Articles مضامین

ممبرا میں یونس شیخ کا انتخابی جشن یا سیاسی خودکشی؟

: سمیع اللہ خان

ممبرا میں مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے یونس شیخ کی جیت کے بعد جیتندر اوہاڈ کے خلاف جو طوفانِ بدتمیزی مچایا گیا ہے، بظاہر وہ ایک "جشن” لگتا ہے لیکن درحقیقت یہ ایک سیاسی المیہ اور اخلاقی دیوالیہ پن ہے جس کا اصل فائدہ براہِ راست ہندوتوا طاقتوں کو ہو رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اسکرین شاٹس اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ کس طرح ہندوتوا خیمے نے یونس شیخ اور ان کی صاحبزادی سحر شیخ کی ویڈیوز کو پورے ملک میں ہندوؤں کو بھڑکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔
آپ ذرا مخالفین کے ردعمل پر غور کریں:
سریش چوہانکے جیسے لوگ اسے سیکولر لیڈروں کے لیے ایک "سبق” قرار دے رہے ہیں، "دیکھو! تم نے مسلمانوں کا ساتھ دیا اور بدلے میں انہوں نے تمہیں ذلیل کیا۔”
شیفالی ویدیا جیسے ہینڈلز جیتندر اوہاڈ کی تضحیک کر رہے ہیں کہ "بیلٹ سے مار کھانے کی باری کب آئے گی؟”
سمیت ٹھکر جیسے لوگ اسے "گرین بمقابلہ بھگوا” کی جنگ بنا کر پیش کر رہے ہیں اور ممبرا کی "صفائی” (بلڈوزر ایکشن) کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ایسے پچاسوں بیانات ہندوتوادیوں کی طرف سے وائرل ہیں
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جیتندر اوہاڈ مہاراشٹر کی سیاست میں ہندوتوا کے خلاف ایک توانا آواز اور سیکولر اقدار کے محافظ کے طور پر جانے جاتے ہیں مودی سرکار میں ماب لنچنگ ہو یا مسلم مخالف قانون سازیاں ان معاملات میں ہندو حلقوں کی طرف سے مسلمانوں کو جو حمایت مطلوب ہوتی ہے وہ ہم اوہاڈ جیسے سیاستدانوں سے ہی لیتے ہیں ۔ یقیناً جمہوریت میں یونس شیخ کو اوہاڈ کے خلاف الیکشن لڑنے اور جیتنے کا پورا حق حاصل ہے، بھائی جشن منانے کا بھی حق ہے لیکن جیت کے بعد کا رویہ "سیاسی پختگی” کا متقاضی تھا۔ یونس اور ان کے حامیوں نے جو کچھ کیا، وہ جشن نہیں بلکہ ایک طرح کی "انتہا پسندی” اچھل کود اور ذاتی تضحیک تھی، جس نے سیکولر ہندوؤں کے درمیان مسلمانوں کی شبیہ کو بری طرح مجروح کیا ہے، میں صاف کہتا ہوں کہ جیتندر اوہاڈ کوئی دودھ کے دھلے تو درکنار میرے نزدیک کوئی بہت بہترین سیاستدان تک نہیں ہیں لیکن آپ جو کررہے ہیں وہ کیسے درست ہوسکتا ہے آپ جشن منا رہے یا مسلمانوں کی سیاسی خودکشی کا سامان کررہے ہیں ؟۔ آپ کے بیانات پر سب سے زیادہ خوشی ہندوتوادیوں میں ہے سنگھیوں میں ہے اتنا بھی نہیں سمجھتے یا پھر ؟؟؟
اس سب میں تو مجھے اپنے ملی سیاسی تجربات کی روشنی میں ممبرا کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی محسوس ہوتی ہے
ممبرا کے عوام کو ایک تلخ حقیقت نوٹ کر لینی چاہیے، میں بطور خیر خواہ آپ کو آگاہ کر رہا ہوں یونس شیخ اور سحر شیخ کی جذباتی اور جارحانہ بیان بازیوں کے بعد، ہندوتوا لابی نے ممبرا کے خلاف "بلڈوزر مہم” اور "کاغذات کی جانچ” (ممکنہ NRC/CAA تناظر میں) کا مطالبہ زور و شور سے شروع کر دیا ہے۔ اللہ نہ کرے اگر ایسا ہوا تو ممبرا کے عوام جانتے ہیں کہ وہ قانونی اور انتظامی سطح پر کتنے کمزور ہیں۔ دشمن کو خود چیخ چیخ کر اپنی طرف متوجہ کرنا عقلمندی نہیں بلکہ خود کو مصیبت میں ڈالنا ہے۔
میں یونس شیخ کے معاملے پر اس لیے لکھا رہا ہوں کہ یہ ویڈیوز صرف ممبرا تک محدود نہیں رہیں ہندوتوادی اسے پورے مہاراشٹر اور اترپردیش میں پھیلا کر ان تمام سیکولر ہندو لیڈروں کو بلیک میل کر رہے ہیں جو بی جے پی کی نفرت انگیز سیاست کے خلاف مسلمانوں کے ساتھ آتے ہیں۔ اب ہندوتوادی گروہوں کی جانب سے یہ بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ: "دیکھو جن مسلمانوں کے لیے تم اپنی قوم (ہندوؤں) سے لڑتے ہو، وہ طاقت میں آتے ہی تمہیں ننگا کر دیتے ہیں اسی بنیاد پر دیگر ہندوؤں کو بھی بدظن کرایا جا رہا ہے اور مصیبت یہی ہے کہ اس شخص کی ویڈیوز اتنی اشتعال انگیز اتنی جارحانہ اور اچھل کود والی ہیں کہ عام ہندو کا متاثر ہونا نفسیاتی ہے اس شخص نے کتنی گندی گندی دھمکیاں دی ہیں اور وہ سب وائرل ہیں مسلمانوں کی طرف منسوب ہوکر۔ !
جبکہ دوسری طرف اسی الیکشن میں مجلس کے ایک اور ذمہ دار، سیف پٹھان بھائی بھی جیتے ہیں، لیکن ان کا رویہ سنجیدہ اور ٹھیک ٹھاک رہا انہوں نے وہ شور شرابہ نہیں کیا جو یونس شیخ نے کیا۔ یہ مسئلہ ظرف اور سیاسی تربیت کا ہے۔
آج کئی اہم سیکولر سیاسی مبصرین اور ایکٹیوسٹ جو عموماً مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں اس صورتحال پر تشویش میں مبتلا ہیں۔
ہندوستان کے ایک اہم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ جو ہمیشہ مسلمانوں کے حقوق کے لیے لڑتے ہیں غیر مسلم ہیں مجھ سے تعلق رکھتے ہیں انہیں نے مجھے ان حالات پر بات چیت کرتے ہوئے فون پر کہا کہ
” خان صاحب مانیں چاہے نہ مانیں اگر ہم ہندوتوا کی انتہا پسندی کے خلاف ہیں اور مودی کو شکست دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی صفوں میں موجود "مسلم انتہا پسندی” یا "بدتمیزی کے کلچر” کی بھی مذمت کرنی ہوگی کیونکہ ان دونوں فیکٹرز سے مودی کو سیاسی ہوا ملتی ہے”
سیاست "Give and Take” کا نام ہے۔ اگر مسلمان اپنے سیکولر اتحادیوں جو ہندو ہیں کی عزتِ نفس کا خیال نہیں رکھیں گے، تو کل مشکل وقت میں کوئی ہندو لیڈر مسلمانوں کے حق میں بولنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ 
اگر اسد الدین اویسی صاحب کی "اپنی قیادت” کا مفاد یہی ہے کہ سارے انصاف پسند ہندو بھی مسلمانوں سے متنفر ہو جائیں، تو ایسی قیادت کا انجام تنہائی کے سوا کچھ نہیں ہم خود اپنی مسلم قیادت کے داعی ہیں لیکن اس کا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ جس سے متاثر ہوکر ہندو بھی ہندوتوادیوں کو شرم دلائیں کہ دیکھو مسلمان ایسا ہوتا ہے لیکن سخت افسوس کہ آج یونس شیخ کے ویڈیو دکھا دکھا کر پورا ہندوتوادی خیمہ سیکولر ہندو جو مودی کےخلاف مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہیں انہیں شرم دلاتا ہےکہ دیکھو جن مسلمانوں کا تم ساتھ دیتے ہو وہ تمہیں ننگا کررہے ہیں کیا انہی مسلمانوں کے لیے تم ہندوتوا سے دور ہو؟ 
*افسوس کا مقام ہے کہ مسلم تنظیموں کے بڑے لیڈران اور باشعور طبقہ سوشل میڈیا کی ٹرولنگ کے ڈر سے خاموش ہے۔ وہ حق بات کہنے سے کتراتے ہیں کہ کہیں انہیں ” جمن ” نہ کہہ دیا جائے حالانکہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہم نے جب ایک طویل عرصے تک اویسی صاحب کی حمایت کی تھی تب یہی سوشل میڈیائی بھیڑ ہمیں قائد بھی کہتی تھی تو ایسی سوشل میڈیا مخالفت یا حمایت کی کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہیے ۔*
لیکن یاد رکھیں، جو ہوا جہالت کے ساتھ چلتی ہے وہ تباہی لاتی ہے۔ ہم اللہ کے فضل سے ملامت کی پرواہ نہیں کرتے۔ حق یہی ہے کہ یونس شیخ کے رویے نے ہندوتوا کے ایجنڈے کو آکسیجن فراہم کی ہے اور سیکولر سیاست کی کمر میں چھرا گھونپا ہے۔ اگر اس رویے کی اصلاح نہ کی گئی تو مستقبل میں مسلمانوں کو اس ملک میں سیاسی اچھوت بنا دیا جائے گا، اور اس وقت یہ جذباتی نعرے کام نہیں آئیں گے یہ جہالت کی ہوائیں اس لیے چل پڑتی ہیں کیونکہ حق اور سچ بتانے والے خائن اور بزدل ہوجاتے ہیں اور کم از کم ایسے مواقع پر تو یہ بزدلی چھوڑیے جب راست اسلام کی شبیہ خراب ہو اور ملت کا نقصان ہورہا ہو میں کہتا ہوں حق کو بیان کیجیے جہالت ازخود چھٹ جائےگی کیونکہ حق کےساتھ اللہ رب العزت کی طاقت ہوتی ہے ۔ 

Related posts

हीरा समूह विवाद: डॉ. नौहेरा शेख के साम्राज्य पर राजनीतिक षड्यंत्रों और कानूनी बाधाओं का प्रभाव

Paigam Madre Watan

مظہر عالم مخدومی

Paigam Madre Watan

تبصرہ بر کتاب ’ 15 منٹ پولیس ہٹا دو ‘

Paigam Madre Watan

Leave a Comment