Delhi دہلی

بدنام زمانہ ایم آئی ایم شہباز احمد خان مرض الموت کی چپیٹ میں

ہزاروں معصوموں کے ایف آئی آر کا کیا جو جھوٹے وعدے پر کرایا تھا؟

نئی دہلی / حیدر آباد (رپورٹ : مطیع الرحمن عزیز) بدنام زمانہ، ریپسٹ، بلیک میلر اور اپنے آقاﺅں کی طاقتوں پر اتراتے پھرنے والا، بات بات پر لوگوں کو مقدمات میں الجھا کر جیل بھیجنے کی دھمکیاں دینے والا، ٹریول پوائنٹ کے مالک قاضی نجم الدین کے قتل میں ملزم، ایم آئی ایم کارکن شہباز احمد خان اب اپنی زندگی کے آخری لمحے گزار رہا ہے، اس بات کی تصدیق ویڈیو کال ریکارڈنگ سے ہو چکی ہے، جس میں ایم آئی ایم شہباز احمد خان اپنے ایک حواری سے بات چیت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ”میں مکمل طریقے سے سوکھ چکا ہوں، اور میں ایسے مرض میں مبتلا ہوں جس کا کوئی علاج ابھی تک وجود میں نہیں آیا ہے، ڈاکٹروں نے تناﺅ اور ٹینشن سے دور رہنے کو کہا ہے جس کی وجہ سے میں فی الوقت کسی سے رابطے میں نہیں ہوں“۔ ویڈیو کال ریکارڈنگ میں الیکٹرانک سگریٹ کش لیتے ہوئے ایم آئی ایم شہباز احمد خان کہتا ہے کہ جو زندگی کے دن باقی ہیں اس کو پرلطف طریقے سے جی لوں، بہت جلد وہ وقت آئے گا جب اجل مجھ کو اپنی چپیت میں لے لے گی“۔ واضح رہے کہ ایم آئی ایم شہباز احمد خان حیدر آباد کی سرزمین کا بدنام زمانہ، فتنہ پرور جرائم پیشہ شخص ہے، جو اب مرض الموت کے چپیٹ میں ہے، یہ شخص دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کرتا، بلیک میل کرکے پیسے وصول کرتا اور اس کی شرائط پر عمل نا کرنے والوں کو مقدمات میں الجھا کر جیل بھیجنے کی دھمکیاں دینا جیسے جرائم شامل تھیں، ایم آئی ایم شہباز احمد خان پر کئی ریپ، ہفتہ وصولی، قتل، زمینوں کے ناجائز قبضے، اور ہتک عزت کے دس کروڑ روپئے کے مقدمات ابھی بھی عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔
ایم آئی شہباز احمد خان مرض الموت میں مبتلا ہو کر کنارہ کشی اختیار کرکے بیرون ممالک اسپتالوں میں اپنے علاج میں ملوث ہے، مگر چند سوالات ہیں جن کا خود ایم آئی شہباز احمد خان اور اس کے آقاﺅں و حواریوں پر دینا لازم آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایم آئی ایم شہباز احمد خان کو بہت جلد موت اپنی چھپیٹ میں لے لے گی، مگر اس مقدمے کا کیا کیا جو اس پر دس کروڑ روپئے کے ہتک عزت کا عائد ہے، کیا عدالت اس کی گناہگاری کی سزا اس کی نسلوں کو دے گی اور لوگوں کو ہوئے نقصانات کا ازالہ اس کے بچوں کے نوالے کو چھین کر دلائے گی؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ جو مقدمات معصوم لوگوں سے وعدے کرکے ایم آئی ایم شہباز احمد خان نے کرائے تھے اور کہا تھا کہ ایف آئی آر کرو اور تین دن میں پیسے لو، آج دسیوں سال گزر گئے مگر جن لوگوں سے ایف آئی آر کرایا تھا ان کو ایک روپئے میسر نہیں ہوا، ظاہر سی بات ہے ایم آئی ایم شہباز احمد خان نے اپنے آقاﺅں کے سودی کاروبار کو بچانے کیلئے عوام سے یہ مقدمات فرضی اور جھوٹ بول کر کرایا تھا، کل جب کمپنی اپنا حق ثابت کر کے سرخرو ہوگی تو عدالت تیرے بچوں کے نوالے چھین کر مستحقین کے نقصانات کی بھرپائے کریگی۔ اور سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اپنی ذاتی دشمنی میں جن معصوموں کو فرضی مقدمات میں الجھایا ہے کل جب کمپنی کے نقصانات کی تلافی ان کی جائیدادوں کو فروخت کر کریگی تو تو اپنے انجام کو پہنچ چکا ہو گا، تجھ سے تیری قبر پر لوگ لعنت بھیجنے ضرور پہنچیں گے۔
ایم آئی ایم شہباز احمد خان تیرا عبرتناک انجام مقدر تھا، ہفتہ وصولی، غنڈہ وصولی کی ناجائز رقم تیرے جسم کو ایک دن موذی مرض میں مبتلا کریگی یہ طے تھا، تیرا عبرتناک انجام طے تھا کیونکہ فرعون کو آنے والی نسلوں کی عبرت کیلئے ان بددعاﺅں کا قبول ہونا لازم تھا جو حفاظ نے، طلبا نے، اماموں نے موذنوں نے پہلے تیرے حق میں ہدایت کی دعا کی اور اگر تیرے حق میں ہدایت نہیں تو معصوم و مظلوموں نے رب کائنات سے تیرے لئے موت مانگی تھی، ایم آئی ایم شہباز احمد خان نے گناہوں میں ملوث، اپنے آقاﺅں کے سودی، ناجائزقبضہ جات، غنڈہ وصولی کیلئے زندگی گزار دی، مگر آج جب عبرتناک انجام ایم آئی ایم شہباز احمد خان کیلئے مقدر ہوا تو تیرے آقا تجھ سے دور اور تو غیر ملک میں تنہا اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ” بے شک تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے“ ” تیرے لئے علامہ اقبال کا یہ شعر بہت مناسب لگتا ہے۔

عشق قاتل سے بھی، مقتول سے ہمدردی بھی
یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟

Related posts

संघर्ष विराम का फैसला भारत सरकार का सराहनीय कदम है: डॉ. नौहेरा शेख

Paigam Madre Watan

گجرات میں تبدیلی کی ہوا، 2027 میں "آپ” کی حکومت بنے گی: کیجریوال

Paigam Madre Watan

हैदराबाद में असद ओवेसी, सैयद अख्तर और अब्दुल रहीम के साझेदारी सेहैदराबाद में असद ओवेसी, सैयद अख्तर और अब्दुल रहीम के साझेदारी से

Paigam Madre Watan