نئی دہلی، عام آدمی پارٹی نے پارٹی کی جدوجہد کرنے والی رہنما رچنا یادو کے قاتلوں کی تاحال گرفتاری نہ ہونے پر دہلی پولیس کے طرزِ عمل اور سنجیدگی پر سوال اٹھائے ہیں۔ اس معاملے میں جلد از جلد قاتلوں کی گرفتاری کے مطالبے کو لے کر آپ کے دہلی پردیش کنوینر سوربھ بھاردواج نے دہلی پولیس کمشنر سے ملاقات کے لیے وقت مانگا ہے، تاہم اب تک انہیں وقت نہیں دیا گیا۔ جمعرات کو سوربھ بھاردواج نے رچنا یادو کی دونوں بیٹیوں کی ایک ویڈیو دہلی پولیس کمشنر کو ایکس ( ٹوئٹر) پر ٹیگ کی ہے۔ اس ویڈیو میں دونوں بیٹیاں ہاتھ جوڑ کر انصاف کی فریاد کرتی نظر آ رہی ہیں۔ سوربھ بھاردواج نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دہلی پولیس کمشنر سے کہا کہ ہم محترمہ رچنا یادو کے دن دہاڑے ہوئے بے رحمانہ قتل کے سلسلے میں آپ سے ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے شوہر کا قتل دو سال پہلے ہوا تھا۔ وہ اپنے شوہر کے قتل کے مقدمے میں اہم گواہ تھیں۔ ان پر پہلے بھی جان لیوا حملے ہو چکے تھے، لیکن اس کے باوجود پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ یہ دونوں بچیاں انصاف کی فریاد کر رہی ہیں۔ پہلے ان کے والد کا قتل ہوا اور اب ان کی والدہ کو بھی قتل کر دیا گیا ہے۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ رچنا یادو کا قتل شالی مار باغ میں ان کے گھر کے باہر دن دہاڑے کیا گیا۔ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کے گھر سے جائے وقوعہ کی دوری محض 400 میٹر ہے۔ رچنا یادو بی سی بلاک کی آر ڈبلیو اے کی صدر بھی تھیں۔ ان کی دونوں بیٹیوں کا رو رو کر برا حال ہے۔ بیٹیوں کا کہنا ہے کہ دو سال پہلے ان کے والد کو قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کی ماں، ان کے والد کے قتل کی گواہ تھیں اور عدالت میں ان کی گواہی ہونے والی تھی۔ گواہی دینے سے روکنے کے لیے رچنا یادو پر پہلے بھی دو مرتبہ حملہ ہو چکا تھا۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ منگل کو رچنا یادو کی تعزیتی نشست تھی۔ پڑوسیوں میں اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا پڑوس ہی میں رہتی ہیں، لیکن متاثرہ خاندان کو تسلی دینے نہیں آئیں۔ کیا اب وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کے پاس اتنا بھی وقت نہیں ہے؟انہوں نے کہا کہ دن دہاڑے رچنا یادو کا قتل دہلی کی قانون و امن کی صورتحال پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ اس قتل کے بعد سے دہلی کے لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے، کیونکہ یہ واقعہ دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کی اسمبلی حلقہ شالی مار باغ میں پیش آیا ہے اور وہ بھی وزیراعلیٰ کے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر ہے ۔ اس کے باوجود قاتل تاحال فرار ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پولیس کس حد تک سنجیدگی سے کام کر رہی ہے اور بی جے پی حکومت قانون و امن کو مضبوط بنانے کے معاملے میں کتنی سنجیدہ ہے۔

