Articles مضامین

#اہلِ_مجلس_ہوشیار ! کہیں آپکی جیت بھاجپا کے حق میں استعمال نہ ہو جائے، مجلس کارپوریٹروں کے پاس ٹاپ انڈین میڈیا کا پہنچنا اور مودی کا ٹارگٹ 2029 ، کیا کرنا چاہیے ؟

سمیع اللہ خان 

نئے نویلے جیتے ہوئے مجلس کارپوریٹروں میں سے بعض کے پاس ملک کے سب سے ٹاپ میڈیا ہاؤز مائک اور کیمرہ لے لے کر پہنچ رہے ہیں اور ان سے بیان لے لے کر پورے ملک کے ہندوؤں میں پھیلا رہے ہیں خاص طور پر یہ بیانات ہندو عوام اور نوجوانوں میں خاص میڈیائی تکنیک کے ذریعے پھیلائے جارہے ہیں ۔ کارپوریٹر جیسا معمولی الیکشن جیتنے والوں کو اس درجہ ملکی سطح کا کوریج وہ بھی ایسے میڈیا ہاؤز کی طرف سے جو زیادہ تر مودی۔ امیت شاہ اور سَنگھ کی منشا پر چلتے ہیں اور انہی کو ہائی لائٹ والی کوریج دیتے ہیں، کہاں تو پارلیمنٹ اور مودی۔امیت شاہ کی سطح اور کہاں تو کسی وارڈ کا کارپوریٹر دونوں ایک ہی طرح کی ” ہائی لائٹ کوریج ” پر آجائیں تو سمجھداروں کے لیے اشارے خوب کافی ہیں ۔
یہ نئے نویلے گلی وارڈوں کے کارپوریٹر ایسے اوٹ پٹانگ بیانات دے رہے ہیں جس سے یا تو صرف ہندوؤں کو چڑایا جائے یا تو اپوزیشن جماعتوں کے خلاف ماحول بھڑکایا جائے، بعض جیتے ہوئے کارپوریٹروں کا حال تو اتنا بدترین اور شرمناک ہے کہ وہ اپنے مخالف دیگر مسلم سیاستدانوں پر ایسے ایسے دھمکی آمیز بیانات دے رہے ہیں کہ الامان ! اور ان دھمکیوں بھرے بیانات کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہےکہ ہر دھمکی کے بعد اللہ کا نام بھی لیتے ہیں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ختم کرنے اور ذلیل کرنے کے لیے اللہ کے نام کا سہارا لے یہ کتنی خطرناک بات اور کیسا سنگین گناہ ہے ؟ اگر اس پر خدانخواستہ الٰہی پکڑ آگئی تو کیا ہوگا ؟ اور اللہ کی پناہ ایسا لگتا ہے گویا وہ کارپوریشن کی معمولی سی سیٹ کو خدائی تخت سمجھ بیٹھے ہیں ایسا متکبرانہ انداز اور ایسا رعونت آمیز لہجہ اللہ رحم فرمائے، یہ لہجہ یہ انداز یہ تکبر یہ رعونت اور دھمکیاں جب مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے خلاف اختیار کرتے ہیں تو پھر اللہ کی سخت گرفت آتی ہے جو لوگ کارپوریشن کی جیت سے نشے میں آگئے ہیں میں انہیں انہی کی خیرخواہی میں جھنجھوڑتا ہوں کہ ہوش میں آؤ ورنہ اگر اللہ نے ہوش میں لانے کا ارادہ بھی کرلیا تو یہ سارے نشے بھول جاؤگے اور یاد بھی نہیں رہےگا کہ کبھی کوئی الیکشن لڑے تھے، آپس میں مسلمانوں کا لڑنا سب سے غلیظ اور گندا کام ہے اور آج آپ جوانی اور جیت کے معمولی جوش میں جو کچھ کررہے ہو دیکھو اور ڈرو کہ کہیں کل کو وہ سب ایک غیر شریفانہ حرکت لگے جوکروں والی حرکت نہ لگے اور یہ سب پبلک ریکارڈ سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ڈیلیٹ نہ کرنا پڑجائے ۔
یہ بات صرف مجلس والوں کے لیے نہیں ہر سیاسی پارٹی کے مسلم نیتاؤں کے لیے کہہ رہا ہوں یہ صحیح ہے کہ مجلس والے تو جیتنے کے بعد اچانک مدہوش ہوگئے ہیں لیکن یہ نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے مسلم نیتا بھی کچھ کم نہیں ہیں انہوں نے بھی تہذیب و شرافت کی حدود کو پامال کیا ہوا ہے ۔ اب مجلس کے اگر چند کارپوریٹروں کو موقع ملا ہے تو انہیں دو باتوں کا بنیادی خیال رکھنا چاہیے کہ نمبر 1- وہ خدمتِ خلق پر توجہ دیں : کارپوریٹر کی سیٹ کا ہدف زیادہ تر یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ وارڈ میں صفائی ستھرائی، کچروں، نالوں اور سڑکوں کی صفائی کا خیال رکھے، وارڈ میں ہریالی اور سرسبزی پر محنت کرے منشیات پر روک تھام کر ہسپتالوں اور اسکولوں پر توجہ دے، یقیناً یہ خدمت خلق والی سیاست کا ایک زمینی گراؤنڈ ہے جو اس گراؤنڈ پر دلجمعی سے کام کرتا ہے وہ بہت کامیاب ہوتا ہے اللہ اس کی مدد کرتے ہیں اور عام انسان اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس معاملے میں تو ہم صرف مجلس کی بات نہیں کرتے یہ مطلق بھارت کے انسانوں کی بدنصیبی ہےکہ انہیں وارڈ لیول پر مخلص و ہمدرد سیاستدان میسر نہیں آتے جس کی وجہ سے یہاں ہندوستان میں اصل زمینی آبادیاں زیادہ تر گندگی، جرائم، آوارہ گردی، برہنہ گفتاری اور غنڈہ گردی کی مار جھیلتی ہے اور ان آبادیوں کی اکثریت زیادہ تر بڑی عذاب جیسی زندگی گزارتی ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس زمینی سطح پر اصلاح و انقلاب کی خدمات انجام دینے کے لیے مطلوبہ صفات و وسائل عطا فرما کر قبول فرمالے، میں جب بھی ہندوستان کا زمینی جائزہ لیتا ہوں اور اصل ہندوستان کی آبادی کا مشاہدہ کرتا ہوں تو میرا دل درد سے بھر آتا ہےکہ گندے پانی، گندی سڑکوں، متعفن گلیوں، درختوں پودوں اور ہریالی سے بالکل محروم، معیاری طبی سہولیات اور اسکولوں سے بالکل محروم، مسلسل غربت، آپسی غنڈہ گردی، 50 اور 15 روپیوں کے لیے ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتار دینے والے، اور اب تو ویڈیو ریلز، گیمز اور سوشل میڈیائی سرگرمیوں کی وجہ سے ایک دوسرے کو مارنے میں زندگی بسر کرنے والے، مختلف سیاسی بازیگران کے استحصال میں زندگیوں کو سود پر اٹھانے والے، زندگی بھر منشیات اور مذکورہ تمام طرزِ حیات کی وجہ سے کئی کئی بیماریوں کو جھیلتے ہوئے جینے والے یہ انسان کیا سب سے زیادہ اصلاح احوال کی تحریکات کے محتاج نہیں ؟ کیا ان کے حالات کبھی تبدیل نہیں ہوں گے؟ سب سے زیادہ قابلِ رحم تو مجھے یہی لگتے ہیں اور بھارت میں اصل کام کا میدان بھی یہی لگتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے لیے قبول فرمالے اور جو بھی صفات و استعداد اور وسائل اس میدان میں کام کے لیے مطلوب ہیں وہ عطا فرمائے ۔
خیر بات تھوڑی سی یہاں وہاں ہوگئی : جن باتوں کا خیال رکھنا ہے اس میں نمبر 2 یہ ہےکہ انجانے میں بھاجپا کے لیے استعمال مت ہو جائیں ان میڈیا والوں سے بچیں یہ سنگھی ہندوتوادی میڈیا ہاؤز تمہارے دین اور تمہاری ملت کے کتنے مخلص ہیں کیا تم نہیں جانتے ؟
نریندر مودی اور بھاجپا 2029 کی تیاری میں جٹ چکی ہے، اور اس ملک کے مسلمانوں کے لیے 2029 اللہ نہ کرے آخری موقع بھی ثابت ہوسکتا ہے، میرے سے زیادہ جذبات مسلم قیادت کے لیے کس کے ہوں گے اور الحمدللہ مسلم قیادت کے لیے ہم نے بہت کچھ کیا ہے وہ اللہ جانتا ہے لیکن بسااوقات کچھ دیر کے لیے ہمیں اپنی پلاننگ کو ذہانت کی بہادری کے حوالے کرنا ہوتا ہے ورنہ یہ جذبات و احساسات یہ تجربات و مطالعات بالکل بیکار ہیں اور ایسے ہی ہیں جیسے گدھے کی پیٹھ پر علم و ہنر کا بوجھ لاد دیا جائے، 2029 کی لڑائی ہر ہر حال میں ہندو بنام ہندوتوا ہونی چاہیے، 2029 کی لڑائی ہر حال میں راہل گاندھی بنام نریندر مودی ہونا چاہیے اس کے بیچ میں جو بھی آئےگا وہ ” کردار ” ادا کرےگا گا خواہ شعوری یا غیر شعوری جان بوجھ کر یا انجانے میں ۔ اس سلسلے میں مجلس اور مجلس کی قیادت کو سوجھ بوجھ اور فہم و فراست کا مظاہرہ کرنا چاہیے ورنہ وہ بہادری اور بے باکی کو کے کام کی جو دشمنوں کو انجانے میں فائدہ پہنچا دے ؟*
مودی کو اس وقت کرداروں کی سب سے زیادہ اور شدید ضرورت ہے یہ بات بالکل صاف اور واضح ہے کیونکہ اس کے بہت زیادہ خدشات ہیں کہ 2029 میں بھی اگر مودی کو واپس اقتدار مل گیا تو ہندوراشٹر دور نہیں اور بچی کھچی آزادیاں بھی محدود ہو جائیں گی پھر اس کے بعد اندازہ ہے کہ کم از کم 2 سے 3 دہائیوں تک مسلمانوں کو سخت حالات اور مشکل سانسوں کے درمیان مزاحمت کرنا پڑےگی تب جاکر انہیں حقوق و وقار اور شہریت و شناخت کے معاملے میں جیت حاصل ہوگی ۔ جو لوگ بالکل آنکھیں بند کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہیں وہ سب کچھ ہاتھ سے نکل جانے کے بعد یقیناً اپنے آپ پر غصہ کریں گے، پچھتائیں گے، کیونکہ بہرحال وہ بھی تو مسلمان ہیں وہ مسلمانوں کا برا نہیں چاہتے بھلا ہی چاہتے ہیں لیکن انجانے میں دشمن کی پِچ پر جا کر کھیل رہےہیں جس کا انجام بہت بھیانک ہوگا، ان کو اللہ تعالیٰ سمجھ دے اور ان کے بند دماغوں کی کھڑکیاں قلوب کی بصارت سے کھول دے۔ یقیناً میں آپ سب کا مخلص و خیرخواہ ہوں آپ کارپوریٹر سے آگے بڑھ کر ایم پی اور ایم ایل اے بنیں اور مجلس کے ٹکٹ پر ہی بنیں لیکن ایمانی فراست اور اسلامی تعلیمات پر چل کر ہی آپ یہ ترقی کر سکتے ہیں اگر امت محمدیہ کا حصہ ہیں تو محمدی وقار کو برتنا ہی پڑےگا ورنہ تو یہ کارپوریٹر کی سیٹ بھی کب پیروں تلے کھسک جائے گی پتا بھی نہیں چلےگا میری دلی خواہش ہے کہ مسلمان ایک دن اس ملک میں عدل و انصاف اور اخوت و محبت کی خوشگوار فضا قائم کریں ۔

Related posts

विपक्ष बनाम सत्तारूढ़ घटक की रैली

Paigam Madre Watan

آتی ہے دھڑکنوں سے مسلسل یہ صدا: لبیک یا فلسطین

Paigam Madre Watan

جی ہاں، میں فلسطین ہوں

Paigam Madre Watan

Leave a Comment