National قومی خبریں

فارسی الفاظ کی اصل سے بین ادبی روابط کا انکشاف: ڈاکٹر الیگزینڈر جبّاری

فارسی الفاظ کی اصل سے بین ادبی روابط کا انکشاف: ڈاکٹر الیگزینڈر جبّاری
اردو یونیورسٹی میں عالمی جنوب کے تہذیبی روابط پر تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز
حیدرآباد، 2 نومبر (پریس نوٹ) فارسی الفاظ کی اشتقاقی تحقیق (اصل تحقیق) سے مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے درمیان دلچسپ روابط کا انکشاف ہوتا ہے، جو صدیوں پر محیط لسانی استفادہ، تہذیبی میل جول اور علمی تبادلوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے ڈاکٹر الیگزینڈر جبّاری نے کیا۔ وہ آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں ”نیٹ ورکس اینڈ اینٹینگلمنٹس: ایکسپلورنگ سویلائزیشنل انٹرٹیکسچوالٹی اِن دی گلوبل ساو تھ“ )نیٹ ورکس اور باہمی روابط: عالمی جنوب میں تہذیبی بین ادبی روابط کا مطالعہ) کے موضوع پر منعقدہ سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
ڈاکٹر جبّاری نے ”ابتدائی جدید ہندوستان میں فارسی قواعد“ کے موضوع پر پہلے کلیدی خطبے میں واضح کیا کہ فارسی الفاظ اور ان کے اشتقاقی مطالعے سے فارسی، سنسکرت، ہندی، عربی، سریانی، قبطی اور عبرانی زبانوں کے درمیان بین ادبی روابط سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے مغلیہ ہندوستان میں فارسی علوم و ادب کے عالمگیر کردار کو اجاگر کیا، بالخصوص سنسکرت کے ساتھ اس کے علمی و ادبی تعلقات کا ذکر کیا۔ انہوں نے ہندوستان، سلطنتِ عثمانیہ اور چین میں فارسی قواعد و لسانیات کی روایات کے ارتقا پر بھی روشنی ڈالی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اردو کے ساتھ فارسی کے تعلق کا بھی جائزہ لیا۔
مانو کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے افتتاحی اجلاس کی صدارت کی۔ برطانوی مستشرق سر ولیم جونز کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے، جنہوں نے فارسی اور ہندوستانی ادبی کلاسیکی تصانیف کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا، انہوں نے کہا کہ اگر ”مجمع البحرین“ کے مصنف دارا شکوہ آج زندہ ہوتے تو شاید وہ دو نہیں بلکہ کئی سمندروں کے سنگم پر تحریر کرتے۔ یہ بات تہذیبوں کے تنوع اور ان کے باہمی ارتباط کو اجاگر کرتی ہے۔
پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار نے استقبالیہ خطاب پیش کیا، جبکہ کانفرنس کے کنوینر پروفیسر سید امتیاز حسنین نے کانفرنس کا تعارف پیش کیا۔ یہ بین الاقوامی کانفرنس مانو کی جانب سے سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجز (سی آئی آئی ایل)، میسورو کے علمی اشتراک سے 2 تا 4 نومبر 2026ءمنعقد کی جا رہی ہے۔
افتتاحی اجلاس میں نومبر 2025ءمیں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس ”اردو، ہندی، عربی اور فارسی: لسانی، ادبی، تہذیبی اور علمی تبادلوں کے تناظر میں تہذیبی ہم آہنگی“ میں پیش کردہ مقالوں کی تلخیص پر مبنی کتاب کی رسم اجراءعمل میں آئی۔ ڈاکٹر پیگی موہن، ڈاکٹر مختار احمد، پروفیسر پنچانن موہنتی اور پروفیسر سنگیتا بگّا گپتا کی تصانیف کا بھی اس موقع پر اجراءعمل میں آیا۔
کانفرنس کی ڈائرکٹر پروفیسر گل فشاں حبیب نے کلماتِ تشکر ادا کیے۔ پروگرام کی نظامت کانفرنس کے شریک کنوینر پروفیسر محمد السمیع صدیقی نے انجام دی۔

ڈاکٹر محمد مصطفےٰ علی سروری
پبلک ریلیشنز آفیسر

Related posts

ممبئی اردو کتاب میلے کا ساتواں دن خواتین کے نام رہا، تانیثی ادب اور خواتین کی تعلیم پر مذاکرہ

Paigam Madre Watan

اردو کتاب میلے کا چھٹا دن : اسکولی طلبہ و طالبات کے درمیان مباحثہ و غزل سرائی کا مقابلہ ، اردو، عربی و فارسی کی تدریسی صورت حال پر مذاکرہ و صوفی سنگیت

Paigam Madre Watan

एमईपी टिकटों की खरीद-फरोख्त का विरोध करती है: सुप्रीमो

Paigam Madre Watan