Delhi دہلی

ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا ملک کے قوانین پر پختہ عزم

غیر قانونی دستخطوں سے صریح انکار

حیدرآباد/نئی دہلی – 13 مارچ 2026 (خصوصی رپورٹ) ہیرا گروپ آف کمپنیز کی چیف ایگزیکٹو اور معروف شخصیت عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے حال ہی میں اپنے پختہ ارادے کا اظہار کیا ہے کہ وہ کبھی بھی غیر قانونی دستخط نہیں کریں گی اور ہمیشہ ملک کی آئین اور قوانین کی پابندی کریں گی۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہیرا گروپ کے خلاف دائر مقدمات اور قانونی چیلنجز کی وجہ سے سرمایہ کاروں اور متعلقہ فریقین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ صحافی اور تجزیہ کار مطیع الرحمن عزیز نے اپنے یوٹیوب چینل پر شیئر کی گئی اس ویڈیو میں ان معاملات کی تفصیلات بیان کی ہیں، جس میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی قانونی مہارت اور عدالتی عمل پر اعتماد کو اجاگر کیا گیا ہے۔ مطیع الرحمن عزیز نے ہیرا گروپ کی موجودہ حیثیت پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق، اس وقت ہیرا گروپ کے خلاف کسی بھی عدالت یا دائرہ اختیار میں کوئی فعال مقدمہ پیش نہیں آیا، جس کی وجہ سے گروپ کی جانب سے کوئی اپ ڈیٹ، ویڈیو، پریس ریلیز یا تحریری مواصلات جاری نہیں کیا جا سکا۔ وہ کہتے ہیں کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں دنیا بھر کے لوگ، بشمول وہ خود، عبادت، نیک اعمال، زکوٰة اور صدقات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے اعمال کی قبولیت کی دعا کرتے ہیں۔ اس دوران، ہیرا گروپ کے سرمایہ کاروں اور فائدہ اٹھانے والوں کی مشکلات کو حل کرنے کے لیے دعاوں کی اپیل کی گئی ہے۔ویڈیو کا مرکزی حصہ ایک حالیہ آڈیو اور ویڈیو کلپ پر مبنی ہے، جو حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک شکایت کنندہ نے شیئر کیا ہے۔ یہ شکایت کنندہ، جو خود کو ہیرا گروپ کا سرمایہ کار بتاتا ہے اور گروپ کی زمینوں کی نیلامی میں حصہ لے رہا ہے، سابقہ طور پر دارالسلام سودی بینک کا ایجنٹ رہ چکا ہے۔ کلپ میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو کسی سرکاری محکمے کے اہلکاروں سے بات چیت کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس دوران، ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے غیر قانونی کاموں پر دستخط کرنے سے صریح انکار کر دیا اور کہا کہ وہ صرف ملک کی آئین اور قوانین کے مطابق کام کریں گی۔ مطیع الرحمن عزیز نے ڈاکٹر شیخ کی اس پوزیشن کی تعریف کی اور کہا کہ ان کی قانونی ٹیم اور علم کی بدولت وہ ملک کے اعلیٰ وکلاءاور بیرسٹروں کو شکست دے چکی ہیں۔ ان کے بقول، غیر قانونی لین دین سے انکار کر کے ڈاکٹر شیخ نے سرمایہ کاروں کے ڈپازٹس کی حفاظت کو یقینی بنایا ہے، جو کسی بھی دوسرے اقدام سے بہتر ہے۔
مطیع الرحمن عزیز نے کسی ایجنسی کا نام لینے سے انکار کیا کہ وہ عدالتوں میں گھسیٹے جانے، جیل بھیجے جانے یا مقدمات میں الجھنے سے خوفزدہ ہے کیونکہ اپنی رائے کے اظہار کے عوض سپریم کورٹ میں ان کا نام غلط طریقے سے پیش کیا گیا اور ہیرا گروپ کی حمایت میں اور ایجنسیوں کی تنقید پر پابندی عائد کردی۔ شکایت کنندہ نے محکموں پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ "ماسٹرز” کے احکامات پر دائر ایف آئی آرز پر کارروائی کرنے میں سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مطیع الرحمن عزیز نے شکایت کنندگان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ سے اداروں، مدرسوں اور مساجد جیسے مستحقین کو محروم ہونا پڑا ہے جس کے سبب وہ لعنتوں کے مستحق ہیں۔ ان کے مطابق، شکایت کنندگان کے مقدمات ابھی شروع بھی نہیں ہوئے اور ان کے معاملات میں تاخیر پر شور مچانا قبل از وقت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب عدالتیں دونوں فریقوں کو برابر کا موقع دیں گی تو انصاف ہو گا اور ہیرا گروپ کو ریلیف ملے گا، جس سے جائیدادیں واپس ہوں گی اور صبر کنندہ سرمایہ کاروں کو ان کی سرمایہ کاری واپس ملے گی۔ ویڈیو میں تاریخی اور مذہبی حوالوں کا استعمال کرتے ہوئے موجودہ حکومتوں اور شخصیات (جیسے بیرسٹر اسد الدین اویسی اور متعلقہ محکموں) کو فرعون، نمرود اور ابو جہل جیسے عارضی ظالموں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مطیع الرحمن عزیز کا کہنا ہے کہ یہ لوگ عارضی ہیں اور اللہ تعالیٰ انصاف پسند حکمرانوں کو لائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کروڑوں روپے کی زمینوں کی غیر قانونی نیلامی یا فروخت عدالت کی نگرانی کے بغیر تیزی سے نہیں ہو سکتی اور غیر قانونی طور پر نیلام ہونے والی جائیدادوں کو واپس لانے کے قانونی طریقے موجود ہیں۔ پیسوں کی تقسیم کا اختیار صرف عدالتوں کے پاس ہے، جو مقدمات کی مکمل سماعت کے بعد ہو گی، جس میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ اس عمل میں قانونی اور غیر قانونی اعمال، سرمایہ کاریوں اور حق داروں کا تعین کیا جائے گا۔ بطور صحافی، مطیع الرحمن عزیز نے عالمی قانونی کارروائیوں کا تجزیہ پیش کیا اور پیش گوئی کی کہ ہیرا گروپ جیت جائے گا اور سب سے پہلے جائیدادیں واپس لے کر صبر کنندہ سرمایہ کاروں کو ان کا حق دلائے گا۔ انہوں نے ہیرا گروپ کی کامیابی اور سرمایہ کاروں کی مشکلات کے خاتمے کے لیے دعاوں کی اپیل کی۔ یہ رپورٹ ہیرا گروپ کے قانونی تنازعات پر ایک اہم روشنی ڈالتی ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے امید کی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، تمام فریقین کو عدالتی عمل کا احترام کرنا چاہیے اور کسی بھی غیر قانونی اقدام سے گریز کرنا چاہیے۔

Related posts

عدالت نے ہیرا گروپ کیلئے انتظامات کے لامحدود دروازے کھولے

Paigam Madre Watan

منیش سسودیا کے چھٹے دن کا دورہ تری نگر اسمبلی میں "منیش سسودیا آ گئے، کیجریوال بھی آئیں گے” کے نعرے کے ساتھ شروع ہوا

Paigam Madre Watan

ओवैसी ने जिस मुस्लिम कम्पनी की बर्बादी की बुन्याद राखी थी उसकी हज़ारों करोड़ की संपत्ति नीलाम हो रही है

Paigam Madre Watan

Leave a Comment