Delhi دہلی

غالب کی طرح یگانہ کی شاعری بھی حیرت کی تماشہ گاہ: پروفیسر انیس اشفاق

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سمینار ’یگانہ: شخصیت، شاعری اور تنقید‘ کا افتتاح

غالب کی عظمت کے منکر ہونے کے باوجود یگانہ نے اپنی کائنات شعر میں ہر قدم پر غالب سے استفادہ کیا ہے۔ ان کی شاعری کا بغور مطالعہ بتاتا ہے کہ نہ صرف غالب کی پیچیدہ بیانی سے متاثر تھے بلکہ انھوں نے غالب کی شاعری کی مابعدالطبیعیات جہت کو بھی اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ غالب کے معاملے میں ان کے یہاں رد و قبول کی ایک ناقابل فہم کشمکش نظر آتی ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں جتنا غالب کو مسترد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اتنا ہی ان کے یہاں غالب کو قدم قدم پر قبول کرنے کا رویہ موجود ہے۔ ان کے یہاں اگرچہ غالب کی سی ذکاوت، ان کی درّاکی اور غالب کے سے استعمال الفاظ کا شعور موجود نہیں تھا تاہم ان کے یہاں غالب کا سا بہت کچھ موجود ہے۔ ان خیالات کا اظہار8/مئی کو پروفیسر انیس اشفاق نے غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سمینار ’یگانہ: شخصیت، شاعری اور تنقید‘ کا کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔سمینار کا افتتاح فارسی کے نامور محقق پروفیسر شریف حسین قاسمی نے کیا۔ افتتاحی تقریر میں انھوں نے کہا یگانہ کی شاعری اردو میں ایک مختلف اسلوب کو پیش کرتی ہے۔ ان کا فردیت پر اعتماد اور ذاتی تجربے پر بھروسا ایک مثبت رویہ ہے۔ انھیں نئی حسیت، نئے انداز بیان اور نئے اسالیب بیان کی ہمیشہ تلاش رہتی ہے۔ یگانہ کو جن تلخ تجربات کا تجربہ ہوا ان میں محصور رہنے کے بجائے نئے مباحث کی روشنی میں ان کی شاعری کے مطالعے کی ضرورت ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ غالب انسٹی ٹیوٹ نے اس سمت پہل کی ہے۔ اس اجلاس کی صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے کی۔ صدارتی تقریر میں انھوں نے کہایگانہ کی شاعری میں فرد کی آزادی اور خودداری کا ایسا لہجہ ملتا ہے جو اردو غزل کو نئی فکر عطا کرتا ہے۔ وہ روایتی شاعری کو بعض اوقات چیلنج کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری تکلفات کم اور راست خطاب سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ آج کے کلیدی خطبے سے مجھے یقین ہوگیا ہے کہ کل جو مقالات پیش کیے جائیں گے ان میں بھی یگانہ کی شاعری کے نامانوس پہلووں کو تلاش کرنے کی کوشش ہوگی۔ تعارفی کلمات پروفیسر سرورالہدیٰ نے پیش کیے انھوں نے کہا یگانہ اردو کا اہم ترین شاعر ہے اور تمام لوگوں کو ان کی اہمیت کا اندازہ بھی ہے لیکن ان کے تعلق سے کوئی قابل ذکر سمینار اب تک منعقد نہیں ہوا۔ مجھے خوشی ہے کہ غالب انسٹی ٹیوٹ نے اس طرف توجہ دی اور اہم لوگوں کو مقالہ خوانی کی دعوت دی۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا یگانہ جیسی فعال اور پہلو دار شخصیتیں تاریخ کا اہم واقعہ ہیں۔ شاعری، نقادی، صحافت ہر میدان میں انھوں نے اپنی انفرادیت کے نقوش چھوڑے ہیں۔ یگانہ کو خود پرست، خود بیں اور خودسر کہنا ایک معمول بن گیا ہے۔ لیکن وہ خود پرست نہیں روایت پسند ہیں، وہ خود سر نہیں خود آگاہی کی راہوں کے مسافر ہیں۔ 9/مئی کو صبح دس بجے سے شام پانچ بجے تک مقالات پیش کیے جائیں گے۔

Related posts

بھارتیہ جنتا پارٹی دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال سے خوفزدہ ہیں اور اسی لیے انہیں جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرنا چاہتی ہے: سوربھ بھردواج

Paigam Madre Watan

بلیماران اسمبلی حلقہ میں سڑکوں اور نکاسی آب کی حالت مسلسل بہتر ہو رہی ہیں : عمران حسین

Paigam Madre Watan

हर किसी को केस करके गड्ढे में गिरने की ज़रूरत नहीं

Paigam Madre Watan