تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز
مادر علمی مرکزی دارلعلوم جامعہ سلفیہ بنارس کا وقار کوئی چالیس سال سے براجمان خودساختہ ناظم اس سے زیادہ اور کیا گرائے گا کہ اس کے چاہنے والوں اور محبت رکھنے والوں کو دعوت سوشل میڈیا فیس بک پر پھینکی گئی پوسٹ کے ذریعہ سے میسر ہو رہی ہے، اس سے قبل جامعہ سلفیہ کے وقار اور اس کے رتبے کو برقرار رکھنے کیلئے جذباتی خطوط سوشل میڈیا پر مادر علمی کے نام سے چندہ طلب کیا جاتا رہا ہے، سیدھے سادھے مادر علمی سے محبت رکھنے والے محبت سلف سے سرشار احباب نے اپنے بساط بھر تعاون بھی کیا ہوگا، لیکن کتنا اچھا ہوتا کہ یہ دعوت فیس بک پر اچھال پھینکی گئی پوسٹ کی جگہ پانچ روپیہ ٹکٹ لگا ہوا خط اُس بوسیدہ پڑے رجسٹر سے نام اور پتہ نکال کر بھیج دیا جاتا، بیشک یہ بات بھی ممکن ہے کہ بہت سے احباب نے اپنے گھر بار چھوڑ دئے ہونگے، لیکن کسی نا کسی ذریعہ وہ خط مخاطب شخص تک پہنچ ہی جاتا۔ دوسرا طریقہ ہوسکتا تھا کہ آج واٹس ایپ اور ای میل کے ذریعہ بڑے بڑے خطوط ایک دوسرے تک پہنچائے جاتے ہیں، پرسنل واٹس ایپ پر بھیجی گئی تحریر اور پھر بذریعہ فون خط ملنے کی اطلاع دے دی جاتی، واللہ فخر محسوس ہوتا کہ واقعی ہمارے مادر علمی کے مسند نظامت پر چالیس سال سے جبرا ًبیٹھے ہوئے ناظم اعلیٰ نے فارغین جامعہ کو کچھ عزت بخشی ہے۔ یہ بھی دعوی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ پانچ روپیہ پوسٹ ٹکٹ کا پیسہ اور جو ناظم صاحب نے سلفی حضرات کو پروگرام میں کھلایا پلایا ہے وہ واپس دے کر لوٹتے، لیکن ایک جانب مرکزی دارالعلوم جامعہ سلفیہ بنارس کا وقار، دوسری جانب مادر علمی کے فارغین جو آج دنیا کے کونے کونے میں اعلیٰ عہدوں پر عظیم خدمات انجام دے رہے ہیں، تیسری جانب سلفی حضرات کی سوشل میڈیا پر یہ تضحیک نا ہوئی ہوتی۔ جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر میں ایک اجلاس کا انعقاد ہوا، جامعہ سلفیہ سے فارغ ایک شیخ نے بتایا کہ میں نے سراج العلوم جھنڈا نگر میں محض دو سال تعلیم حاصل کی تھی اور فراغت جامعہ سلفیہ سے کی، مگر جامعہ سراج العلوم انتظامیہ کی اعلیٰ ظرفی دیکھئے کہ بذریعہ پوسٹ خط بھیجا، بذریعہ واٹس ایپ خط کا فوٹو ارسال کیا اور ان سب کے باوجود بارہا فون کرکے یاددہانی کرائی اور اجلاس میں پہنچنے کی پرُخلوص دعوت وہاں کے کبار علماءنے پیش کی، اللہ ایسے عالم دین، اور سلفیت اور اپنی مادر علمی سے محبت رکھنے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔ اور اللہ سمجھ و توفیق بخشے چالیس سال سے زبردستی نظامت کی کرسی پر چپکے ہوئے ناظم اعلیٰ کو جنہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ مادر علمی کے وقار کو اس طرح فیس بک پر مجروح کرنا مناسب نہیں ہے۔ مادر علمی جامعہ سلفیہ بنارس سے ہمیں کوئی شکوہ نہیں۔ بھلا اپنے مادر علمی سے کوئی نالاں ہو سکتا ہے؟ آج جامعہ سلفیہ کے ساتھ جو نا انصافیاں اور جس طرح کی ڈکٹیٹر نظامت کا دور دورہ ہے، اسی مادر علمی کا وہ دانا دانا ہے جس نے ہم جیسوں کو تعلیم دی اور تقویت کے ساتھ مادر علمی کے ساتھ ہو رہی ناانصافی اور چالیس سالوں سے نظامت کی کرسی پر کنڈلی مارے ہوئے اژدہے کو کم از کم احساس کرا سکتا ہوں۔
مادر علمی جامعہ سلفیہ کو دیکھنے، اس کی در و دیوار کو چھونے اور اس کی چھوٹے سے باغیچے سے خوشبو، لائبریری کی عظیم کتابوں سے اٹھتی ہوئی سلف کے لمس کی مہک کو محسوس کرنے کا دل بہت چاہتا ہے، لیکن ڈر لگتا ہے کہ مختار دا، جمشیددا اور مرتضی دا جیسے سرپھرے ملازم کہیں گیٹ سے دھکے مار کر بھگا نا دیں، کیونکہ میری انہی آنکھوں نے درجنوں بار جامعہ کے طلبا ءکے سرپرستوں کو دھکیل کر گیٹ بند کر دیا اور وہ بزرگ معصوم، بھولی بھالی ہستیاں اپنے لخت جگر، کلیجے کے ٹکڑے سے ملے بغیر جامعہ کے گیٹ سے آنسو بہا کر واپس چلے جاتے تھے، ظاہر سی بات ہے جس کی اعلیٰ کمان ہی بدبخت، بدتہذیب اور بدخلق ہو، علماءسلف بزرگان جامعہ کے کفن اور خوراک تک کا حساب طلب کرے اس کے ملازمین تو مزید بدتمیز ہونگے۔ جامعہ سلفیہ بنارس کے مرکزی کردار کو واپس لانا کوئی ناممکن بات نہیں ہے، پرخلوص، محب سلف اور خوف خدا رکھنے والے لوگ جامعہ انتظامیہ اور خصوصا نظامت اور صدارت وغیرہ پر فائز ہونگے تو جامعہ سلفیہ کا چالیس سال پہلے سے کھویا ہوا، تنزلی کا شکار جامعہ کا وقار واپس آئے گا۔ ان شااللہ۔ لیکن ان آوازوں کو ایک مطیع الرحمن عزیز ہی بلند کر سکتا ہے، دیگر وہ اساتذہ اور علماءلاکھ بدانتظامی کے بعد یہ باتیں نہیں لکھ سکتے کیونکہ ہر سلفی عالم کہیں نا کہیں، کسی نا کسی مدرسہ یا ادارہ سے درس و تدریس سے وابستہ ہوگا، ورنہ ناظم اعلیٰ ڈکٹیٹر صاحب اس کی نوکری اور تنخواہ بغیر پانی کے نگل جائیں گے، تنخواہ بند کرو ادیں گے، یہاں تک کہ اگر کویت سے بھی تنخواہ جاری ہوگی تو وہاں اپنے دست قدرت کا خط بھیج کر اسے بند کرا دیں گے، جیسا کہ ناظم مذکور پہلے کر چکے ہیں۔
سوشل میڈیا یعنی فیسبک پر پھینکی گئی دعوت کی جے پی جی کاپی کے دوسرے جملے میں ناظم اعلیٰ جناب عبد اللہ سعود صاحب کی دستخط کے ساتھ تحریر ہے کہ ” میں چاہتاہوں کہ آپ جامعہ پھر تشریف لائیں۔ جامعہ کو دیکھیں، حالات کا جائزہ لیں اور ہم کو کیسے آگے بڑھنا ہے اس کے لئے باہم مشورہ کریں اور ایک دوسرے کے تعاون سے آگے بڑھیں“۔ جامعہ کے ناظم بلا تاج بادشاہ، آپ کے پاس انتظامیہ اور اساتذہ درجنوں کی تعداد میں ہیں ان سے مشورہ کرکے ان کی قیمتی آراءسے مستفید ہوں، اگر واقعی مشورہ چاہیں، لیکن آپ کسی کا مشورہ کہاں مانتے ہیں، بیچارے ڈرے سہمے اساتذہ و ملازمین آپ کے جاہ وجلال کے سامنے بولنے کی ہمت کہاں سے لائیں گے، ہاں آزادی ،جی حضوری اور تعریف کرنے والوں کو ہے جن کی کمریںآپ کے آگے ”جی ناظم صاحب“ الفاظ کے ساتھ جھکی رہتی ہیں۔ اس رقعہ میں سب سے اہم اور کارآمد بات مجھے یہی جملہ لگا ہے، میں اس قابل تو نہیں کہ مادر علمی پر مشورہ دے سکوں، لیکن ایک اخبار کا ایڈیٹر اور مالک ہونے کی حیثیت سے، ہندستان کے الگ الگ کونے کے اداروں میں جانے اور سیکڑوں افراد سے ملنے کے بعد کچھ انتظامی معلومات ہوئی ہیں، اس کو مادر علمی، اس کے انتظامیہ اور ابنائے جامعہ سلفیہ و محبین جامعہ سلفیہ بنارس کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
1۔ جناب عبد اللہ سعود صاحب کا مادر علمی جامعہ سلفیہ سے مکمل استعفی اور ہمیشگی کا انخلائ۔ مادر علمی کے تعلق سے میری تحریر کے مشورہ خاکہ کا پہلا اور سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ ناظم صاحب آپ کا قوم اور مسلک سلف اور مرکزی دارالعلوم پر بے انتہا احسان ہوگا اگر آپ جامعہ سلفیہ سے مکمل انخلاءفرمالیں۔ کیونکہ آپ کے چالیس سالہ دور نظامت یا دور انتظامی میں مادر علمی سوائے گہرائی اور پستی میں جانے کے ایک رتی برابر آگے نہیں بڑھ سکا ہے، دیکھئے جامعہ سلفیہ دارالعلوم مسلک سلف کامرکزی گہوارہ ہے، آپ نے اپنے والد گرامی کے بعد سے ایسا قبضہ جمایا ہے جیسے اجداد نے کہا ہو کہ آپ کے خاندان کے علاوہ کوئی دوسرا مرکزی دارالعلوم کا ناظم نہیں ہوسکتا، آپ نے پیڑھی در پیڑھی انتظام کر لیا ہے کہ آپ نسل در نسل جامعہ سلفیہ پر قابض رہیں گے، اپنے بیٹے کو نظامت کی کرسی سوپنے کی تیاری آپ نے مکمل کر لی ہے۔
2۔ مادر علمی جامعہ سلفیہ بنارس اور اس کے انتظامیہ بتائیں کہ تیس چالیس سال اور پچاس سال پہلے جن کبار اور جید علماءکا انتخاب ملک کے کونے کونے اور چپے چپے سے کیا تھا، وقت گزرنے کے ساتھ وہ علماءکوچ کر گئے یا مرحومین میں شامل ہو گئے، سب سے پہلے یہ بتایا جائے کہ کبار اور جید علماءکے انتخاب کا سلسلہ کیوں روکا گیا؟ آپ نے نو عمر عالموں اور تعریف کرنے والے مولویوں کو دس ہزار روپیہ میں رکھا تاکہ کم عمری میں کوئی آپ کی بدانتظامی اور ڈکٹیٹرشپ پر انگلی نا اٹھا سکے، یہاں ملک کے کونے کونے سے بہتر تنخواہوں کے ذریعہ جید علماءکا بذریعہ انٹرویو انتخاب عمل میں لایا جائے۔ تاکہ مادر علمی جامعہ سلفیہ اپنے وقار کو برقرار رکھنے میں کامیابی پا سکے۔ ملک کے ہر اسٹیٹ سے اس کی آبادی اور کشادگی کے مطابق سفراءکا انتخاب عمل میں لانا بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
3۔ مادر علمی جامعہ سلفیہ میں جید اور قابل وبزرگ اساتذہ کے نا ہونے سے مرکزی دارالعلوم اس پستی کے دور میں داخل ہو چکا ہے کہ آج ہندستان میں لگ بھگ بیس پچیس سالوں کے درمیان کوئی ایسا طالبعلم منظر عام پر نا آسکا جسے سلفیہ کے وقار اور بزرگی و علمی وراثت کے طور پر فخریہ پیش کیا جا سکے۔ وجہ جامعہ سلفیہ میں عالمیت دو سال، اور پہلے فضیلت کو تین سال کیا گیا اور اب سننے میں آیا ہے کہ آپ نے فضیلت کو بھی خیر آباد کہہ دیاہے، کئی درسی کتابوں کو محض اس لئے نکال دیا گیاکیونکہ ان کتابوں کے مصنف سے ناظم اعلیٰ کو بغض تھا یا وہ کتاب ناظم کو سمجھ نہیں آتی تھی یا اس کتاب کو پڑھانے والے علماءجید طبقہ کے ہوتے ہیں اور جید علماءآپ کی جی حضوری نہیں کریں گے، اس لئے وہ کتاب ہی جامعہ سلفیہ کی سرزمین سے پاک کر دی گئیں۔
4۔ مادر علمی کے درجہ قرئت، درجہ حفظ، درجہ ثانویہ ، درجہ عالمیت اور فضیلت سے فارغین کی بوسیدہ پڑی رجسٹر کاپی سے لوگوں کے رابطے نکال کر جامعہ کے نوعمر علماءسے فہرست بنوائی جائے، ان سے رابطہ استوار کیا جائے، جامعہ کے ہر عالم شیخ کی ڈیوٹی منتخب کی جائے کہ وہ وقتا فوقتا ان سے رابطہ میں رہیں، ان سے مفید مشورے طلب کئے جائیں، ان کو فردا فردا جامعہ آنے کی دعوت پیش کی جائے، سال فراغت کی مناسبت سے واٹس ایپ کے گروپ بنائے جائیں، سوشل میڈیا پر تعاون مانگنے کی بجائے رابطہ کے فارغین کی دلچسپی اور انکی حیثیت کے بموجب ان سے جامعہ کی ایک ذمہ داری مکمل کرنے تلقین کی جائے، کوشش کیا جائے کہ جامعہ کے اساتذہ کی تنخواہ اس کی مرکزیت کے مطابق ادا کی جائے، محنت کش اساتذہ کو اضافی مالی حوصلہ افزائی کی جائے، طلبا کی مکمل فیس معاف کی جائے، ملک بھر سے جید علماءکا انتخاب عمل میں لایا جائے، ملک بھر سے ہر ادارہ کے قابل اور ٹاپر بچوں کو جامعہ میں مفت داخلہ دیا جائے، فضیلت کے طلبا کو بنارس اور نواحی کے مساجد میں خصوصی پروگرام اور خطبہ جمعہ دینے کیلئے اخراجات مہیا کئے جائیں، ملک کے اجلاس و دیگر پروگراموں میں شرکت کیلئے اساتذہ کو جامعہ کے خرچ پر بھیجا جائے، جامعہ کے اساتذہ کیلئے پی ایف کا انتخاب ہر مہینے پانچ سو جامعہ اور پانچ سو استاذ کی تنخواہ سے مختص کیا جائے، حالات ناگہانی اور مشکل وقت میں اساتذہ کو ان کے بچوں کی شادی ویواہ کے اخراجات میں تعاون کیا جائے، میڈیکل خرچ الگ سے مختص ہوں۔ عالمیت تین سالہ اور فضیلت دو سالہ کورس کیا جائے اور کم از کم ہزار روپیہ ہر فضیلت کے طلبا کو وظیفہ مقرر کیا جائے۔
5۔ جامعہ سلفیہ کے پریس کو بیچ کھایا گیا، جامعہ میں پریس کا انتخاب پھر سے عمل میں لایا جائے، تحقیقی، تصنیفی اور اشاعتی معاملات دوبارہ شروع کئے جائیں، جامعہ سلفیہ میں تحقیقی اور تصنیفی ٹیم قائم کی جائے، اگر جامعہ سلفیہ بنارس سے فارغ طلبا یا اساتذہ کوئی تحقیقی تصنیفی خدمت انجام دیں تو اسے جامعہ سے شائع کیا جائے، مصنف خدمتگار شخصیت کی مالی تعاون اور حوصلہ افزائی کی جائے، جامعہ سلفیہ سے شائع کتابوں کو ملک بھر میں رعایتی قیمتوں پر پہنچایا جائے۔ فضیلت کے بعد اگر کوئی طالبعلم جامعہ میں خدمت دینا چاہے تو اسے آزادی ہو اور اگر طلباکسی مقابلہ جاتی عصری اعلیٰ تعلیم کی خواہش رکھتے ہوں تو ان کیلئے ایک عدد ماہر قابل استاذ کا انتخاب کر کے طلبا کو اعلیٰ اور عصری علوم میں آگے بڑھنے کی تیاری کرائی جائے۔ (نوٹ: اس طرح کے سیکڑوں مشورے ہیں، مگر ابتدا یہیں سے ہو، اور ایسا ملک کے دیگر ادارے کر رہے ہیں کوئی انوکھی بات نہیںہے)

