروفیسر،سی آئی آئی ایل،منسٹری آف ایجوکیشن،حکومت ہند اور معروف اسکالر و ماہر لسانیات)، پروفیسر نذیر آزاد(ممتاز ادیب،ماہرتعلیم،محقق و ناقد) اور پروفیسر عرفان احمد ملک(صدر شعبہ اردو، یونیورسٹی آف کشمیر) بحیثیت پینلسٹ شریک ہوئے جبکہ ڈاکٹر سلیم سالک(جموں کشمیر کلچرل اکادمی سے وابستہ ادبی شخصیت و ایڈیٹر) نے مذاکرے کو موڈریٹ کیا۔
مذاکرے میں ماہرین نے کشمیرکی ادبی جمالیاتی وراثت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کے ساتھ اس کے تاریخی تناظر کو بھی واضح کیا تاکہ یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ کشمیر کی ادبی جمالیات روایت کے ساتھ جدت سے کتنی ہم آہنگ ہے۔ اس تعلق سے پروفیسر روپ کرشن بھٹ نے جمالیات کے عناصر، منظر نامہ،تصوف،رومانس اور تخیل کی جہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کشمیر کی ادبی جمالیات کی روایت اور تاریخ کو بھی اجاگر کیا بالخصوص کشمیری لوک ادب کی جمالیات کی طرف خصوصی توجہ مبذول کرائی۔انھوں نے سنسکرت اور فارسی کی جمالیات پر گفتگو کرتے ہوئے کشمیری ادب کی پانچ سو سالہ تاریخ میں جمالیات کس طرح اثر انداز ہوئی اور شعرا بالخصوص چکبست نے اپنی شاعری میں کشمیر کی جمالیات کا کس طرح ذکر کیا، ان تمام گوشوں پر بھرپور روشنی ڈالی۔
دوسرے مہمان پروفیسر نذیر آزاد نے استفسار کے جواب میں جمالیات کے مجموعی تناظر پر اظہار خیال کرتے ہوئے یونانی اور سنسکرت جمالیات پر بھی گفتگو کی، ساتھ ہی ہندوستانی ماہرین جمالیات کی تعریفات کو اجاگر کرتے ہوئے پرفارمنگ آرٹس میں جمالیاتی عناصر کی بھی عمدہ طریقے سے نشاندہی کی۔انھوں نے کشمیری شاعر رسول میر کی شاعری کاجائزہ لیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے لیے پرفارمنگ آرٹس جب ممنوع ٹھہرا تو شاعروں نے الفاظ سے ہی وہ کام لینا شروع کیے جو پرفارمنگ آرٹس میں لیے جاتے تھے۔انھوں نے تصوف کی شاعری میں پوشیدہ جمالیاتی پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس کو صرف تصوف کے نام سے ہی موسوم کرنا اس کی اہمیت کو کمتر ثابت کرنا ہے ، جب کہ بہتر یہ ہوگا کہ اسے مغربی ماہرین جمالیات کے نظریات کی روشنی میں دیکھا جائے، جس سے جمالیات کی بہت سی پرتیں نمایاں واضح طور پر نمایاں ہوسکیں۔
مذاکرے کے تیسرے مہمان پروفیسر عرفان احمد ملک نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر تہذیب کی اپنی جمالیات ہوتی ہے جو ڈکشن کے تنوع کی شکل میں ہمارے سامنے آتی ہے،ادب کی بنیاد جمالیات پر ہی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ مختلف پیرایے میں ادبی اصناف اور تحریکات میں ظاہرہوتی رہتی ہے۔انھوں نے مزید کشمیر کی جمالیات کو اجاگر کرنے والے ان اہم ادبا کا بھی ذکر کیا جنھوں کشمیری ادب کی جمالیات کے الگ الگ گوشو ں اور زاویوں پر روشنی ڈالی ہے۔ ان میں کرشن چندر، حامدی کاشمیری، شکیل الرحمن وغیرہ کے نام خاص طور پر لیے جاسکتے ہیں۔
انٹریکٹیو سیشن میں سامعین نے مہمانوں سے موضوع کے متعلق مختلف سوالات کیے جن کا انھوں نے تسلی بخش جواب دیا۔
مذاکرے کے بعد کلچرل اسٹیج کے وسیع ہال میں شام صوفیانہ کا بھی اہتمام کیا گیا جسے صوفی غزل سنگر ڈاکٹر نیتا پانڈے اور ان کی پوری ٹیم نے اپنے بہتر پرفارمنس سے یاد گار بنایا۔ سامعین اس پروگرام سے کافی محظوظ ہوئے۔

