Delhi دہلی

ہیرا گروپ اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا موقف ہم غلط نہیں، ممبرشپ پر مبنی اخلاقی کاروباری ادارہ ہیں

سود سے پاک مالیاتی ماڈل، نفع و نقصان میں شراکت اور شفاف نظام پر زور

نئی دہلی / حیدرآباد (خصوصی رپورٹ: مطیع الرحمن عزیز) ہیرا گروپ آف کمپنیز نے اپنے کاروباری ماڈل اور جاری قانونی تنازعات کے تناظر میں ایک جامع وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے خود کو ایک شفاف، ممبرشپ پر مبنی اور سود سے پاک کاروباری ادارہ قرار دیا ہے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اس کے خلاف عائد کیے جانے والے بہتان کے الزامات حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ اس کے کاروباری ڈھانچے کو غلط انداز میں پیش کرنے کا نتیجہ ہیں۔جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ہیرا گروپ کا نظام روایتی ڈپازٹ اسکیم یا قرض پر مبنی ماڈل نہیں، بلکہ ایک 100 فیصد ممبرشپ بیسڈ بزنس سسٹم ہے جس میں افراد رضاکارانہ طور پر شمولیت اختیار کرتے ہیں اور مختلف کاروباری سرگرمیوں میں شراکت دار بنتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ہر ممبر کی شمولیت باقاعدہ تحریری معاہدے کے تحت ہوتی ہے، جس میں کاروباری شرائط، خطرات، ذمہ داریاں اور نفع و نقصان کی نوعیت واضح طور پر درج رہتی ہے۔
ہیرا گروپ نے اپنے مالیاتی نظام کو”انٹرسٹ فری۔ نو ربا ماڈل“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کسی بھی سرمایہ کار یا ممبر کو مقررہ یا گارنٹی شدہ منافع فراہم نہیں کرتی۔ ادارے کے مطابق ممبران کو حاصل ہونے والی واپسی مکمل طور پر کاروباری کارکردگی پر منحصر ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس ماڈل کی بنیاد نفع و نقصان میں شراکت پر ہے، نہ کہ مقررہ منافع پر۔کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ تمام مالیاتی لین دین بینکنگ چینلز کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں اور اس کا ممبرشپ سسٹم ”کے وائی سی۔ کمپلینٹ“ ہے، جس کے تحت ہر ممبر کی مکمل شناختی جانچ کی جاتی ہے۔ ادارے کا دعویٰ ہے کہ شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ہر ٹرانزیکشن دستاویزی ریکارڈ کے ساتھ مکمل بینکاری نظام کے تحت انجام دی جاتی ہے۔ہیرا گروپ نے اپنے خلاف جاری قانونی کارروائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی تنازع موجود ہے تو اس کی نوعیت مجرمانہ نہیں بلکہ دیوانی (سِول) ہے، کیونکہ تمام معاملات فریقین کے مابین تحریری معاہدوں اور کاروباری مفاہمتوں پر مبنی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ بیرونی قانونی و انتظامی حالات کے سبب پیدا ہوئی، جس کے باعث عارضی مالیاتی مشکلات سامنے آئیں۔
ادارے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس کے قیام کے وقت سے ہی کوئی مجرمانہ نیت یا دھوکہ دہی کا ارادہ شامل نہیں تھا، بلکہ مقصد ایک ایسا اخلاقی اور سود سے پاک معاشی ماڈل پیش کرنا تھا جو مشترکہ ذمہ داری اور شفاف کاروباری اصولوں پر مبنی ہو۔ہیرا گروپ نے آخر میں عوام، اراکین اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ اس کے کاروباری ڈھانچے کو محض روایتی سرمایہ کاری اسکیم سمجھنے کے بجائے ایک پارٹنرشپ اور رسک شیئرنگ ماڈل کے طور پر دیکھا جائے، جہاں ہر شریک نفع و نقصان دونوں میں حصہ دار ہوتا ہے۔

Related posts

 ملک دشمن سیاست اور اسدالدین اویسی کی تقسیم حکمتِ عملی

Paigam Madre Watan

وزیر ٹرانسپورٹ کیلاش گہلوت نے نئے بس روٹ 711A کا افتتاح کیا

Paigam Madre Watan

وزیر اعلی آتشی نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر بی جے پی امیدوار رمیش بدھوڑی، ان کے بھتیجوں اور کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے

Paigam Madre Watan