علی گڑھ /دہلی : علی گڑھ اردو کتاب میلے کے ساتویں دن بھی شائقین میں خاصا جوش و خروش نظر آیا۔ بچوں کی بڑی تعداد نے میلے میں شرکت کی اور اپنے ذوق کی کتابیں بھی خریدیں۔ مقامی اسکول کے طلبہ کی شرکت نے اس کتاب میلے کی رونق میں اضافہ کیا۔آج کے دن بھی کئی اہم پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جن میں اقرأ پبلک اسکول کے طلبہ و طالبات نے محفل رنگ کے عنوان سے ایک خوبصورت پروگرام پیش کیا۔ اس کی ماڈریٹر عشینہ احمد تھیں اور کوماڈریٹر محمد اقدس تھے۔ اسکول کی پرنسپل محترمہ فاطمہ ارم اور مینیجر پروفیسر نسیم احمد خان بھی اس پروگرام میں شریک رہے۔ بچوں نے اپنی کارکردگی سے لوگوں کو خاصا متاثر کیا۔ بچوں کا یہ تربیتی پروگرام تھا لیکن انھوں نے احساس دلایا کہ انھیں اپنی ثقافت اور زبان سے گہرا لگاؤ ہے۔
قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ایک مذاکرے کا بھی اہتمام کیا گیا جس کا عنوان تھا ’قومی تعلیمی پالیسی 2020 اردو زبان: امکانات و مسائل‘ اس مذاکرے میں بطور پینلسٹ پروفیسر سید امتیاز حسنین اور پروفیسر شافع قدوائی نے شرکت کی۔ ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی نے ماڈریٹر کے فرائض انجام دیے۔ مقررین نے قومی تعلیمی پالیسی کے اہم نکات اور اہداف و مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اردو اور انگریزی زبان کے ناقد اور کالم نگار پروفیسر شافع قدوائی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کے اندر زبان کے باب میں کوئی جبر نہیں ہے۔ اس میں تعلیم کے بنیادی تصورات پر ارتکاز کیا گیا ہے اور تدریسی نصاب میں ضروری تبدیلیوں کی سفارش کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ قومی تعلیمی پالیسی کا ایک مقصد گلوبل سٹیزن بنانا بھی ہے کیوں کہ آج کے عہد میں ملٹی لنگول ازم پر زیادہ زور ہے۔ماہر لسانیات پروفیسر امتیاز حسنین نے ملٹی لنگول ازم پر روشنی ڈالتے ہوئے ریجنل لینگویج اور شیڈول لینگویج کے تعلق سے گفتگو کی اور ان تمام خدشات کو بے بنیاد قرار دیا جو اردو کے تعلق سے بہت سے ذہنوں میں پائے جاتے ہیں۔اس موقعے پر قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر شمس اقبال نے بھی قومی تعلیمی پالیسی کے صحت مند اور افادی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 اردو زبان اور اردو معاشرے کے لیے بھی فائدے مند ہے، اس لیے غیر ضروری خدشات یا وسوسوں کا شکار ہونے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
آج کتاب میلے میں معروف داستان گو سید ساحل آغا اور ڈاکٹر نیتا پانڈے نیگی نے’ خسرو دریا پریم کا‘ کے عنوان سے میوزیکل داستان پیش کی۔ داستان گوئی کے آغاز سے قبل قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے شال پہنا کر تمام فن کاروں کی عزت افزائی کی اور اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان صدیوں سے بین مذاہب ہم آہنگی کا گہوارہ اور ثقافتی تنوع کا مرکز رہا ہے، جس کی ادبی و شعری نمائندگی اردو کے اولین شاعر امیر خسرو نے بڑی خوب صورتی سے کی ہے، یہ ہمارے لیے نہایت پر مسرت موقع ہے کہ ایسے سدا بہار شاعر کے حوالے سے اس میلے میں میوزیکل داستان گوئی کا اہتمام کیا جا رہا ہے اور معروف داستان گو اور پرفارمر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ محبت کی ایک روشن اور تابندہ علامت کے طور پر خسرو کی شخصیت پورے ہندوستان میں اپنی منفرد پہچان رکھتی ہے، چاہے کوئی مسلمان ہو یا ہندو ، سکھ یا عیسائی، ہر طبقے میں خسرو کی مقبولیت رہی ہے، اسی وجہ سے آج کی محفلِ داستان گوئی ان پر مرکوز ہے۔ اس میوزکل داستان گوئی سے کثیر تعداد میں سامعین و ناظرین محظوظ ہوئے ۔
previous post
Related posts
Click to comment

