غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار
9341137638
ماہِ رمضان المبارک کا روزہ عمومی طور پر ایک مذہبی فریضہ سمجھا جاتا ہے، لیکن جدید سائنسی تحقیق اور طبی مطالعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ روزہ انسانی صحت، ذہنی توازن اور متوازن طرزِ زندگی کے لیے ایک نہایت مؤثر اور فطری نظام ہے۔ آج سائنس جن اصولوں کو صحت مند زندگی کی بنیاد قرار دے رہی ہے، روزہ صدیوں سے انہی اصولوں پر انسان کی عملی تربیت کرتا آ رہا ہے۔
انسانی جسم ایک مربوط حیاتیاتی نظام ہے جو مسلسل سرگرمی کے ساتھ ساتھ مناسب وقفے کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ جدید طبی سائنس اس بات پر متفق ہے کہ بلا ناغہ کھانے پینے سے نظامِ ہضم پر دباؤ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف جسمانی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔ روزہ اس پورے نظام کو قدرتی آرام فراہم کرتا ہے، جس سے معدہ، جگر اور آنتیں ازسرِ نو متوازن ہونے لگتی ہیں۔
سائنسی تحقیقات کے مطابق روزے کے دوران جسم میں موجود فاسد مادّے خارج ہونے لگتے ہیں، جسے طبّی اصطلاح میں ڈی ٹاکسیفیکیشن کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں خون کی صفائی، جگر کی کارکردگی میں بہتری اور قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزہ رکھنے والے افراد عمومی طور پر جسمانی ہلکا پن اور تازگی محسوس کرتے ہیں۔
روزہ جسم کے میٹابولک نظام کو بھی بہتر بناتا ہے۔ محدود وقت تک کھانے سے جسم ذخیرہ شدہ چربی کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے، جس سے وزن میں توازن پیدا ہوتا ہے اور موٹاپے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ جدید طبی مطالعے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ روزہ انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتا ہے، جو شوگر جیسے امراض سے تحفظ میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
دل اور خون کی صحت کے حوالے سے بھی روزہ ایک مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ روزے کے دوران کولیسٹرول کی سطح میں اعتدال آتا ہے، بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے اور خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، جس سے قلبی امراض کے خطرات میں کمی واقع ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعتدال کے ساتھ رکھا گیا روزہ طبی نقطۂ نظر سے ایک حفاظتی طرزِ حیات سمجھا جاتا ہے۔
ذہنی صحت کے اعتبار سے بھی روزہ نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ سائنسی مطالعات کے مطابق روزہ ذہنی دباؤ، بے چینی اور اضطراب کو کم کرتا ہے۔ نظم و ضبط پر مبنی معمولات، عبادت اور ضبطِ نفس ذہن کو سکون فراہم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ذہنی یکسوئی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔
روزہ مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ روزے کے دوران جسم کمزور اور غیر فعال خلیوں کو ختم کر کے نئے صحت مند خلیے پیدا کرتا ہے، جس سے جسم بیماریوں کا بہتر مقابلہ کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ یہی عمل انسانی صحت کے استحکام کی بنیاد بنتا ہے۔
سماجی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو روزہ انسان میں ضبطِ نفس، صبر اور خود احتسابی کی صفات پیدا کرتا ہے۔ بھوک اور پیاس کا تجربہ انسان کو دوسروں کے حالات کا احساس دلاتا ہے، جس کے نتیجے میں ہمدردی، ایثار اور سماجی ذمہ داری کا شعور پروان چڑھتا ہے۔ یہی اقدار کسی بھی مہذب اور متوازن معاشرے کی بنیاد ہوتی ہیں۔
یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ روزہ مذہب اور سائنس کے درمیان ایک مضبوط ربط کی علامت ہے۔ جہاں دین اسے روحانی پاکیزگی کا ذریعہ قرار دیتا ہے، وہیں سائنس اسے جسمانی اور ذہنی صحت کا ضامن تسلیم کرتی ہے۔ یہ ہم آہنگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ روزہ انسانی فطرت کے عین مطابق ایک جامع طرزِ حیات ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ماہِ رمضان کا روزہ محض ایک عبادت نہیں بلکہ ایک مکمل سائنسی اور فطری نظام ہے جو انسان کو صحت مند جسم، متوازن ذہن اور ذمہ دار معاشرہ عطا کرتا ہے۔ اگر روزے کو اس کی حقیقی روح اور اعتدال کے ساتھ اختیار کیا جائے تو یہ فرد اور سماج دونوں کی اصلاح کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

