Delhi دہلی

اساتذہ سے کتوں کی نگرانی کے احکامات پر بی جے پی حکومت بے نقاب، اب ایف آئی آر درج کرا رہی ہے: سوربھ بھاردواج

نئی دہلی،  دہلی کے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ سے آوارہ کتوں کی نگرانی کرانے کے معاملے میں بی جے پی حکومت بری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔ گھبراہٹ میں اب وہ عام آدمی پارٹی کے کارکنان کے خلاف ایف آئی آر درج کرا رہی ہے، لیکن اسے سمجھ لینا چاہیے کہ آپ کے کارکن ایسے اوچھے اور جھوٹے مقدمات سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ڈی پی ایس نے فیس جمع نہ ہونے پر معصوم بچوں کو ہراساں کیا۔ ضلع مجسٹریٹ کی سفارش اور تمام ثبوت موجود ہونے کے باوجود بی جے پی حکومت اور وزیرِ تعلیم آشیِش سود نے ابھی تک ڈی پی ایس کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کرائی اور نہ ہی اسکول انتظامیہ کے کسی فرد کو گرفتار کیا۔ بی جے پی حکومت کے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جھوٹ پھیلانے کے الزام میں تھانے میں شکایت درج کرانے کے بعد عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی کنوینر سوربھ بھاردواج نے یہ سخت ردِعمل ظاہر کیا۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی حکومت اور وزیرِ تعلیم آشیِش سود، ڈی ایم کی سفارش اور تمام ثبوت ہونے کے باوجود ڈی پی ایس اسکول کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی ہمت نہیں دکھا سکے۔ اس کے برعکس وہ عام آدمی پارٹی کے کارکنان کو ایف آئی آر کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی ان اوچھے اور جھوٹے مقدمات سے ڈرنے والی نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ڈی پی ایس اسکول انتظامیہ کے کسی بھی شخص کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا بی جے پی حکومت ان سے ڈری ہوئی ہے یا پھر حکومت کی اسکول انتظامیہ سے ملی بھگت ہے؟معصوم طلبہ کے استحصال کے باوجود حکومت نے ایف آئی آر درج نہیں کرائی۔ وزیرِ تعلیم کو اس ایک اسکول کا نام بتانا چاہیے جس نے بڑھائی ہوئی فیس واپس کی ہو۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد تقریباً تمام پرائیویٹ اسکولوں نے فیس بڑھا دی تھی۔ ادھر جمعہ کو آپ ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بُراڑی سے رکنِ اسمبلی سنجیو جھا نے کہا کہ جمعرات کو ڈائریکٹر ایجوکیشن نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ آوارہ کتوں کے تعلق سے کسی بھی قسم کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہا گیا کہ اس بارے میں جھوٹی معلومات پھیلانے والوں کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ وہیں جمعہ کو وزیرِ تعلیم آشیِش سود نے بھی پریس کانفرنس کر کے کہا کہ پولیس میں شکایت درج کرا دی گئی ہے اور ایف آئی آر درج ہوگی۔ عام آدمی پارٹی نے پہلے بھی محکمہ تعلیم سے جاری سرکلر دکھائے تھے۔ وزیرِ تعلیم یا ڈائریکٹر ایجوکیشن کو واضح کرنا چاہیے کہ آخر یہ سرکلر کس نے جاری کیے؟ سنجیو جھا نے دہلی حکومت کے محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری دو سرکلر دکھاتے ہوئے کہا کہ ایک سرکلر 20 نومبر کو ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی کیئر ٹیکنگ برانچ نے جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ہر اسکول میں آوارہ کتوں کے انتظام کے لیے نوڈل افسر مقرر کیے جائیں گے۔ 5 دسمبر کو جاری دوسرے سرکلر میں تمام تعلیمی اداروں، اسکولوں اور اسٹیڈیموں کے نوڈل افسران کی تفصیلات جمع کرانے کے احکامات دیے گئے ہیں اور اسے انتہائی ضروری بتایا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ آوارہ کتوں کے بارے میں تمام اسکول اور اسٹیڈیم جلد از جلد معلومات فراہم کریں۔ سنجیو جھا نے میڈیا کو تیسرا حکم شمال مغربی ضلع کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن کا دکھایا، جس میں مختلف اسکولوں میں تعینات کیے گئے اساتذہ کی مکمل فہرست ہے۔ مثال کے طور پر مکھرجی نگر، نیو پولیس لائن میں ٹی جی ٹی استاد کو نوڈل افسر مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح کئی پی جی ٹی اور ٹی جی ٹی اساتذہ کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔ وزیرِ تعلیم آشیِش سود کو بتانا چاہیے کہ اگر یہ احکامات محکمہ تعلیم کے نہیں ہیں تو 5 دسمبر کو یہ سرکلر کس نے جاری کیا اور اس پر کیا کارروائی ہوگی؟ کیا یہ احکامات ڈائریکٹر ایجوکیشن یا وزیرِ تعلیم کی ہدایت اور معلومات کے بغیر جاری ہوئے ہیں؟ سنجیو جھا نے کہا کہ یہ سرکلر اب بھی موجود ہیں۔ کسی بھی پریس کانفرنس میں وزیرِ تعلیم یا ڈائریکٹر ایجوکیشن نے یہ نہیں کہا کہ ان سرکلرز کو واپس لے لیا گیا ہے۔ اگر کسی استاد کو آوارہ کتوں کی نگرانی کے لیے نوڈل افسر بنایا گیا ہے تو ان سرکلرز کو واپس لیا جانا چاہیے۔ صرف کہنے سے بات نہیں بنے گی۔ ایف آئی آر کا کھیل کھیل کر ڈرانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ جمہوریت میں بابا صاحب امبیڈکر کے آئین نے یہ حق دیا ہے کہ اگر کوئی غلط حکم تعلیم، اسکولوں یا اساتذہ کو متاثر کرے گا تو اس کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی، اور عام آدمی پارٹی ایف آئی آر سے ڈرنے والی نہیں ہے۔سنجیو جھا نے کہا کہ وزیرِ تعلیم نے آواز اٹھانے پر ایف آئی آر کی بات کی ہے، لیکن دہلی کے کئی پرائیویٹ اسکولوں میں والدین کے استحصال کی شکایات آئیں اور ضلع مجسٹریٹ کی رپورٹ میں یہ ثابت ہوا کہ ڈی پی ایس میں بچوں کو ہراساں کیا گیا۔ وہاں ایف آئی آر کیوں نہیں درج کرائی گئی؟ کیا وزیرِ تعلیم ڈر گئے ہیں کیونکہ وہ بڑے لوگ ہیں، یا پھر وزیرِ تعلیم کی ملی بھگت ہے؟ جہاں بچوں کا استحصال ہوا اور والدین کی بات نہیں سنی گئی، وہاں کتنی ایف آئی آر درج ہوئیں، اس کا جواب دیں۔انہوں نے کہا کہ تمام پرائیویٹ اسکولوں نے فیس بڑھا دی ہے۔ بی جے پی کی وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ تعلیم نے کہا تھا کہ کارروائی کریں گے۔ وہ بتائیں کہ کتنے پرائیویٹ اسکولوں کی فیس کم کرائی گئی یا واپس دلوائی گئی؟ جب آپ کی حکومت تھی تو پرائیویٹ اسکولوں کو گھر گھر جا کر والدین کو پیسے واپس کرنے پڑے تھے۔ اگر آشیِش سود کی ملی بھگت نہیں ہے تو وہ ایک اسکول کا نام بتائیں جس کی فیس انہوں نے واپس کرائی ہو۔کچھ نہیں کیا گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ وزیرِ تعلیم والدین یا بچوں کے ساتھ نہیں بلکہ تعلیمی مافیا کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سنجیو جھا نے کہا کہ آف دی ریکارڈ یہ بات چل رہی ہے اور پرائیویٹ اسکول والے بھی کہہ رہے ہیں کہ آج اسکول کی منظوری لینے کے لیے نرخ طے ہو گئے ہیں۔ پانچویں تک کے اسکول کا ریٹ 15 لاکھ روپے اور بارہویں تک کے لیے 25 لاکھ روپے مقرر ہو گئے ہیں۔حکومت کو یہاں کارروائی کرنی چاہیے، آواز دبانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ عام آدمی پارٹی ڈرنے والی نہیں ہے۔ آپ کے قومی کنوینر اروند کجریوال سمیت دیگر بڑے لیڈر جیل جا کر آ چکے ہیں، اس لیے ایف آئی آر سے ہمیں کیا ڈراؤ گے؟ حکومت کو بتانا ہوگا کہ دکھایا گیا سرکلر واپس لیا گیا ہے یا نہیں۔اس دوران کونڈلی سے آپ کے رکنِ اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ ہو سکتا ہے وزیرِ تعلیم کو ان سرکلرز کے بارے میں جانکاری نہ ہو، کیونکہ ان کی توجہ محکمہ تعلیم پر نہیں ہے، اسی لیے ان کی معلومات کے بغیر ہی سرکلر نکل رہے ہیں۔ لیکن بی جے پی کے زیرِ اقتدار ایم سی ڈی نے بھی ایک سرکلر جاری کیا ہے، جس میں 97 اساتذہ کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ لگتا ہے وزیرِ تعلیم بہت گھبرائے ہوئے ہیں۔ انہیں لگا تھا کہ کچھ بھی سرکلر نکال دیں گے اور لوگوں کو پتہ نہیں چلے گا، لیکن دہلی میں عام آدمی پارٹی مضبوط اپوزیشن ہے اور ہم عوام سے جڑے ہر سوال کا جواب بی جے پی حکومت سے مانگیں گے۔ بی جے پی کی آمریت دہلی میں نہیں چلنے دی جائے گی، اسے بے نقاب کیا جائے گا۔ وزیرِ تعلیم ایف آئی آر کی دھمکی دے کر ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ کس کس پر ایف آئی آر کرائیں گے؟ کتوں کی نگرانی کی خبر تو میڈیا کے ہر پلیٹ فارم پر چلی ہے۔ دراصل بی جے پی حکومت ایف آئی آر کے کھیل سے لوگوں کی توجہ ہٹا کر اپنی دس مہینے کی ناکامیوں کو چھپانا چاہتی ہے۔کلدیپ کمار نے کہا کہ وزیرِ تعلیم جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں، جو زیب نہیں دیتا۔ حالانکہ بی جے پی کی پوری حکومت ہی جھوٹ پر قائم ہے۔

Related posts

سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو دستاویزات تیار کرنے کے لیئے آخری موقع دیا، حتمی سماعت 24/ جولائی کو کیئے جانے کا حکم جاری کیا

Paigam Madre Watan

راگھو چڈھا پارلیمنٹ میں واپس آئے، "ریاستی اسپانسرڈ اسپائی ویئر” کا مسئلہ اٹھایا

Paigam Madre Watan

دہلی کے لوگ عام آدمی پارٹی کا بٹن دبائیں ، "اے اے پی” کی نئی حکومت میں 35 ہزار بچت حاصل کریں: کیجریوال

Paigam Madre Watan

Leave a Comment